گناہ ٹیکس؟۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

تبدیلی سرکار کے تازہ ارشاد کے مطابق اب سگریٹ نوشی کرنے والوں پر گنا ہ ٹیکس کے نام پر ایک نیا ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز سامنے آنے پر یار لوگوں نے حسب سابق سوشل میڈ یا پر اس بات کو لے کرایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،سوال ٹیکس عائد کرنے پر نہیں اُٹھایا جارہا بلکہ ٹیکس کا نام گناہ ٹیکس رکھنا قابل غور ہے،یعنی دوسرے لفظوں میں حکومت کی جانب سے سگریٹ نوشوں کو گناہ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد گناہ کی اجازت ہے،آج ٹیکس سگریٹ پر لگے گا،تو کل کسی اور معاشرتی برائی کا نمبر آجائے گا،موجودہ شغلیہ حکومت کی جانب سے آئے روز ہونے والے لایعنی اور بے سروپا اقدامات اورحکومتی زعماء کی جانب سے پارلیمانی روایات کے برعکس ہونے والے اقدمات او ر بیانات میں سے یہ گناہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ ملکی تاریخ کا اپنے نام کے حوالے سے ہونے والا فیصلہ ایک انوکھا فیصلہ ہے،سگریٹ نوشی کا تعلق ہماری سماجی زندگی سے ہے،سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اپنی جگہ،لیکن کم ازکم ایک اسلامی نظریاتی مملکت میں گناہ کے نام سے ٹیکس لاگو کرنا کون سی عقل مندی ہے؟اگر ٹیکس لگانا ہی ہے تو اسکا نام کچھ اور رکھ دیں،کم از کم لوگوں کو ٹیکس کے بدلے گناہ کرنے کی ترغیب تونہ دیں،بجا کہ ٹیکس عائد کرنا ریاست کا حق ہے،اورٹیکس کے حجم میں کمی بیشی بھی ریاستی حق ہے،لیکن سرے سے ہی کسی ٹیکس کو گناہ کا نام دے دینا بھی کوئی مناسب اقدام نہیں،المیہ یہ ہے کہ نااہل حکومتی مشیروں کے دہن سے ایسے شگوفے پھوٹتے رہتے ہیں،جس پر تبدیلی سرکار کو یا تو یو ٹرن لینا پڑتا ہے یا پھر شرمندگی کے طور پر بغلیں جھانکنا پڑجاتی ہیں،گناہ اور سماجی برائی دو الگ چیزیں ہیں،سگریٹ نوشی کو ایک معاشرتی برائی کہا جاسکتا ہے،مگر گناہ نہیں،اسی طرح غیبت ایک گناہ ہے لیکن اس گناہ کے سرزد ہونے پر تعزیرات پاکستان کی کوئی دفعہ لاگو نہیں ہوتی،لیکن اس کے مقابلے میں قتل عمد ایک گناہ ہے اور اس کی باقاعدہ سزا متعین ہے،لہذا سگریٹ نوشی کو گناہ کہنے والے تبدیلی کی کسی بزرجمہر کوشاید گناہ اور معاشرتی برائیو ں کے مابین فرق نہیں معلوم پڑا اور سگریٹ پر گناہ ٹیکس لگانے حکم جاری کردیاگیا،کسی بھی سماج میں رائج قوانین شہریوں کی زندگی کوباقاعدگی دینے اور جرم وقوع پذیر ہونے کی صورت میں مجرم کی اصلاح کے لئے ہوتے ہیں،گناہ اور ثواب،خیر اور شر،نیکی اور بدی دد متضاد باتیں ہیں،سگریٹ نوش کی اصلاح کے لئے گناہ ٹیکس جیسی بات سے کسی کی اصلاح ہونے کی بجائے سگریٹ نوشی میں مزید اضافہ ہو جانا ایک لازمی امر ہے،سگریٹ نوشی کی تاریخ کافی پرانی ہے،تاہ، سگریٹ نوشی کے مضر نقصانات کے حوالے سے بیسویں صدی کے آخر میں پوری دنیا میں سخت اقدامات سامنے آنے شروع ہوئے،جب حکومتوں کو یہ احساس ہوا کہ جو رقم سگریٹ نوشی کے اییڈورٹائزنگ پر خرچ ہو رہی ہے،اس سے کہیں بڑھ کرسالانہ اخراجات سگریٹ نوشی کرنے کے نتیجے میں ہسپتال اور بیماری پر لگ جاتے ہیں،لہذا سب سے پہلے پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا پر سگریٹ نوشی کے اشتہارات پر پابندی لگی،اور آہستہ آہستہ عوامی مقامات،تعلیمی اداروں اور ائیر لائنز میں سگریٹ نوشی کرنے کی ممانعت کردی گئی،اور یہ رقم سگریٹ نوشی کرنے والی کی بیماری پر خرچ کی جانے لگی،اس حوالے سے محکمہ صحت نے بھی بھرپور کردار ادا کیا، انسان کا یہ خاصہ ہے کہ اس کو جس بات سے روکا جائے،یاکوئی کام کرنے سے منع کیا جائے تو یہ لازمی وہ کام کرتا ہے،گناہ ٹیکس جیسے لفظ سے لازمی سگریٹ نہ پینے والے کو بھی یہ ترغیب ہو گی کہ اس گناہ بے لذت کا ذائقہ چکھا جائے،کیونکہ عین انسانی جبلت کے مطابق گناہ ٹیکس کا نام جب لیا جائے گا تو حضرت انسان کا اس جانب متوجہ ہونا لازمی امر ہوگا،اس کا دوسرا پہلو جس کا تعلق ہمارے ینی معاملات سے ہے،گناہ اور ثواب ایک وسیع تر اصلاحیں ہیں،،سگریٹ نوشی پر ٹیکس کے لئے گناہ جیسا لفظاستعمال کرنے کا مطلب سیدھا یہی نکلتا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے گناہ گار ہیں اور وہ اپنے اس گنا ہ کو کرنے کے لئے صرف ٹیکس دے کر ادا کرسکتے ہیں،دنیا کے کئی ممالک جیسا کی فلپائن میں جسم فروشی جائز ہے لیکن اسکے لئے بھی لائسنس کی ضرورت ہے اور وہاں گناہ ٹیکس کے نام ہر جسم فروشی کی اجازت ہے،اب دیکھیں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی؟کہاں سگریٹ نوشی اور کہاں جسم فروشی،دو متضاد باتیں،دو متضاد رویے،دو متضاد انسانی عمل،ریاست کو جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ ٹیکس لاگو کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے،لیکن کوےء بھی ٹیکس لگانے سے پہلے زمینی حقائق کو مدنظر بھی رکھنا ضروری ہے،سماج میں رائج کردہ رسم ورواج اور سب سے بڑھ کر ایک اسلامی نظریاتی مملکت میں گناہ جیسا لفظ محض سگریٹ نوشی کرنے والوں کے لئے استعمال کرنے کا کوئی اخلاقی جواز بھی نہیں بنتا،اگر سگریٹ نوشی پر ٹیکس لگانے ہی ہے تو پہلے سے لگائے گئے ٹیکس میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے،اور گناہ ٹیکس کے بجائے عادت ٹیکس یا علت ٹیکس بھی لگایا جاسکتا ہے،اب ہمارے سمیت کئی سگریٹ نوشوں کو کم از کم ساری زندگی یہ احساس تو نہیں ہو گا کہ ہم گناہ ٹیکس ادا کرکے گناہ کی اجازت حاصل کئے ہوئے ہیں،سگریٹ تو بانی پاکستان بھی پیتے تھے،علامہ ااقبال بھی تمباکو نوش کلب کے ممبر تھے،اس کے علاوہ ہمارے کئی سابقہ اور موجودہ حکومتی زعماء بھی سگریٹ نوش ہیں،تو کیا یہ سب گناہ گار ٹھہرے؟نہیں،یقینانہیں،کئی شعراء نے سگریٹ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا،لہذا آپ شو ق سے ٹیکس لگائیں،لیکن خدارا ہمیں گناہ گار قرار دینے کے نامعقول اور لایعنی حکم پر نظر ثانی فرما دیں،یہ نہ ہو کہ آج سگریٹ نوشی تو کل کوئی اور سماج برائی گناہ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد جائز قرار پائے،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *