• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہماری چھوڑیے:اب تو معافی مانگنے اور گھر جانے کا مشورہ اپنے بھی دے رہے ہیں۔۔۔غیور شاہ ترمذی

ہماری چھوڑیے:اب تو معافی مانگنے اور گھر جانے کا مشورہ اپنے بھی دے رہے ہیں۔۔۔غیور شاہ ترمذی

معروف اینکر، کالم نگار، دانشور اور مصنف حسن نثار نے بھی بالآخر تحریک انصاف کے وزیر اعظم عمران خاں، وزیر خزانہ اسدعمر سمیت ساری تحریک انصاف کو کو مشورہ دےدیا ہے کہ عمران خان کی حکومت باوقار طریقے سے عوام سے معافی مانگے اور گھر جائے۔

واضح رہے کہ حسن نثار پچھلے 26 سالوں سے عمران خاں اور تحریک انصاف کی حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حسن نثار نے سما ٹی وی کے پروگرام میں اینکر پارس خورشید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ اقتصادیات کا ارسطو آیا ہے۔ اگر ان کو معاشی حالات کی خرابی کا پتہ نہیں تھا کہ یہ کس غار میں گھس رہے ہیں تو انہیں اسی جرم میں چوکوں میں کان پکڑوا دینے چاہئیں، اور اگر پتہ تھا تو اب رو کیوں رہے ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی نے گن پوائنٹ پر حکومت دی ہے جو چھوڑ نہیں سکتے۔ یہ رونا ان کا روایتی، گھٹیا سیاستدانوں والا ہے کہ یہ سارے مسائل ہمیں پچھلے دے گئے ہیں‘‘۔ حسن ںثار نے اپنے حالیہ لکھے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’لوگ تیاری کر لیں۔ ابھی اصل مہنگائی نہیں آئی بلکہ مہنگائی کا صرف promo چلا ہے۔ اصل مہنگائی تو صرف آنی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے افسوس ہے کہ میں انہیں پہچان نہیں سکا کہ یہ اتنے بڑے نااہل ہیں۔ مجھے تو یہی تاثر دیا گیا تھا کہ ساری ٹیم پوری تیاری کر رہی ہے اور مسائل کو پوری طرح سمجھ کر ان کو فورا’’ حل کر لیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ان کی اہلیت کے علاوہ ان کی نیت پر بھی شک ہے کہ انہوں نے حکومت حاصل کرنے کے لئے جان بوجھ کو جھوٹ بولے۔ پروگرام کے دوران ہی انہوں نے کہا تھا کہ اگر عمران خاں اور اسد عمر مخلص ہیں اور یہ مسائل حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو پھر عمران خان کی حکومت باوقار طریقے سے عوام سے معافی مانگے اور گھر جائے۔

معافی مانگنے جیسی ہمت پیدا کرنا تحریک انصاف کے لئے شاید کافی مشکل ہو اور پُرتذبذب ہو کیونکہ معافی مانگنے کو ایک ایسی انسانی صفت مانا گیا ہے جسے اپنے اندر پیدا کرنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ اسی لئے یہ صفت انسانی ہونے کے باوجود ماورائی سی لگتی ہے۔ ہم پاکستانی بحیثیت قوم معافی مانگنے پر اتنا یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی ہمیں شکریہ کہنے اور راہ چلتے دوسروں سے آنکھیں چار ہونے پر انہیں مسکرا کا ہیلو کہنے کے gesture کی عادت ہے۔ البتہ شمالی علاقہ جات میں یہ ضرور دیکھنے کو ملا کہ راہ چلتے ہو شخص دوسروں کو گزرتے ہوئے اسلامُ علیکم کہہ کر گزرتا ہے۔ ہم معافی مانگنے، شکریہ کہنے اور ہیلو کرنے کو تو برا سمجھتے ہیں مگر قرض مانگنے سے ہمیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی (راقم بھی اس میں شامل ہے)۔ ہم شاید یہ سمجھتے ہیں کہ معافی کوئی قرض تو ہے نہیں کہ آدمی مانگنے پر آئے تو مانگتا ہی چلا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر بآمر مجبوری ہم نے آج تک کسی سے معافی مانگی بھی ہو تو شاید ہی کبھی صدق دل سے مانگی ہو۔ بڑے تو بڑے، ہمارے بچے بھی اسی طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سکولوں میں دیکھ لیں کہ اگر کسی بچے نے اپنے کسی ہم جماعت کے ساتھ زیادتی کی ہو اور استاد نے آنکھیں اور چھڑی دونوں دکھا کر اسے ہم جماعت سے معافی مانگنے کے لئے منت سماجت بھی کی ہو تو بچے ’سوری‘‘ کا جملہ یوں ادا کرتے ہیں جیسے ہمارے اکثر دولہا حضرات عقد کے وقت ’’قبول ہے‘‘ کا جملہ ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کو کچھ اس طرح گزارنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی غلطی پر از خود کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے۔ ایسی زندگی کو عموماً گھاٹے کا سودا کہتے ہیں جس کی سزا بھگتنی ہی پڑتی ہے۔ یہ بھی انسانی فطرت ہے کہ جب بھی کسی انسان سے کسی دوسرے کو بلا ارادہ تکلیف پہنچ جائے یا اس کا کوئی چھوٹا موٹا نقصان کر دے تو وہ یہ امید کرتا ہے کہ دوسرا اس کی غلطی کو معاف کر دے گا یا اس کا lenient view لے اور بڑا ایشو نہیں بنائے گا۔ جبکہ اس کے برعکس جس کو تکلیف پہنچتی ہے وہ یہ امید کرتا ہے تکلیف پہنچانے والا اپنی غلطی کو مان کر مناسب طریقے یا الفاظ میں افسوس کا اظہار کرے گا اور مالی نقصان کی تلافی کرے گا- اگر دونوں طرف سے یہ ہو جائے تو معاملہ امن سے رفع دفع ہو جاتا ہے۔

ﷲ تعالی اور رسول کریم (ص) کی واضح ہدایات ہیں کہ ﷲ تعالی کے معاملات میں کوئی غلطی ہو تو توبہ کرنی چاہئے- اگر انسانوں کے معاملات میں غلطی ہو تو ان سے معافی مانگنی چاہیے- اب انتخابی نعروں اور حکومت حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف والوں سے جو ہوا سو ہوا- کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف کے حکمران اپنی غلطی تسلیم کریں اور اپنے ووٹروں سمیت ساری قوم سے “سوری” کہیں- – تحریک انصاف کے راہنماؤں نے ان خراب ہوتے معاملات میں جان بوجھ کر یقینا” خراب پرفارمنس نہیں دی ہوگی اور یہ سب بلاارادہ ہی ہوا ہوگا- مگر یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ ان کی وجہ سے عام آدمی شدید متاثر ہوا ہے- اس لئے ساری قوم تحریک انصاف کے لیڈروں سے “سوری” سننے کی حق دار ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *