ایہہ جھگڑا تائیوں مُکنا جِدوں جہلم پانی سُکنا۔۔۔حافظ یاسر

آج رات کچھ زیادہ ہی بھاری تھی. سرِشام سے بمباری ہو رہی تھی. گولوں کی رینج بھی آج زیادہ تھی. عشاء کی نماز کے کوئی ایک گھنٹے بعد جب تین بم گاؤں کے بالکل پاس گِرے تو لوگ بے چین ہو کر گھروں سے نکل پڑے. سب لوگ گاؤں کی واحد دکان پہ اکٹھے ہوئے تو ہر طرف سے  بھانت بھانت کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں. کچھ کا خیال تھا کہ حالات زیادہ خراب ہو رہے ہیں اس لیے  آج کی رات گاؤں خالی کر دیا جائے. دیگر ویلے رینجل آلے آکھ کے وی گئے سان کے آج پنڈوں نکل جاویو حالات خراب نیں. بابا سلطان نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے ہنکارا بھرا۔۔پر چاچا سلطانیا اپنی تاں ٹھیک اے، ڈنگراں نوں کِتھے لے کے جائیے ؟ بالکل ٹھیک کہہ ریا اے. سب لوگوں نے رستم کی بات کی تائید کرتے ہوئے ہاں میں ہاں ملائی.

اور حقیقت بھی یہی تھی. خود یا بچوں کو تو چند دنوں کے لیے کسی رشتہ دار کے ہاں چھوڑ آنا کسی قدر آسان تھا لیکن مال مویشی کے لیے بہت مشکلات تھیں. اول تو رکھنے باندھنے کو کوئی جگہ نہیں ملتی اور اگر مل بھی جائے تو چارے پانی کی مشکلات. اور اب جبکہ محافظوں نے بھی ہماری حفاظت سے برأت کا اظہار کر دیا تھا تو گاؤں کے بڑے واقعی پریشان تھے. اوپر سے لمحہ بہ لمحہ قریب آتی گھن گرج تھی. اسی اثناء میں سلامت علی کے گھر ایک ساتھ دو بم آکر گرے. بم کیا گرے مانو جیسے قیامت آ گئی ہو. جس کا جدھر کو منہ تھا ادھر کو دوڑ لگا دی. اکثر تو اپنے بچوں کو بھی بھول گئے. نفسا نفسی کا عالم کسے کہتے ہیں آج دیکھ لیا.

انتہائی معذرت کہ  بنا کسی تعارف کے میں نے تحریر شروع کر دی. میرا نام حافظ یاسر ہے اور میں شمالی پنجاب کے ایک دور افتادہ سرحدی گاؤں میں رہتا ہوں. میرے پرکھے یہاں کئی نسلوں سے آباد ہیں. پندرہ اگست 1947 کو میرے گاؤں میں اعلان ہو کہ ہندوستان کا بٹوارہ  ہو گیا ہے اور اب ہمارا ایک نیا ملک ہے پاکستان. کچھ کی سمجھ میں کچھ آیا جبکہ اکثریت ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے. دادا جی گاؤں کے گنتی کے پڑھے لکھوں میں سے تھے. لوگوں کا اضطراب دیکھ کر سمجھانے لگے کہ   ہندو چاہندے سن کے سانوں کمّی بنا کے رکھن  پر بابا قازِاعظم نے ساڈے واسطے ملک ای وکھرا کرا لیا اے، ایس لئی پریشانی آلی کوئی گل نئیں بلکہ سارے خوشیاں مناؤ.

سادہ لوح لوگوں کے پلے سوائے ایک بات کے کوئی نہ  پڑی کہ ہم ہندوؤں کے کمّی ( غلام ) ہونے سے بچ گئے. سب لوگوں نے یک زبان ہو کر نعرہ لگایا. قازِاعظم جِندہ باد پاکستان جِندہ باد. لیکن یہ خوشی بھی دو دن کی ہی ثابت ہوئی جب لوگوں نے اپنے کھیتوں میں جانا چاہا تو آگے کچھ فوجی کدالیں لیے مورچے بنا رہے تھے. پتا چلا کہ یہ ہندوستان کے فوجی ہیں. گاؤں کی حدود اب صرف لالا سردار کے کھیت تک ہی ہے. اگلے سب کھیت ہندوستان میں آ گئے ہیں. لوگ پھر بھی جی دار تھے، صبر کر گئے کہ کوئی بات نہیں اب یہ سارا ملک صرف ہمارا ہی ہے.

آج اکیسویں صدی میں بھی میرے گاؤں میں کوئی اخبار نہیں آتا کیبل یا انٹرنیٹ یا سوئی گیس صرف ہم لوگوں نے شہر میں ہی دیکھی ہیں، گاؤں سے ان چیزوں کا کوئی دور تک کا واسطہ نہیں. ٹی وی تو خیر اکثر گھروں میں ہے جس پہ انٹینا کے ذریعے پی ٹی وی انتہائی دھندلا اور دور درشن نیشنل انتہائی صاف آتا ہے اس لیے ہم ڈی ڈی نیشنل سے ہی  منورنجن کا سامان کرلیتے ہیں. گاؤں میں اکثریت کا پیشہ کھیتی باڑی ہے جبکہ کچھ لوگ شہر میں جا کر بھی کام کرتے ہیں. آگ جلانے کے لیے ہم لکڑی استعمال کرتے ہیں جو کہ ہمارے اپنے گھر یا کھیتوں یا پھر باغیچوں میں اگائے درختوں سے حاصل ہوتی ہے

لیکن کچھ عرصے سے یہ بھی مشکل ہو گئی ہے کیونکہ جیسے ہی ہم اپنے لگائے درخت برائے حصول ایندھن کاٹنا چاہتے ہیں تو اچانک پوسٹ سے کچھ جوان آجاتے ہیں اور درخت کاٹنے والوں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال کر لے جاتے ہیں. سارا دن وہاں مرغا بنائے رکھتے ہیں پھر جب گاؤں کے بڑے پیچھے جاتے ہیں تو پہلے تو خوب بے عزتی کی جاتی ہے. پھر سمجھایا جاتا ہے کہ یہ درخت حکومت کی ملکیت ہیں . جنگ کے دنوں میں یہی ہماری فوج کے کام آتے ہیں اور آپ جاہل لوگ انہیں کاٹ رہے تھے. آپ کو کیا پتا ہے کہ درخت انسان کے لیے سانس لینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں. بے چارے گاؤں کے سادہ لوگ یہ بھاشن سن کر شرمندہ سے ہوکر واپس ہو لیتے ہیں

لیکن سب کے  ذہنوں میں ایک سوال ہوتا ہے کہ اگر ہمارے لگائے درخت ہمیں بوقت ضرورت ایندھن نہیں دے سکتے تو پھر یہ ان رینجرز کے کام بھی کیوں   آتے ہیں ، کیوں ذرا سی کشیدگی پہ ہمیں گاؤں خالی کرنے کا کہہ دیا جاتا ہے. کیوں ہمارے لوگ اور مال مویشی اس بربریت کا ایندھن بنتے ہیں، ایک اور سوال بھی سب کے ذہنوں میں آتا ہے کہ پچھلے سال جو بیلے سے سارے درختوں کا صفایا کر دیا گیا تھا کیا وہ جنگ میں کام نہیں آ سکتے، کیا وہ ہمیں سانس نہیں دیتے ؟

نتیجہ یہ ہے کہ اب میرے گاؤں کے لوگوں نے درخت لگانے بند کر دیے ہیں کہ جب یہ ہمارے کسی کام ہی نہیں آسکتے تو اگانے کا فائدہ کیا؟ دکھڑے تو اور بھی بہت ہیں ہم بارڈر پہ رہنے والوں کے ۔۔

لیکن میں بات کر رہا تھا ہندوستانی بمباری کی. رات کس کرب میں گزری یہ صرف یا تو ہم جانتے ہیں یا وزیرستان والے جان سکتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں زندگی کیسے جہنم بن جاتی ہے. ہوس کے اس دور میں اپنی بہن بیٹیوں کو کسی کے گھر لے  جانا پناہ کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے صرف ہم ہی جانتے ہیں. ہم لوگ تو اس وقت بھی صرف اناج اور محبت کی کھیتی باڑی ہی کرتے تھے جب نفرت کی یہ فصل بوئی گئی تھی. آج بھی صرف کھیتی باڑی ہی کر رہے ہیں. نقصان اس وقت بھی اٹھانا پڑا تھا اور آج بھی اٹھا رہے ہیں. نفرت کی فصل اب پورے جوبن پر ہے. دونوں اطراف سے مٹا دینے کے دعوے ہیں. دو قومی نظریے کا تو پتہ نہیں لیکن دونوں طرف خصوصاً شہروں میں ایک نظریہ ہے جو آج بھی زندہ ہے. “تم اپنے گھر میں آرام سے اس لیے سوتے ہو کیونکہ سرحد پہ جوان پہرہ دیتے ہیں” پتا نہیں کون سوتا ہے کون جاگتا ہے اور کون پہرہ دیتا ہے،

پچھلے ایک ہفتے میں میرے گاؤں سے تین جنازے اٹھ چکے ہیں. خدا کے لیے اے شہروں والو !اگر تم ہمارا درد محسوس نہیں کر سکتے تو ان جھوٹے ڈھکوسلوں سے ہمیں تسلی بھی مت دو ،بند کرو نفرت کا یہ کاروبار!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایہہ جھگڑا تائیوں مُکنا جِدوں جہلم پانی سُکنا۔۔۔حافظ یاسر

  1. سوچنے والی بات ہے۔لیکن کہا تو آپنے ٹھیک ہی ہے۔
    بہت اچھی تحریر ہے ۔ پڑھ کر اچھا لگا لیکن ہمیشہ اپنی فوج کے بارے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیے ۔

    یاسر صاحب آپ کی اگلی تحریر کا منتظر رہوں گا۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *