”مکالمہ مقابلہ سیرت نویسی” کے معزز جج

قارئین کرام، مکالمہ نے جشن عید میلاد کے موقع پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور ایک مقابلہ مضمون نویسی کا ہدیہ پیش کیا۔ اس موقع پہ سالانہ عظمت محمد ص ایوارڈ کے اجرا کا اعلان کرتے ہوے پہلا مقابلہ مضمون نویسی “سیدنا محمد ص، عہد جدید کے پیغمبر” کے عنوان سے اعلان کیا گیا۔ 

اس سلسلے میں ہماری درخواست پہ کچھ بزرگوں اور کچھ دوستوں نے انتہائی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوے جج بننے کی حامی بھری اور مقابلے کے مضامین کو نمبر دئیے۔ یاد رہے کہ یہ ججز بھی ایک دوسرے کے اس مقابلے کا جج ہونے سے آگاہ نہیں تھے۔ 

۱- محمد اظہار الحق

محترم اظہار صاحب استاد، مفکر، ماہر لسان و ادب اور معروف کالم نگار ہیں۔ آپ ایک قومی جریدے سے منسلک ہیں اور اسکے علاوہ مکالمہ پہ بھی آپ کا کالم لگتا ہے۔ 

2- سید طفیل ہاشمی

محترم ہاشمی صاحب استاذ الاساتذہ ہیں۔ آپ دینی اور عصری ماہر تعلیم ہیں اور ایک معروف یونیورسٹی سے بطور ڈین وابستہ ہیں۔ 

3- قاری محمد حنیف ڈار

محترم ڈار صاحب ماہر علوم اسلامی اور معروف بلاگر ہیں۔ آپ ابوظہبی میں مقیم اور مسجد سے بطور امام منسلک ہیں۔ 

4- منصور احمد مانی

مانی معروف صحافی اور بلاگر ہیں۔ آپ کئی قومی اور بین الاقوامی جرائد سے وابستہ اور مکالمہ کے ریگولر لکھاری ہیں۔ 

5- داؤد ظفر ندیم

داؤد صاحب ہیومن رائیٹس اور سوشل ایکٹوسٹ اور پولیٹیکل ورکر ہیں۔ آپ مکالمہ کے باقاعدہ کالم نگار ہیں۔ 

6- شہنیلا بلگام والا

شہنیلا ماہر تعلیم اور معروف بلاگر ہیں۔ آپ بطور ایڈیٹر “دانش” سائیٹ سے وابستہ ہیں۔ 

7- محمد عامر حسینی 

حسینی صاحب مسلمان کمیونسٹ ہیں اور انسانی و سماجی حقوق کی تحریک سے وابستہ ہیں۔ آپ معروف کالم نگار اور دانشور ہیں اور مکالمہ سے دیرینہ وابستگی رکھتے ہیں۔ 

8- احمد رضوان

احمد کینیڈا میں مقیم معروف بلاگر اور شاعر ہیں۔ آپ مکالمہ کے بانی ایڈیٹرز میں شامل ہیں اور مکالمہ انٹرنیشل کے انچارج ہیں۔ 

9- ڈاکٹر عرفان شہزاد

ڈاکٹر صاحب اسلامی علوم کے ماہر اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ دانشور اور کالم نگار ہیں اور دینی عصری مسائل پہ خاص نظر رکھتے ہیں۔ 

10- عظیم الرحمان عثمانی

عثمانی صاحب لندن میں مقیم معروف بلاگر و کالم نگار ہیں۔ آپ جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم میں بھی دسترس رکھتے ہیں اور دعوت کے کام سے وابستہ ہیں۔ کئی غیر مسلم آپ کے ہاتھ پہ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *