کیا حقوق صرف خواتین کے ہوتے ہیں؟۔۔۔عارف خٹک

پچھلے دنوں جہاز میں دورانِ پرواز کسی مسافر نے ایک خاتون کے سامنے خود کو کُھجانا شروع کردیا۔اس پر خاتون نے مرد کی ویڈیو بناکر وائرل کردی۔تو ساری دُنیا نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔کہ یہ غیر اخلاقی حرکت تھی۔اور پھر سوشل میڈیا کے ہر فورم پر مرد کی مذمت شروع ہوگئی۔
اس سارے معاملے میں ہماری پاکستانی لبرل خواتین کہاں پیچھے رہنے والی تھیں۔اُنھوں نے یہاں تک لکھ دیا۔کہ پتہ نہیں ہم خواتین کو دیکھ کر مردوں کو کُجھلی کیوں شروع ہوجاتی ہے۔
چونکہ ہماری اس دنیا میں سب سے آسان کام کسی کو مشورہ دینا یا کسی پر تنقید کرنا ہوتی ہے۔اس لئے اس بہتی گنگا میں ہر پارسا نےآکر ہاتھ دھونے شروع کردیئے۔خواتین ہمارے لئے محترم ہونی چاہیئے۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے،کہ خواتین نازک ہوتی ہیں۔ انھیں سب سے زیادہ خطرہ ہم مردوں سے ہوتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔کہ لبرل ازم اور فیمینزم کی آڑ میں آپ مرد کو ایک وحشی درندہ ثابت کردیں۔
اگر مرد نے خود کو کُھجالیا۔تو یہ اس کی غیر ارادی  حرکت  بھی ہوسکتی ہے۔ میں خود ایک مرد ہوں۔اور مُجھے معلوم ہے کہ میرے مردانہ اعضاء کتنے حساس ہوتے ہیں۔ اگر خارش شروع ہوجائے تو میں ایک محدود حد تک تو خود پر قابو پا سکتا ہوں۔مگر دورانِ پرواز اپنی کُھجلی کی پرواز ہرگز نہیں روک سکوں گا۔آپ مُجھے بتائیں،یا پھر کوئی متبادل راستہ سمجھادیں۔کہ اگر میرے ساتھ سیٹ پر آپ جیسی کوئی خاتون بیٹھی ہو۔اور مُجھے کُھجلی شروع ہوجائے تو میں کیا کروں؟یا پھر کیاکرنا چاہیئے؟اُس جگہ کو کُھجلے بغیر بھی جو میری اضطراری کیفیت ہوگی یا مُجھ پر طاری رہے گی۔اُس بےچینی و بے سکُونی والی حالت پر بھی آپ نے “می ٹو” کا نعرہ بلند کردینا ہے۔یاپھر آپ کے “می ٹو” سے بچنے کے لئے میں زیریں حصے کے متبادل کے طور پر ہاتھ یا کان تو نہیں کُھجا سکتا ناں؟کہ اس سے متاثرہ حصے کی تکلیف تو ختم نہیں ہوسکتی۔مُجھے کُھجلی لازماً وہاں ہی کرنی پڑے گی۔جس حصے سے  شکایت آ رہی۔تو کہنا یہ تھا کہ بھئ مرد کے اعضاء تھے،جو اس نے خود کو سکُون و سہولت دینے کے لئے کُھجالئے۔ کوئی اُس خاتون کا تو کُچھ نہیں کُھجایا ناں؟جو وہ بُرا مان گئیں۔
ٹھیک ہے میں مانتا ہوں۔کہ یہ ایک ناقابل قبول عمل ہوسکتا ہے۔مگر اس عمل کی ویڈیو بنانا اس کُھجلاپے سے بھی زیادہ غلط حرکت تھی۔
جس طرح خواتین کی مخصوص بیماریاں ہوتی ہیں۔اسی طرح مردوں کی بھی ہوتی ہیں۔اکثر دورانِ پرواز میں نے کتنی بار جہاز کے ٹوائلٹ میں خون آلود پیڈز فرش پر پڑے دیکھے ہیں۔تو کیا میں ایسی خواتین یا بچیوں کی ویڈیوز بنا بنا کر دنیا کو دکھانا شروع کردوں؟
بطور مرد میں نے تو کبھی اعتراض نہیں کیا۔کہ تھل تھل کرتے وجُود کے ساتھ کُھلے گلے کی قمیض پہن کر جب آپ ہمارے قتل کے سارے سامان ساتھ لئے لئے پھرتی ہیں۔تو آپ کی یہ قیامت خیزیاں ہمارے ایمان کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیتی ہیں۔
میں نے تو کبھی آپ سے اس بات کی شکایت نہیں کی ۔کہ بھاری کولہوں پر تنگ پاجامہ پہن کر آپ جب طارق روڈ یا مال روڈ پر مٹک مٹک کر چلتی ہیں۔تو ایسے نظارے دیکھنے کے بعد کتنی بار ہوش گنوا کر اپنی زیرو میٹر گاڑیاں بجلی کے کھمبوں یا فٹ پاتھ پر میں نے دے ماری ہیں۔
میں نے تو کبھی اس پر بھی واویلا نہیں مچایا۔کہ جب اکثر اوقات آپ کوئی چیز اُٹھانے کے لئے جُھکتی ہیں۔تو آپ کے قیامت خیز جلوے ہماری بچی کُھچی پارسائی کی بھی ماں بہن ایک کردیتے ہیں۔
کبھی ہماری طرف سے آپ کےاس ظُلم و زیادتی پر بھی احتجاج نہیں ہوا۔کہ جب فیشن ایبل چُست عبایہ پہنے جسم کے باقی پیچ و خم سمیت آپ سینے کے نِپلز اُبھار کر اس کی نمائش کرتی پھرتی ہیں۔تو کتنی کتنی بار ان حشر سامانیوں کو دیکھ کر میرا وضو ٹوٹا ہے۔
ہم مردوں نے تو کبھی آپ سے یہ شکوہ بھی نہیں کیا۔کہ بس سٹاپ پر انتظار میں کھڑے آپ کے بس میں چڑھتے اور اُترتے وقت جب ہماری نظریں پڑتی ہیں۔تو آپ کی جسمانی بُھول بھلیوں میں کھو کر کئی کئی  بار ہم سارا دن مدھوش کھڑے یہ بھی بُھول جاتے ہیں۔کہ ہمیں کتنے ضروری کام سے کہیں جانا بھی تھا۔
اور ایسے جان لیوا جلوؤں کی قیمت ہم اپنے روزمرّہ کے کتنے ہی ضروری کاموں کا نقصان کرکے ادا کرتے ہیں۔
آپ کے شوہرکا مُوڈ بنا ہو۔اور آپ بالوں میں تیل لگائے پھر رہی ہوں۔یاپھر سارے ہفتے کے میلے کُچیلےکپڑے جس دن بدلنے ہوں۔اُسی کو آپ ازدواجی رومانس کے ساتھ نتھی کرکے شوہر کے مُنہ پہ احسان دے مارتی ہیں۔تو صبر اور برداشت کا فلسفہ ہم پہ لاگُو ہوتا ہے یا پھر آپ پر؟
کیا یہ ہمارے حقوق غصب کرنا نہیں؟
بالشت بالشت بھر کے بچوں کے بعد ممتا کے عُہدے پر کیا فائز ہوتی ہیں کہ شوہر کو مُنہ لگانا ہی چھوڑ دیتی ہیں۔اور شوہر بیچارے کی اوقات پھر گھر اور گھاٹ کے بیچ چکر لگانے والے لاوارث کُتے سے زیادہ کی نہیں رہتی۔پھر بھی آپ کو لگتاہے کہ ہم مرد زیادتی کررہےہیں ؟
آپ کی ماہواریوں کے دوران ہم آپ کی مشکل کا احساس کرتے ہوئے دل پر پتھر کی سِل رکھ کر صبر کرتے رہتے ہیں۔کبھی ہم نے آپ سے شکایت کی اس بات پر؟
کہ مہینے میں یہ ایک ہفتے کی قید ہمیں زنجیروں میں جکڑ کر کیوں دی جاتی ہے۔
نہیں ناں؟
کیوں کہ ہم آپ کی مجبوریوں کا احساس کر کےآپ کو سپیس دیتے ہیں۔چاہے خود کے مُنہ زور جذبوں اور شوریدہ ارمانوں پر تیزگام گزر کر روز اُسے کُچلتی ہی رہے۔
اگر آپ اس میں خود کو بےاختیار بتلاتی ہیں۔تو اُس بے چارے کی کُھجلی بھی تو کوئی اختیاری عمل نہیں تھا ناں؟
پھر اس پر اتنا مُنافقت بھرا شور کیوں؟
ہمیں بھی کُچھ سپیس دیا کریں۔کیوں کہ نزاکت کی ساری تعریفیں صرف آپ ہی پر ختم نہیں ہوتیں۔ہمارے بھی کُچھ نازک پارٹس اور حساس مقامات ہوتے ہیں۔جو تنگ کرنے پر آجائیں۔تو ہم سے چھیڑے اور اُن سے اچھی خاصی چھیڑ چھاڑ کئے بغیر نہ تو اُن کو سکُون ملتا ہے۔نا ہی ہمیں سُکھ کا سانس لینے دیتے ہیں۔
گزارا آپ لوگ ہمارے ساتھ نہیں کرتیں۔بلکہ ہم مرد کرتے ہیں۔ان سب لوازمات اور ہیجان خیز جلوؤں کو دیکھنے کے بعد تھوڑا سا خود پہ ہاتھ پھیر لیں۔تو آپ کو پارسائی کے دورے پڑنے لگتے ہیں؟آپ کو اپنا پردہ اور وہ شرافت یاد آنے لگتی ہے۔جس کا اُس وقت کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔جس وقت آپ کا جسم اور مُنہ زور جوانی چھلک چھلک کر کپڑوں سے باہر نکل آنے کو بیتاب ہورہی ہوتی ہیں۔
اور پھر آپ کہتی ہیں۔کہ ہم مرد زیادتی کررہےہیں؟
ہم مردوں نے تو اپنا آپ فنا کر ڈالا آپ کی خاطر برداشت کی آگ میں جل جل کر۔لیکن پھر بھی آپ ہم پہ ہی چڑھائی کئے جارہیں قسم قسم کی دفعات لگاتے ہوئے؟ہر دفعہ حرف ہم پہ ہی کیوں آرہا؟
اور وہ بھی کس بات پر؟
صرف ایک کُھجلی جیسے ناگُزیر مسئلے کو لے کر؟
میرے ظرف کو آپ میری لاعلمی یا بیوقوفی مت سمجھیے۔
میں خاموش ہوں،اس لئے کہ مُجھے آپ کے حقوق کا احساس ہے ۔لہٰذا میں خود کو خارش کے لئے کُھجاؤں۔تو مُجھے بھی انسانی حقوق کے تحت سپیس دے دیا کریں۔ اگر آپ کو ویڈیو بنا کر اپنے جیسے خصی مردوں کو میری مذمت پر اکھٹا کرکے گالیاں دینے کا شوق ہورہا۔تو یہ آپ کا چھوٹا پن اور گری ہوئی سوچ ہے،اور کُچھ نہیں۔آپ بھی کُھجائیں خود کو۔اور پُوری آزادی سے جس جس بھی حصے کو کُھجانے کا دل کررہا ہو۔باخدا میں آپ کی ویڈیو بناکر آپ کی تذلیل ہرگز نہیں کروں گا۔بلکہ آپ کی مجبوری سمجھ کر آپ سے ہمدردی محسوس ہوگی مُجھے۔کیوں کہ میں آپ کی طرح دوغلے نظریات یا حقوق نسواں کا اسیر نہیں ہوں۔ میں ایک مرد ہوں۔آپ کی مجبوریوں کو نظرانداز کرسکتا ہوں۔
جس طرح آپ کے کچھ حقوق مجھ پر فرض کردیئے گئے ہیں۔اسی طرح میرے بھی کچھ حقوق ہیں۔لہٰذا ان کا بھی احترام کریں ۔
اور کوشش کیجئیے،کہ ہماری کُھجلیوں کو برداشت کر لیا کریں۔وگرنہ ہم اپنی کرنی پہ آجائیں۔تو کہیں پناہ نہیں ملے گی آپ کو۔آخر میں سو باتوں کی ایک بات۔کہ آپ خود کو صحیح طرح سے کور کرکے رکھا کریں۔جیسا اسلام میں عورت کے لئے آیا ہے پردہ۔اپنے چھلکتے ڈھلکتے جسموں کی نُمائش کرکے ہمارے نازک جذبات سے کھیلناچھوڑ دیں۔تو ہم بھی کُھجلیوں کی آڑ میں خود پہ ہاتھ پھیرنا چھوڑ دیں گے۔ورنہ پھر کُھجلی والی “می ٹو” سے ہمیں بھی کوئی مائی اور اُس کا لال نہیں روک سکتا۔

شاعر نے کسی ایسے ہی موقع کے لئے کہا ہے کہ،
“ع۔کُھجلی اُٹھےبدن میں اگر اس دوا کے بعد،
لازم ہے پھر جناب یہ انجکشنوں کا کورس۔
اور،
تجویز کر دئیے ہیں وٹامن بھی

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *