آج دو قومی نظریہ۔۔محمد ذیشان بٹ

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

دو قومی نظریہ کا نام سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں برصغیر کا تصور اُبھرتا ہے ۔ جہاں انگریز حکمران ہے اور دونوں بڑی اقوام ہندو اور مسلمان آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس نظریے کے خالق کے طور پر سر سید اور پھر علامہ اقبال کا نام سامنے آتا ہے ۔ اہم سوال یہ ہے کہ یہ نظریہ ان شخصیات نے کہاں سے اخذ کیا ۔ اس ضمن میں گزارش ہے کہ یہ نظریہ انسانیت کے آغاز سے ہی موجود ہے۔ قرآن نے بھی جگہ جگہ پر واضح کیا ہے کہ دنیا میں صرف دو اقوام ہی مسلمان اور غیر مسلمان۔ آج کے دور کو تحقیقی نظر سے دیکھیں تو بھی معلوم ہوتا ہے کہ تمام عالم کفر کا نشانہ مسلمان ہی ہیں اور ان  کے مفادات مشترک ہیں۔ ہر جگہ پر مسلمان اپنے انتشار کی بنا پر مار کھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بڑی وجہ ہمارے درمیان مسلمان کے روپ میں چھپے منافق جو خود کو لبرل کہتے ہیں ۔ کہنے کو تو یہ لوگ مسلمان ہے مگر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔پاکستان کے معروضی حالات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ انہی  لبرلز نے ہمیں سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ان کا سب سے بڑا ہتھیار جو ہمیشہ ہی نشانے پر لگتا ہے ۔ وہ ہے مذہبی نفرت پھیلانا ۔ کچھ مذہبی شخصیات اپنی کم فہمی اور دنیاوی مفاد کے ہاتھوں ان کے آلہ کار بن جاتی  ہیں حالیہ محرم میں پھر ہم ایک بہت بڑے مذہبی فساد سے بال بال بچ گئے۔جس کے نتائج ہم اب بھی بھگت رہے ہیں ۔ جہاں دنیا سوشل میڈیا سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے اس کو تجارت ، تعلیم اور بہتر روابط کے لئے استعمال کر رہی ہے ۔ وہ ہمیں آج بھی ایک دوسرے سے لڑنے، دوسرے کے نظریات کو غلط کہنے، ایک دوسرے کو کافر کہنے پر مجبور کررہی  ہے ۔ نوجوان نسل نے تعلیم تو کسی قدر حاصل کرلی ہے پر تربیت کا فقدان اور عدم برداشت ہمارے معاشرے کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے ۔پاکستان میں چاروں بڑے مذہبی فرقوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے اگر ان منافقوں (لبرلز )کا مقابلہ کرنا ہے تو مذہبی لوگوں کو ایک دوسرے کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا ۔ دوسرے کے نظریات کی عزت کرنی ہوگی اور ان کی چالوں کا مقابلہ سمجھداری سے کرنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ یہ لبرلز کبھی بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہیں۔ ہندوستانی ثقافت کو فروغ دینا،اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنا۔ تعلیمی نصاب سے اسلامی مواد کو بتدریج کم کرنا ۔ بے حیائی کو نوجوان نسل میں پھیلانا ۔ اسلامی قوانین کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ۔ان کو قادیانیوں اور یہودیوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
اساتذہ کرام ، والدین اور علمائے حق کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک بھر پور مہم کے  ذریعے یہ بات واضح کرنی ہوگی کہ آج بھی پاکستان میں دو اقوام ہیں ایک مذہبی لوگ جو کہ اسلام اور پاکستان کے حق میں ہیں اور دوسرے یہ لبرلز جو کہ انگریزوں ،یہودیوں کے  آلہ کار اور پاکستان اور اسلام مخالف ہیں۔
آغاز سے ہی اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات اور پاکستان سے محبت کا درس دیں۔ ان منافقوں کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔ اسلام دنیا میں چھا جانے کے لئے ہے اور پاکستان ان شاء اللہ قیامت تک قائم رہے گا اسلام زندہ باد پاکستان زندہ باد!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *