اپوزیشن کا اعلان جنگ۔۔محمد اسلم خان کھچی

SHOPPING
SHOPPING

محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے فرمایا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمن صاحب کو اقتدار نہ ملے تو یہ خونخوار بھیڑیا بن جاتا ہے۔۔۔  آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں مولانا ایک خونخوار بھیڑیے کے روپ میں نظر آیا اور چغد سیاسی لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول میں کامیابی کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ یہ اور بات ہے کہ اسے حکومت سے کچھ ملتا ہے یا نہیں لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گا کیونکہ مولانا پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک اٹل حقیقت ہے۔ مولانا کے ساتھ مذہبی جنونی طاقت ہے جو کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتی ھہ۔ اسٹیبلشمنٹ یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ اس وقت مولانا کو چھیڑنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ حکومت کی طرف سے مولانا کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور یہ بات مولانا صاحب بھی جانتے ہیں کہ اگر حالات اسی ڈگر پہ چلتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب مولانا کسی مسجد کے خطیب بن کے اپنی ماندہ زندگی گزاریں گے۔ اس لئے مولانا صاحب وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بہت جلدی میں پیں کہ کسی بھی صورت میں یا تو موجودہ سیٹ اپ سے اپنا حصہ وصول کیا جائے یا پھر آخری حد تک جا کے موجودہ سسٹم کو گرا دیا جائے۔
اگر اے پی سی اعلامیے پہ گہری نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ اپوزیشن نے فرسٹریشن کا شکار ہو کے موجودہ حکومت کی بھرپور سپورٹ کا اعلان کیا ہے۔ یہاں بہت سے لوگوں کو میری بات پہ ہنسی آئے گی لیکن ان فرسٹریٹڈ اور عقل سے نابلد سیاستدانوں نے یہی کچھ کیا ہے۔
تفصیل اسکی کچھ یوں ھے کہ بجائے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کے۔۔۔ پاکستان ملٹری کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔
آج کی پوری پریس کانفرنس اور اے پی سی اعلامیہ فوج کے خلاف اعلان جنگ تھا۔
اسٹیبلشمنٹ الیکشن سے دور رہے گی
اسٹیبلشمنٹ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی
اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان سے نکل جائے گی
اسٹیبلشمنٹ وزیرستان سے فوجی چوکیاں ختم کر دے گی
فوج کراچی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی
فوج بلوچستان کی سیاسی حکومت کو چلنے دے گی۔
بلوچستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔۔۔
حیرانی ہے کہ اتنے عقل مند سیاستدان ایسےاحمقانہ  قسم کے بیانات کیسے دے سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ بغض عمران میں اتنے پاگل ہو چکے ہیں کہ ملک کی سلامتی تک کو داؤ پہ لگانے کو  تیار ہیں
سابقہ دور حکومت میں کراچی میں اوسطاً 70 بوری بند لاشیں روزانہ ملتی تھیں۔ مزدور 500 روپے دیہاڑی لیکر بندہ قتل کرتا تھا اور اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔۔۔
وزیرستان میں دہشت گردوں کی نرسریاں تھیں اور ہم روزانہ بم دھماکے دیکھ دیکھ کے اتنے عادی ہو گئے تھے کہ اب دل اتنے پتھر ہو گئے تھے کہ کٹے پھٹے جسموں کو دیکھ دل میں کوئی درد نہیں اٹھتا تھا۔
وزیرستان کی جنگ میں پاکستان کے 70000 عام آدی شہید ہوئے اور 7000 فوجی آفیسرز اور جوان شہید ہوئے جن میں سے ایک ہزار آفیسرز تھے۔۔
بلوچستان سے فوجی مداخلت ختم کرنے کا مقصد ھے کہ بلوچستان کو اعلانیہ انڈیا کے حوالے کرنا۔۔۔
گلگت بلتستان میں کئی دہائیوں کی قتل و غارت کے بعد امن آیاہے۔ اس کا مطلب ہے فوج کو ہٹا کے وہاں دوبارہ فرقہ ورانہ فسادات کرا کے اسے جنگ میں دھکیل دیا جائے۔۔
کراچی میں دوبارہ خون ریزی شروع کرا دی جائے
اتنی بڑی جنگ جو ہم جیت چکے ہیں۔ کیا سیاسی قیادت کی اقتدار کی خواہش سے دوبارہ شروع کر دیں۔
سچ پوچھیے۔۔۔ تو آج موجودہ سیاسی قیادت سے شدید نفرت محسوس ہونے لگی ہے۔ انکا مقصد صرف فوج کو بدنام کر کے ملکی سلامتی کو کمزور کرنا ہے ۔انکے بدبودار چہروں سے نفرت محسوس ہونے لگی ہے۔۔۔
عمران خان کی حکومت ٹھیک نہیں۔ ناکام ہو گیا ہے۔ مہنگائی بہت ہے۔ مان لیتے ہیں کہ عمران خان ناکام ترین حکمران ھے تو اس کا سیدھا سادہ حل ہے کہ کل اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں۔ حکومت کے پاس تو اکثریت ھی نہیں کہ وہ خود کو بچا سکے۔۔۔
اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو تمام اپوزیشن پارٹیاں اسمبلیوں سے استعفے دے دیں۔ حکومت اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھے گی اور اپنے وجود سے ہی گر جائے گی۔ جب سب کچھ اتنی آسانی سے ہو سکتا ہے۔ حکومت گر سکتی ہے تو یہ حکومت گرانے کی بجائے عوام کو فوج کے خلاف کیوں بھڑکانے میں لگے ہیں۔۔۔ یہ کس کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہیں۔۔۔ عوام اور فوج کے درمیان کیوں دوری پیدا کی جا رہی ھے جبکہ آسانی سے وفاقی اور پنجاب حکومت کو چلتا کیا جا سکتا ہے۔۔۔
آپ خود سوچئے کہ جس فوج کو ملکی دہشت گردی ختم کرنے میں دس سال لگے۔ ہزاروں قربانیاں دیں تو کیا وہ سارا نظام سسلین مافیا کے حوالے کر کے خاموشی سے واپس چلی جائے گی۔ نہیں ۔۔ اس بار فوج ان لوگوں کے
بوتھے  سْجا کے رکھ دے گی۔
پہلے تو آج رات سے ہی معافیاں مانگنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ مسٹر شہباز شریف صاحب آج رات سے ھی پنڈی بوائز کے ہاتھ پاؤں پکڑنا شروع کر دیں گے جس کے وہ پہلے ہی ماہر ہیں اور پاؤں پکڑنے میں تیس سالہ پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ زرداری صاحب کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پہ عمل کرتے ہوئے کچھ ریلیف لینے کی کوشش کریں گے۔ باقی رھے نوازشریف صاحب۔ انہیں نہ کوئی قوم کا درد ھے اور نہ ملک کا۔ انہیں بس اپنی دولت بچانے اور سزا معاف کرانے سے غرض ھے اور مریم بی بی وزارت عظمیٰ کے چکر میں ھے جو کہ ممکن نہیں۔ اسکے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ اسکا جارحانہ رویہ اور ش لیگ ہے
لڑائی کا کھلم کھلا آغاز ہو چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ مکمل طور پہ موجودہ حکومت کو سپورٹ کرے گی کیونکہ فوج بھی جانتی ہے کہ یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔
آج کی پریس کانفرنس سے لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہونے والا۔ اے پی سی نے فوج کے ساتھ اعلان جنگ کر کے خود کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا ہے ۔ایک اوسط درجے کا ذہن رکھنے والا آدمی بھی جانتا ہے کہ ملک فوج کے سہارے سے ہی چل رہا ہے ورنہ یہ تو کب کا ایک ارب ملین ڈالر میں بیچ چکے ہوتے۔
اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کر کے کسی بھی حکومت کو گرا دیں۔۔۔ کوئی پاگل ہی اس بات پہ یقین کر سکتا ہے۔ جب نواز شریف صاحب خود اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ فوج کے بغیر حکومت نہیں بنتی تو اب وہ قوم کو کیسے یقین دلا رہے ہیں کہ فوج سے لڑ کے حکومت گرائی جا سکتی ہے۔۔۔ مفادات میں گھرے بدبودار چہرے آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں خانہ جنگی چاہتے ہیں۔
پہلے مجھے یقین تھا کہ اگلے الیکشن میں شاید نواز شریف کی حکومت آجائے اور کچھ ہمدردی بھی پیدا ہو رہی تھی لیکن آج انکی خودغرضی اور اقتدار کا لالچ دیکھ کے انکے چہروں سے گھن آنے لگی ہے۔۔۔
نہ یہ حکومت جائے گی اور نہ اسٹیبلشمنٹ بیک فٹ پہ جائے گی بلکہ انہوں نے اگلے الیکشن میں بھی پی ٹی آئی کیلئے راستہ ہموار کر دیا ھے۔ سینیٹ کے الیکشن کا ڈر ھے کیونکہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہو جائے گی اور قانون سازی شروع ہو جائے گی۔ تب احتساب کا ایسا عمل شروع ہو گا کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے پھریں گے۔
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ یہ وہ پاکستان نہیں
پاکستان بدل رہا ہے۔۔۔
پاکستان کے ادارے بدل رہے ہیں
پاکستان کی اقدار بدل رہی ہیں۔۔۔
بس اچھے آدمی کا ساتھ دیجیئے ۔۔ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کیجیئے۔ انشاللہ پاکستان کا بہت اچھا وقت شروع ہونے والا ھہ ۔۔۔
اللہ رب العالمین آپ سب کا حامی و ناصر ہو!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *