انصاف بے لاگ ہی ہوتا ہے جناب۔۔ڈاکٹر ندیم عباس

SHOPPING

انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے ہی ہو، اس میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ جہاں تفریق ہو وہ انصاف نہیں ہوتا۔ وہ انصاف جو معاشرے کی بنیاد ہے، وہ انصاف جس کی وجہ سے نظام قائم رہتا ہے، وہ انصاف جو الہیٰ مذاہب کی مسلسل آواز ہے، اس میں زید و عمرو میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ کہ ہم انصاف پسند نہیں، انتقام پسند ہیں، ہم لوگوں کے ساتھ معاملات میں یا ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں یا دوسروں پر ظلم کرکے ظالم بن جاتے ہیں۔ قرآن نے بڑی خوبصورت تعلیم دی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ(المائدہ۔۸) “اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو، کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ، عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔”

کیا ہی خوبصورت تعبیر ہے کہ دشمنی میں بھی اتنا نہ بڑھ جاو کہ انصاف کا دامن ہاتھ سے نکل جائے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہم جس مسئلے کا شکار ہوئے، وہ انصاف کے بحران کا مسئلہ تھا۔ جب کوئی جرم کر لیتا ہے تو اسے انصاف کے کٹہرے میں لانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہاں یہ دیکھا گیا کہ قانون کی عملداری اس قدر کمزور تھی کہ لوگوں نے قاتل کو ہاتھوں سے پکڑ کر پولیس کو دیا مگر انہیں سزائیں نہ ہوئیں اور وہ دندناتے پھرتے رہے۔ اس سے معاشرے میں عدم استحکام جنم لیتا ہے اور معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک آدمی نے ایک دن میں سولہ لوگوں کا قتل کیا تھا۔ پورے پنجاب میں دہشت پھیل گئی تھی کہ وہ سولہ لوگ ایک ہی گاوں میں قتل ہوگئے۔ اس قتل عام کے بعد مجرم گرفتار ہوگیا اور لواحقین کے ساتھ ان کی بات چیت شروع ہوئی کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔

ہمارے علاقے کے ایک بڑے پنجائیت کے آدمی تھے، انہوں نے کہا میں اس قتل عام کا خود کو ذمہ دار سمجھتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس قاتل کا بیٹا چند ماہ پہلے قتل ہوا تھا تو ہم سب نے مل کر اس کو چھڑایا تھا اور انہیں مجبور کر دیا تھا کہ یہ صلح کریں۔ اس وقت تو قانونی کمزوریوں کی وجہ سے یہ خاموش ہوگیا، مگر اس ایک قتل کی سزا نہ دینے کے نتیجے میں جو بے انصافی ہوئی، اس کا بدلہ پورے علاقے نے دیا اور اس شخص نے بیٹے کے بدلے میں سولہ لوگوں کو مار دیا۔ اے کاش اس وقت اس کے بیٹے کے قاتل کو چند سال جیل میں رہنے دیتے اور سزا مل جاتی تو یہ قتل عام نہ ہوتا۔

قارئیں کرام، انصاف کا ترازو اسی لیے مقرر کیا گیا کہ ہر شخص ہاتھ میں تلوار لے کر انصاف خود سے لینے گھر سے نہ نکل پڑے۔ جب انصاف انفرادی ہو جاتا ہے تو معاشرہ تقسیم کا شکار ہو کر ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ انصاف کی مرکزیت اسی لیے قائم رکھی گئی اور اسی لیے اسے ریاست کے ذمہ چھوڑا گیا کہ اس افراتفری سے بچا جا سکے۔ ہم آج تیسری دنیا کے معاشروں میں اجتماعی بے چینی کا مشاہدہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہاں طاقتور لوگ صرف اپنے مفادات کے لیے کمزووں کے خلاف انصاف ترازو استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں انصاف کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حقدار کو اس کا حق دلایا جائے اور جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس کا ازالہ کیا جائے۔ اگر انصاف کا ترازو کسی ایک جانب جھکاو اختیار کر لے تو معاشرہ مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔

محترم عمران خاں صاحب وزیراعظم پاکستان آپ نے انصاف کے نام پر ووٹ لیا ہے، دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا تھا، جن لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا، انہیں یہ امید تھی کہ آپ کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے، مگر آپ نے تو مک مکا ہی کر لیا ہے۔ جو شخص جتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، جب وہ مشرف بہ پی ٹی آئی ہو جاتا ہے تو کرپشن سے پاک ہو جاتا ہے اور چند ماہ میں ہی نیب سمیت تمام ادارے اس کی پاکدامنی کی گواہی دینے لگتے ہیں اور جو پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف چند بیانات ہی دے دے، وہ نیب کو مطلوب ہو جاتا ہے، یہ کیا ہے؟ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا ایسے ہی ملک اور معاشرے آگے بڑھتے ہیں۔؟ میں غیر سیاسی انصاف کی بات کروں گا، عمران خان صاحب لوگ پورے عدالتی نظام سے مایوس ہوچکے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ یہاں انصاف ملتا نہیں خریدا جاتا ہے۔ اگر مخالف فریق زیادہ پیسے لگا دے گا تو اسے مل جائے۔

SHOPPING

ایک تو لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں اور دوسرا انصاف کے نام پر سالوں وہ عدالتوں میں دھکے کھاتے ہیں۔ پڑدادا نے عدالت جانا شروع کیا تھا اور اب پڑپوتا بھی عدالت جا رہا ہے اور مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو رہا۔ اس عدالتی نظام کی بہتری کے لیے کچھ کر دیں، لوگ آپ کو دعائیں دیں گے۔ یقین کریں میرا تعلق جس علاقے سے ہے، جب میں نویں کلاس میں پڑھتا تھا، گاوں سے شہر سکول آیا کرتا تھا، شدید رش کی وجہ سے ہمیشہ صبح صبح بس کی چھت پر سوار ہو کر آتے تھے، ہر روز سب سے زیادہ سواریاں کچہری سٹاپ پر اترا کرتی تھیں۔ سادہ لوح دیہاتی لوگ ہاتھ میں بڑے بڑے شاپر لیے تیزی سے عدالتوں کی طرف جاتے دکھائی دیتے تھے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس نظام کو کچھ بہتر کریں۔ ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں، ہماری زندگی بھر کی محنت مزدوری کچہری کی اینٹیں کھا گئی ہیں۔ اجتماعی طور پر انصاف کا اتنا مہنگا اور اتنا ناپید ہونا ظلم ہے اور کوئی بھی معاشرہ ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔

SHOPPING

Avatar
ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *