ہوئی تاخیر تو کچھ۔۔۔۔۔۔۔ سلیم مرزا

ایسا عموما ہوتا ہے۔
ہوتا بھی تب ہے جب مجھے جلدی ہو ۔
تازہ واقعہ سنانے سے پہلے ایک سابقہ واقعے کا تڑکہ گوکہ حسب حال تو نہیں ۔ٹائم ضائع کرنے میں حرج بھی کیا ہے؟
گئے وقتوں  میں ایک نازنیں سے لنچ پہ ملاقات طے ہوئی جو سراسر اکانومی کے تقابلی جائزے پہ تھی ۔
ممکن تھا اس ملاقات میں ڈالر کے اتار چڑھاؤ، اور روپے کے استحکام کیلئے ان کیمرہ کوششیں کی جاتیں ۔
فل تیار ہونابہت ضروری تھا
بال رنگوانے پہنچے تو نائی کسی نئی کمپنی سے کمیشن کھائے بیٹھا تھا ۔
رنگا، اور خوب رنگ دیا ۔
گنج پہ اگر کوئی بال دوسرے بالوں سے ادھار کھائے بیٹھاتھا اسے بھی کھڑا کرکے رنگ دیا۔
آئینے میں خود کو دیکھا، تو لگا ہیلمٹ پہنے ہوئے ہوں ۔
“استاد یہ اسکن پہ تو نہیں لگے گا “؟
میں نے گھبرا کر پوچھا
“نہ جی، اس کی یہی تو کوالٹی ھے پاکستانی میڈیا کی طرح بال ڈھونڈ، ڈھونڈ کر ان کا منہ کالا کرتا ھے ۔مجال ھے جو آپ کے گنج کی طرح چمکتی اسٹیبلشمنت پہ داغ بھی لگنے دے ۔
اور وہی ہوا جس کا  ڈر  تھا ۔رنگ ایسا سر پہ چڑھا کہ اترنے سے انکاری ہوگیا۔
سر میں دنیا تو شروع سے سمائی تھی ۔نقشہ پہلی بار بنا ۔شیمپو، صابن، سرف، اور، نوبت ہارپیکس تک جاپہنچی۔۔۔۔کپڑے دھونے والے برش سے سر سنسانے لگا ۔۔
اس حسینہ سے ڈیٹ یوں منسوخ ہوئی جیسے ڈیٹ ہوتی ہے ۔
اب آج کی سن لیں۔۔۔۔۔
رات بھر کا جاگا دن چڑھے سویا تو بارہ بجے آنکھ کھلی ،انعام رانا کی گود بھرائی کی رسم تھی ،فورا  ً باتھ روم میں گھسا، اور نہاتے ہوئے شیو کی۔۔کچھ جلدی اور کچھ بائیں ہاتھ کا نو آموز رویہ تھوڑی پہ ٹک یوں لگا کہ خون رکنے کا نام نہ لے ۔ حالانکہ یہی بایاں ہاتھ جمعے کو طہارت کی فضیلت کو پسے ھوئے طبقے تک بیان کر آیا تھا ۔
بہت کوشش کی مگر خون تھا کہ فیاض الحسن کے بیانات کی طرح لاکھ منہ پہ ھاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔رکا نہیں ۔
ابتدائی طبی امداد ٹاکی سے شروع ھوئی ۔
پھر متاثرہ جگہ پہ پائیوڈین کو روئی سے سرفراز کرکے گھمایا پھرایا گیا
خون تھا رکنے کا نام ھی نہ لے ۔
بیگم کو اچانک یاد آیا کہ پڑوس کے گھر میں نوزائیدہ کے پچھواڑے پہ قبل از تبدیلی پیمپر ٹالکم پاؤڈر لگایا جاتا ھے ۔
عائشہ بھاگ کر مانگ لائی
افاقہ اس سے بھی نہیں ھوا،
پیمپر سے یاد آیا  کہ منہ پر اس  سے کچھ ملتا جلتا باندھا جائے تو شائد خون رک جائے ۔پھر خیال آیا کہ زنانہ ملبوسات کی مردانہ وار، تشہیر بری بات ھے ۔ دس منٹ مزید کھجل خواری کے بعد اچانک ایک دیسی نکتہ یاد  آیا ۔
پھٹکڑی۔۔۔اور قریبی نائی سے مل بھی گئی
پندرہ منٹ پھٹکڑی رگڑنے سے خون رک گیا ۔
اور محض دو گھنٹے تاخیر سے میں پہنچ گیا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *