وزیراعظم کی بے دخلی مبارک ہو۔۔۔ علی نقوی

جب سے پی ٹی آئی کی انقلابی حکومت وجود میں آئی ہے تب سے ہر روز ایک نئی تاریخ رقم ہوتی نظر آ رہی ہے ہر وہ کام ہو رہا ہے جو صرف ملکی ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی اور رہنما یہ کرنے کا سوچ سکتا ہے.
لیکن اس وقت سب سے زیادہ شور اس وعدے کی تکمیل کا ہے کہ جو الیکشن سے قبل کیا گیا تھا اور وہ ہے “اسلام آباد نیشنل یونیورسٹی” کا قیام یہ کوئی معمولی یونیورسٹی نہیں ہے بلکہ یہ معلوم انسانی تاریخ کی سب سے منفرد یونیورسٹی ہے کہ جس کا قیام اقتدار کے سب سے بڑے مرکز کے اندر کیا جا رہا ہے قائد انقلاب کے مطابق دینا میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی نے پرائم منسٹر ہاوس کو یونیورسٹی ڈکلئیر کردیا ہو، ہمارے سیاسی نظام میں الیکشن سے قبل کیے گئے وعدے اکثر بھلا دیے جاتے ہیں لیکن کپتان کو نہ صرف یہ کہ وعدے یاد ہیں بلکہ وہ انکو پورا بھی کر رہے ہیں.

جب سے یہ خبر سنی ہے تو کچھ سوال شدت سے دماغ میں گھوم رہے ہیں جنابِ وزیراعظم پہلا تو یہ کہ کیا یہ یونیورسٹی ملک میں موجود باقی جامعات کی طرح ہوگی یا ان سے مختلف ہوگی؟ اسلام آباد میں موجود ضرورت سے زیادہ یونیورسٹیوں کی موجودگی میں یہ یونیورسٹی ایسا کیا کرے گی جو وہ نہیں کر پا رہیں؟ کیا یہ ایک ماڈرن طرز کی یونیورسٹی ہوگی یا باقی پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں کی طرح یہاں پر بھی وہی حبس زدہ ماحول ہوگا جو ہمیں عام دیکھنے کو ملتا ہے؟ کیا یہاں پر تو پرویز ہود بائی کے لیول کے سائنس پڑھانے والے استاد کو اسکے مذہبی نظریات کی بنیاد نوکری سے برطرف تو نہیں کیا جائے گا جیسے انکو لمز سے فارغ کیا گیا تھا؟ اس یونیورسٹی کے طرز تعلیم پر بات کرنا ابھی شاید قبل از وقت ہوگا لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کی کیٹیگری کیا ہوگی؟ کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ پرائم منسٹر آپ خود آکسفورڈ سے پڑھے ہوئے ہیں اس لیے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ دنیا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیارات سے بخوبی واقف ہیں کیونکہ آپ خود انکا حصہ رہے ہیں..

لیکن میں جنابِ وزیراعظم آپ کی توجہ ایک اور طرف بھی مبذول کرنا چاہتا ہوں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہم سب یہ تو جانتے ہی ہیں دنیا کی پہلی پانچ سو درسگاہوں میں ایک بھی پاکستانی نہیں ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے جو یونیورسٹیاں یہاں ہیں وہ بھی شدید ابتری کا شکار ہیں وائس چانسلرز نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں چاہے وہ ہمارے استاد سابق وائس چانسلر بہا الدین زکریا یونیورسٹی خواجہ علقمہ ہوں یا سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی مجاہد کامران ہوں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اگر کوئی کرپشن کرے تو اسکو سزا نہ ملے ضرور ملنی چاہیے لیکن جب میں ستر ستر سالہ اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگے دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں سامنے ایسے ایسے منحوس چہرے ابھرتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر زندگی کانپ جاتی ہے اور ان سے منسوب جرائم کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ یہ استاد اور انکی کرپشن اسکے سامنے مکھی کا سر معلوم ہوتی ہے . جنابِ پرائم منسٹر مجھے آج بھی راشد رحمان مرحوم کا وہ فیس بک سٹیٹس یاد ہے کہ جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ آج مجھے عدالت کے اندر جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی لیکن جج نے نوٹس نہیں لیا اور اسکے بعد راشد رحمان کو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ملتان کے دفتر میں گھس کر ماتھے پر گولیاں ماری گئیں کیا وہ جج صاحب جن کو یہ بتایا گیا تھا کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اور انہوں نے نوٹس نہیں لیا کیا وہ اس قتل کے سہولت کار نہیں بنتے؟ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ قانون کے تمام تقاضے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انصاف ملنے یا نہ ملنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ مجرم کتنا طاقتور ہے.

جنابِ پرائم منسٹر ابھی کل ہی ایک پروفیسر نیب کی حراست میں ہتھکڑیاں پہنے ہوئے دنیا سے چلے گئے، یہ صحیح ہے کہ ان پر بڑی کرپشن کا الزام تھا لیکن اس سے کہیں بڑی کرپشن کا الزام میاں شہباز شریف اور سعد رفیق پر ہے اور آپ ہی کی حکومت کے دوران ہی دنیا یہ نظارہ بھی دیکھ رہی ہے کہ دونوں ہر روز تازہ دم ہو کر پینٹ کوٹ اور مفلرز میں ملبوس اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور انکو دیکھ کر لگتا یہ ہے کہ نیب انکی حراست میں ہے، جنابِ پرائم منسٹر شرجیل میمن کے ہسپتال کے کمرے سے پکڑی جانے والی شراب کو چیف جسٹس بھی شہد ماننے پر مجبور اور اسکے بعد خاموش ہوجاتے ہیں، چیف جسٹس کو دیکھ کر جتویوں کے لڑکے کے منہ پر آئی ہنسی نے ہمیں اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ ہمارے ملک میں قانون کتنا طاقتور ہے، لیکن اس سب کے باوجود میں یہ کہتا ہوں اساتذہ کی کرپشن کا حساب ضرور لیا جانا چاہیے..

میں ملتان میں بیٹھ کر یہ مضمون ایک ایسے وقت میں لکھ رہا ہوں کہ جب ملتان آپکی حکومت کی توجہ کا مرکز ہے آپکے وعدے کے مطابق ملتان عنقریب صوبہ جنوبی پنجاب کا دارالحکومت ہوگا اس شہر کی سب سے بڑی اور پاکستان کی پانچویں بڑی یونیورسٹی کی صورتحال یہ ہے کہ ابھی ایک وائس چانسلر نے اچانک استعفیٰ دے دیا، نئے وائس چانسلر کا تعین تو شاید کرلیا گیا ہے لیکن آخری اطلاعات کے آنے تک نوٹیفیکیشن نہیں ہوسکا تھا، مستعفی ہونے والے وائس چانسلر ایک اعلیٰ پائے کے استاد مانے جاتے ہیں انکا تعلق اسلام آباد کی مشہور زمانہ قائد اعظم یونیورسٹی سے رہا ہے انکے بارے میں عجیب عجیب باتیں ایک عرصے سے گردش کر رہی تھیں کبھی یہ افواہ پھیلی کہ انہوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے جس کی تردید انہیں پریس کانفرنس کر کے کرنی ہڑی، کبھی انکی اپنی ہی فکیلٹی کی ایک لیکچرار سے خفیہ شادی کی افواہیں پھیلائی گئیں، استعفیٰ بذات خود ایک معمہ ہے کہ ایک دن سنڈیکیٹ کی میٹنگ ہوتی ہے اگلے دن سلیکشن بورڈ ہوتا اور اسکے اگلے دن وائس چانسلر صاحب اسلام آباد بیٹھے بیٹھے ریزائن کر دیتے ہیں، جنابِ پرائم منسٹر آئے روز یہاں اساتذہ کی جانب سے طالبات کو جنسی طور ہراساں کیے جانے کے معاملے اٹھتے رہتے ہیں مفاد پرست عناصر کا ایک انبار ہے جو ہر روز اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے حصول کے لیے ہر لحاظ سے طلباء کا استحصال کرتا ہے اور یہ مافیاز ہر نیا دن گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں، جنابِ پرائم منسٹر ہماری پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں میں کسی قسم کی غیر نصابی سرگرمیوں کی کوئی اجازت نہیں ہے کیونکہ یہ ترجیحات میں کہیں بھی شامل نہیں ہے، میری رائے میں یہ وہ مسائل ہیں کہ جن پر آپکی توجہ ہونی چاہیے تھی کیونکہ ان حالات میں آپکی یہ نئی یونیورسٹی شاید دانش سکول ثابت ہو کیونکہ آپ کے اس فیصلے میں مجھے اسیُ قسم کی ضد اور وژن لیس نس نظر آ رہی ہے جو مجھے شہباز شریف کے فیصلوں میں نظر آیا کرتی تھی چاہے وہ لیپ ٹاپ سکیم ہو یا دانش سکول..

ایک چیز ہوتی ہے جس کو ہم symbolic value کہتے ہیں مثال کے طور پر چودہ اگست اور باقی اہم دنوں میں صبح کا آغاز اکیس یا اکتیس توپوں کی سلامی سے کیا جاتا ہے اب ظاہر ہے کہ چودہ اگست اس ایکسرسائز کے بغیر بھی منایا جا سکتا ہے لیکن اس عمل کی ایک symbolic value ہے، ابھی کل پچیس دسمبر کو یومِ قائداعظم کی چھٹی ہوگی اب اس چھٹی سے جناح صاحب کی عزت میں نہ جانے کیا اضافہ ہوتا ہو لیکن اس کی ایک symbolic value ہے اسی طرح اس پرائم منسٹر ہاوس کی بھی ایک symbolic value ہے ویسے تو آپ خود بھی وہیں رہ رہے ہیں لیکن چلیے مان لیتے ہیں کہ آپ یہاں نہیں رہنا چاہتے تو اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ آپ اس کی موجودہ حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ اکیلے لے سکیں.

ملکی اہمیت کی حامل ایک عمارت جو کہ حکومتِ پاکستان کی ملکیت ہے اسکے بارے میں ایک مستقل فیصلہ لینے والے آپ کون ہیں؟ وائٹ ہاؤس بھی پبلک کے لیے کھلا رہتا ہے لیکن، رہتا وائٹ ہاؤس ہی ہے، کیا کوئی امریکی صدر وائٹ ہاؤس کی سمبولک حثیت کو اکیلے تبدیل کر سکتا ہے؟ کیا کوئی برطانوی وزیر اعظم ٹین ڈؤننگ سٹریٹ کی موجودہ حیثیت کو بیک جنبشِ قلم تبدیل کر سکتا ہے؟ گو کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پرائم منسٹر ہاوس کے پھچلے حصے میں یہ یونیورسٹی کھولی جائے گی اور سٹوڈنٹس راستہ بھی پیچھے کا استعمال کریں گے اور باقی کارروائی جوں کی توں رہے گی، اور ساتھ ہی ساتھ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ اس ہاؤس کے اطراف میں موجود کئی ملکوں کے سفارت خانوں کو بھی خدشات و تحفظات ہیں.

اس سب کے باوجود بھی آپ اگر آپ اسی فارمولے کو بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ پرائم منسٹر ہاوس اور تمام گورنر ہاؤسز عوام کے لیے کھول دینے چاہیں کیونکہ یہ اقدامات کلاس کلچر کو ختم کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوں گے تو حضور سب سے پہلے بنی گالہ دان کیجیے کیونکہ تین سو کنال کا گھر دیکھ کر غریب احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے، (کم از کم وہی چھوڑ دیں کہ جس پر آپ نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور آپکی پوری کابینہ اسکو ریگولر آئز کرانے پر لگی ہوئی ہے) آپ ایک آدمی ہیں ایک آپکی بیگم صاحبہ ہیں آپ کے دونوں بیٹے یہاں تو آئیں گے نہیں اور ویسے بھی یہ جائیداد انکی ننھیالی جائداد کے سامنے تو ایسے ہے جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ (ویسے تو بنی گالہ بھی انکی ماں کے پیسوں کا ہے) آپ کیا کریں گے اس تین سو کنال کے گھر کا، اپنی زندگی میں ملک کو دان کر جائیے اور اپنی ہی حکومت کے دوران اس کو پبلک کے لیے کھلوا بھی دیں، جنابِ پرائم منسٹر اگر آپ کو بہت شوق ہے کلاس کلچر کو ختم کرنے کا تو آئیے میں آپ کو ملک کے کسی بھی شہر کے کنٹونمنٹ کی انٹرنس پر لیے چلتا ہوں تو شاید آپ دیکھ سکیں کہ کس ذلت آمیز طریقے سے آپ کی عظیم قوم کے شہری اپنی شناخت کراتے پھرتے ہیں، آئیں آپکو دکھاؤں کہ ملتان کی پوش ترین لوکیشن پر کس طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ ججز کالونی کا سائز اور باہر کھڑی پولیس نفری میں اضافہ ہو رہا ہے، ہر شہر میں موجود ایکڑؤں پر محیط سرکاری بنگلے بھی عوامی دسترس سے باہر ہیں، اگر پرائم منسٹر ہاوس عوام کے وسیع تر مفاد میں یونیورسٹی بن سکتا ہے تو کمشنر ہاؤس، ڈی پی او ہاؤس، کورکمانڈر ہاؤس، ججز کالونیاں کیوں نہیں کسی عوامی مفاد کے پراجیکٹ میں تبدیل کی جا سکتیں؟

اس سے آگے بڑھ کر ایک تجویز یہ بھی ہے کہ یہ اتنے بڑے پارلیمنٹ ہاؤس اور سینیٹ کی عمارت کی کیا ضرورت ہے (ایک اندازے کے مطابق اسمبلی کے ایک اجلاس پر ایک ملین سے زیادہ خرچہ آتا ہے) آپ تو ویسے ہی اسمبلی نہیں جاتے یہ جو باقی آتے ہیں اول تو اگر نہ بھی آئیں تو کیا فرق پڑے گا اور دوسرے اگر انکو بیٹھ کر اپنی صقراتی ہی جھاڑنی ہوتی ہے وہ تو کہیں بھی بیٹھا جا سکتا ہے اور اگر آپ کو کبھی اسمبلی آنا ہو تو اجلاس ڈی چوک یا فیض آباد چوک پر بھی بلایا جاسکتا ہے جس میں آخری خطاب آپ کا ہو اس کے دو فائدے ہوں گے ایک آپکا جلسے اور دھرنے کا شوق بھی پورا ہوتا رہے گا دوسرے خرچہ بھی بچے گا اور تیسرے یہ کہ اس عالی شان عمارت کا کوئی اور بہتر مصرف بھی ڈھونڈا جا سکے گا..
ایک اور ٹرینڈ بھی تو متعارف کرایا جاسکتا ہے وہ ہے عوامی عدالت کا کہ چیف جسٹس صاحب سڑک پر عدالت لگائیں ایک وہ عوام کی دسترس میں رہیں گے اور دوسرے اس سپریم کورٹ کی عمارت کو کسی بہتر کام میں لایا جا سکے گا.

پی ٹی وی کے رائٹس اے آر وائی کو بیچ کر پی ٹی وی کی پورے ملک میں موجود بلڈنگز کو مرغیوں کے کنٹرولڈ شیڈز میں تبدیل کر دیا جائے تو سوچیں کتنے پیسے اکٹھے ہو جائیں گے.
کچھ عمارتیں ایسی بھی ہیں کہ جن کا نام لینا ہم دونوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے لہذا ہم یہیں رک جاتے ہیں.
آخر میں جنابِ وزیراعظم آپ سے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ انسان چلے جاتے ہیں انکے کیے ہوئے فیصلے انکو آنے والے زمانوں کے لئے ایک علامت یا ملامت بناتے ہیں اگر آپ خود کو تبدیلی کی علامت کے طور پر منوانا چاہتے ہیں تو سنجیدہ لوگوں سے مشاورت کیجئے جو میٹیریل آپ نے اپنے اردگرد اکھٹا کیا ہوا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو کبھی نواز شریف اور پرویز مشرف کے ارد گرد ہوا کرتے تھے اور آج نواز شریف کو جب العزیزیہ کیس میں ایک بار پھر سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تو لوگ قوم کو مبارکباد دے رہے ہیں اور کل بھی یہی لوگ ہوں گے جو آپکی گرفتاری کو نیک شگون قرار دے رہے ہوں گے ایک منٹ کو ذرا تصور کیجیے کہ کل کو کسی جھوٹے یا سچے کیس میں یہی کچھ آپکے ساتھ ہو جائے جو آج نواز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے اور آپ ٹی وی پر دیکھیں کہ آپکا چیتا فیاض الحسن چوہان اور فواد چوہدری آپ کے بارے میں یہی باتیں کر رہے ہوں تو آپ پر بھی وہی بیتے گی جو آج نواز شریف پر بیتتی ہے کہ جب وہ شیخ رشید کی باتیں سنتے ہوں گے کیونکہ کسی زمانے میں شیخ رشید نواز شریف کا چیتا ہوا کرتا تھا.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *