• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خدا کے منتخب لوگوں میں سے ایک سلطان محمد فاتح۔سفر نامہ/سلمٰی اعوان۔۔۔قسط8

خدا کے منتخب لوگوں میں سے ایک سلطان محمد فاتح۔سفر نامہ/سلمٰی اعوان۔۔۔قسط8

اُس جیالے سلطان محمد فاتح کا مقبرہ،اس کی یادگار “مسجد فاتح” دیکھنے کی بڑی خواہش تھی۔یوں مسجدیں تو کم و بیش تھوڑے بہت فرق سے ایک جیسی ہی تھیں۔استنبول تو ویسے بھی مسجدوں کا گھر ہے۔مگر بات اُس قلبی تعلق اور ناطے کی ہے جو آپ کو اُس ہستی سے کہیں گوندھ دیتی ہے۔سیما بھی ایسی ہی خواہش کی اسیر تھی۔
بس تو نکل پڑیں۔آقسرائے Aksaray سکوائر تک میڑو کا سفر کیا۔ سڑک کے کنارے خوبصورت پر چھوٹی سی مسجد کو ہم نے توجہ سے دیکھا۔نفل پڑھنے کی نیت سے اندر گئے تو معلوم ہوا ولادیvalide مسجد ہے جو مادر ملکہ کے نام سے ہے۔نفل پڑھے۔دعائے خیر مانگی۔یہ آقسرائے کا علاقہ تھا۔اتنا خوبصورت جتنا جھوٹ بولا جائے۔مصروف ترین ہوٹلوں،موٹلوں،بسوں،گاڑیوں،میڑو اور رنگا رنگ لوگوں،پارکوں اور عمارتوں سے بھرا پُرا۔

یہ بھی پڑھیے: سلطان احمت میں تھوڑی سی آوارہ گردی اور تھوڑی سی دل پشوری۔۔۔سلمٰی اعوان(سفر نامہ)قسط 7

اب جو چلنا شروع کیا تو بس چل سو چل والا معاملہ ہوا۔جس نے جدھر چاہا اُدھر دھکیل دیا۔ منسٹری اف ملٹری آفئیرز کی عمارت نظرآئی۔جس چیز نے توجہ کو فوراً کھینچا وہ چمکتے سنہرے حروف کے ساتھ دائیں بائیں لکھی ہوئی قرآنی آیات تھیں۔”انا فتحنا لک فتحا مبینا“ ”و ینصرک نصراً اللہ عزیزاً“اس کے مرکزی گیٹ پر استنبول یونیورسٹی لکھے دیکھا تو رک گئیں۔لاطینی کے ساتھ ساتھ عربی میں بھی سال اور نام لکھے گئے تھے۔اِس یونیورسٹی کی بنیاد سلطان محمد فاتح نے شہر فتح کرنے کے ساتھ ہی رکھ دی تھی۔

Aksaray Square

شکرہے یہ برصغّیرکے غزنویوں سے مختلف نکلاجو ہندوستان کو فتح کرنے نہیں لوٹنے آتے تھے۔ابتدا میں نام کچھ اور تھا درمیانی وقفوں میں بھی نام بدلتے رہے مگر اب یہ استنبول یونیوسٹی ہے۔
گیٹ پر روک لیا گیا۔تعارف کروایا۔پاسپورٹ دکھائے۔ تب داخلہ ہوا۔اندر داخل ہونے پر کیا خوبصورت نظارہ تھا۔کشادہ راستے اور اطراف میں سبزے سے دمکتے باغات کا سلسلہ،چنار کے درخت،سدا بہار پستہ قامت دیوداروں کی قطاریں،پھولوں کے قطعے،فضا میں فطرت کا حسن اور رنگینی بکھری ہوئی تھی۔
متاثر کن عالیشان عمارتیں تھیں جن میں یقینا ً  مختلف ڈپارٹمنٹ اور فیکلٹیز ہوں گی۔اس وقت شام تھی اور یونیورسٹی تو تقریباً اف ہی تھی۔گیٹ کیپر بڑے خوش مزاج تھے۔مگر انگریزی سے نابلد تھے۔مسکراہٹیں ضرور بکھریں۔کچھ ہماری کچھ اُن کی۔ہاں البتہ کتابوں نے ضرور بتایا تھا کہ یہاں فاتح سلطان محمد نے کچھ وقت اُس محل میں گزارا جو بازنطینی شاہوں کا تھا۔اور اس سے بھی پہلے پانچویں چھٹی صدی میں یہاں روم کے سینٹ پیٹرز کی طرز کا چرچ تھا جس کی تعمیرات ہوئیں۔
ہاں البتہ جب جمہوریت کا آغازہوا۔ دارلخلافہ انقرہ چلا گیا تو بہت سی وزارتوں کے جانے سے اِسے یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا۔
گیٹ کے دربانوں نے رہنمائی ضرور کی مگرمنزل تک پہنچے میں ہم نے مزید کسی سے پوچھنے کا تکلف نہیں کیا۔دراصل پرانے استنبول کے گلی کوچوں میں پھرنا اور بھٹکنا بہت مزے کا کام تھا۔کافی دیر تو ہم یونیورسٹی کی ڈیوڑھی سے باہر اُس پارک میں بیٹھے رہے جو سڑک تک پھیلا ہوا تھا۔یہاں لوگوں کو دیکھنا بڑا دلچسپ شغل تھا۔خوانچے والے سے سمط لیکر کھائے۔قہوہ پیا۔جوڑوں پر تبصرے کیے جو سگرٹوں کے دھوئیں اڑاتے عشق و محبت کی پینگوں میں جُھولے لے رہے تھے۔ چلنا شروع کیاتو کچھ ہی دیر بعدمسجد کے سامنے تھے اور خود سے کہتے تھے تو یہ ہے استنبول کی پہلی شاہی مسجد۔ سڑک پر ٹریفک سگنل کے سامنے اِسے بہت دیر دیکھتے رہے۔ دروازے پر کھڑے کھڑے یہی سوچتے رہے کہ اِس نے کتنے رنگ و روپ بدلے ہیں۔پہلے یہاں کیا کیا تھا؟بازنطینی دور میں سینٹ آپاسٹولی چرچApostoliتھا۔فتح کو دس سال گزر گئے تو سلطان محمد فاتح کو یہاں ایک ثقافتی کمپلیکس اور نماز کیلئے مسجد بنانے کا خیال آیا۔جس کو وہ اپنا نام دینا چاہتا تھا۔ شایدکہیں اس دل میں بازنطینی دور کی عظیم الشان عمارتوں اور گرجا گھروں جیسی خوبصورت یادگاریں بنانے اور مقابلے کی ایک ترنگ بھی ہو۔فاتح مسجد اور فاتح کمپلیکس جو پرائمری مدرسوں،لائبریریوں،شفاخانوں،خیراتی اداروں پر مشتمل تھا۔فاتح کمپلیکس ایک طرح کی پہلی فاتح یونیورسٹی تھی۔

Holy Apostles church


معماروں کے متعلق دو رائیں ہیں۔ایک یونانی نثراد عاتک سنان اور دوسرا یونانی کرسٹوڈولس Christodoulos۔پر تعمیر سے وابستہ جو کہانی ہے وہ کرسٹوڈولس کو نمایاں کرتی ہے۔کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ایک روایت تو یہ ہے کہ کرسٹوڈولس نے مسجد بناتے ہوئے یہ خیال رکھا کہ مسجد کے ستون ایا صوفیہ کے ستونوں سے ہرگز بلند نہ ہوں کہ ایسا کرنا اُس کی ایا صوفیہ سے محبت کا تقاضا تھا۔مگر یہی بات سلطان کی ناراضگی کا باعث بن گئی اور اس نے معمار کے دونوں ہاتھ کٹوا دئیے۔
دوسری روایت کچھ یوں ہے کہ مسجد اور کمپلیکس اتنے خوبصورت تھے کہ سلطان  نہیں چاہتا تھا کہ کوئی دوسری مسجد اس کی برابری کرے۔یوں اُس نے ہاتھ کٹوا دئیے۔
تاہم معمار اس زیادتی پر خاموش نہ رہا اور کیس قاضی کے پاس لے گیا۔بڑا سنگین معاملہ تھا۔قاضی نے مدعی اور مدعی الیہ دونوں کو عدالت میں طلب کرلیا۔دونوں حاضر ہوئے۔سلطان ابھی بیٹھنے کی کوشش کررہا تھا جب قاضی نے اُسے کھڑا رہنے کا حکم دیا۔فوراً تعمیل کی گئی۔مقدمے کی سماعت کے دوران اُسے بتایا گیا کہ اُس نے سنگین غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔اُسے سخت ترین سزا سنائی گئی۔سلطان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ واقعی مجرم ہے اور ہر سزا بھگتنے کیلئے تیار ہے۔
عدالت برخّاست ہونے پر قاضی سلطان کے قدموں میں گرا اور بولا کہ وہ ایسا کرنے پر مجبور تھا کہ یہ اس کے فرض کا تقاضا تھا۔جب وہ جھکا ہوا تھا اس کی آستین سے ایک زہریلا سانپ پھسل کر فرش پر گر پڑا۔سلطان نے حیرت سے پوچھا۔یہ کیا؟بتایا گیا سلطان معظم اگر آپ قانون کی اطاعت نہ کرتے تو اِس سانپ سے آپ کو ڈسوا کر ہلاک کردینے کا پروگرام تھا۔سلطان نے بھی اپنی پوشاک سے تلوار نکالی اور اُسے لہراتے ہوئے بولا۔
”اگر تم بھی مجھے بری الذمہ قرار دیتے تو میں اس سے تمہارا سر کچل دیتا۔“
معمار کو معاوضہ دیا گیا۔یہ بڑا انوکھا معاوضہ تھا۔مسجد سے متصل ایک پوری گلی۔
مسجد سادگی و پُرکاری کا نمونہ تھی۔دراصل اصلی مسجد تو ترکی کے 1766کے بدترین زلزلے میں تباہ ہوگئی۔نئی فاتح مسجد1771میں سلطان مصطفےٰ سوم نے بنائی۔مسجد کا رنگ ڈھنگ تو استنبول کی باقی مسجدوں جیسا ہی ہے۔ہاں البتہ مسجد کے اندر پینے کے پانی کا فوارہ ایک خوبصورت تحفہ ہے کہ گرمی سے پیاسے ہونٹوں اور اندر کو کو اس کے پانی سے جو راحت نصیب ہوئی اُس کا کوئی بدل نہ تھا۔عربی خطاطی خوبصورت تھی۔

Mosaïques de l’entrée sud-ouest de Sainte-Sophie (Istanbul, Turquie)

ڈیوڑھی سے گزر کر ہم اُس جیالے کی آخری گاہ میں داخل ہوئے۔ہم دونوں عجیب سے محسوسات کی زد میں تھیں۔محبت اور عقیدت کے جذبات نے پلکیں بھگو دی تھیں۔انھیں ضرور بھیگنا چاہیے تھا کہ میرے آقا نے بشارت دی تھی۔
ترجمہ:تم فتح کرو گے قسطنطیہ کو۔ مبارک ہے وہ امیر جو اِس شہر کا امیر ہوگا اور مبارک ہے وہ لشکر جو اس کا لشکر ہوگا۔
ماحول میں فسوں سا تھا۔ہشت پہلو گنبد والی چھوٹی سی عمارت جس کی بلندوبالا دیواری کھڑکیوں پر تناشیڈ یا سائبان بڑی انوکھی وضع کا تھا۔ خوبصورت چوبی دروازوں کی دیواریں قرآنی آیات اور طلائی و رنگین نقاشی سے سجی تھیں۔بلند و بالا دیواروں کے اوپری حصّے میں بنی کھڑکیوں سے آتی روشنی اور مزار کے اوپر کِسی پاسبان کی طرح تنے شیلنڈ لئیر سے پھوٹتی شعاعیں سب مل جل کرکمرے میں دودھیا روشنی پھیلا رہی تھیں۔آہنی جنگلے کی موتی  جڑی باڑھ نے مرقد کو محبت سے جیسے سمیٹا ہوا تھا۔سرہانے اُسکا سفید بل دار کلاہ ٹنگا ہوا تھا۔سُرخ قالین پر چلتے ہوئے ہم نے پورا چکر کاٹا۔فاتحہ پڑھی۔ملحقہ تربت میں اس کی شریکِ زندگی گل بہار مٹی کا ڈھیر بنی پڑی تھی۔
یہیں اُس جیالے غازی عثمان پاشا کی بھی قبر تھی جو 1877کی روس ترکی جنگ کا ہیرو تھا۔ رُوس بھی بڑا بدبخت ہے۔ہمیشہ ترکی سے پنگے ہی لیتا رہا۔ بہت دیر تک یہاں رہے۔دعائیں مانگتے کہ ایسے جیالے بطن اسلا م سے پھر کب پیداہوں گے؟
کس قدر تاریخی اور کلاسیکل منظر مسجد سے باہر ہمارے منتظر تھے۔بلند و بالا دروازوں والے بازار دکانوں،رنگوں، حسین چہروں سے بھرے پرے رعنائیاں بکھیرتے نظر آتے تھے۔چلتے چلتے نظاروں سے آنکھیں لڑاتے اور ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں سلطان محمد فاتح کے بارے میں پڑھی گئی باتوں کو ذہن میں لالا کر اسکے مختلف گوشوں پر بحث کا بازاربھی گرم کرتے رہے۔
وہ بہت دلیر،خداداد صلاحیتوں کا حامل،بہترین منتظم،عادل،بہترین فوجی اور جنگی ماہرتھا۔
دو پینٹنگز یاد آئی تھیں جنہیں دولما باشی پیلس میں دیکھا تھا اور جن کے سامنے دیر تک کھڑے بھی رہے تھے۔سفید براق گھوڑے پر سوار اپنے لوگوں کے ہمراہ ایاصوفیہ میں داخل ہورہا تھا۔دوسری 1473 کی جنگ اتلوک بیلی Otlukbeli کی تھی جس کے بارے تاریخ دانوں کا کہنا تھا کہ یہ پندرھویں صدی کی ٹیکنالوجی،مین پاور اور جنگی حربوں کے لحاظ سے سب سے بڑی لڑائی تھی۔جو اس نے لڑی اور فتح یاب ہوا۔ اپنی وفات تک وہ اٹلی کے کچھ حصّوں پر قابض ہوچکا تھا۔
حافظ قرآن تھا۔احادیث میں بڑا مستند،ریاضی اور علم نجوم میں ماہر،عربی،فارسی،لاطینی اور یونانی زبانوں کا ماہر، اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والا خاص طور پر شاعری سے۔
ایسے شاندار انسان نے اپنے سوتیلے چھوٹے بھائی کو مروا دیا تھا۔شاید تخت و تاج کی تاریخ میں ایسا ہونا ضروری ہوتا ہے۔شاید لوح محفوظ میں یہ لکھا جاتا ہے۔شاید حکمرانوں کیلئے ایسی سوچ رکھنا منفی اور ظالمانہ نہیں سمجھا جاتا۔تاہم اُس نے اپنی اس سوچ کو قانون بنایا کہ سلطان کے جانشین بیٹوں کو اپنی حیثیت مظبوط اور مستحکم بنانے، سلطنت کو ریشہ دوانیوں،شازشوں اور رقابتوں سے بچانے کیلئے اپنے بھائیوں کو مار دینے کا اختیار ہوگا۔
کیا کہیں اس کے دماغ میں حضوراکرمؐ کی اُس حدیث سے متعلق کوئی ابہام تھا کہ جس کے بارے روایت ہے کہ ایک بار آپؐ نے فرمایا تھا کہ بنی اسرائیل پرنبی حکومت کرتے تھے۔ایک دنیا سے رُخصت ہوتا تو دوسرا اُس کی جگہ لے لیتا تھا۔لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ہاں البتہ حکمران ہوں گے اور بہت ہوں گے۔یہاں آپؐ سے سوال ہوا کہ اِس ضمن میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا پہلے کے ساتھ عہد اطاعت کو پورا کرو۔پھر اس کے ساتھ جو اُس کے بعد پہلا ہو۔
یہاں ایک دوسری روایت کا حوالہ بھی ملتا ہے کہ جب دو حکمرانوں کی بیعت کا مسئلہ کھڑا ہوجائے اور مملکت میں فساد اور انتشار پھیلنے کا ڈر ہو تو دوسرے کو قتل کردینا واجب ہے۔
ایسا حکم تو معاشرے کو انتشار سے بچانے کے سلسلے میں تھا۔وہ بھی کہ اِس صورت میں کہ اگر فریق ثانی کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں اور وہ فتنہ وفساد برپا کریں۔
یہاں صورت یقینا مختلف بھی ہوسکتی تھی۔ سلطان کو ایک لحظہ کیلئے یہ خیال نہ آیا کہ جانشین بیٹے کے علاوہ اُس کے بقیہ بچوں میں سے کوئی اور بھی بہت ارفع صلاحیتوں کا حامل ہوسکتا ہے جو توڑ جوڑ اور شازشوں کی سیاست سے تخت نشین ہوکر نامزد سے زیادہ بہتر حکمران ثابت ہو سکتا ہے۔

Tomb of Sultan Muhammad Fateh(1)

ایک اور خدشے نے بھی ہمارے اندر سے سراٹھایا تھا۔وہ شہرہ آفاق بدنام زمانہ اطالوی مفکّر میکاولی بھی تو کہیں آگے پیچھے اسی دور کی پیداوار تھا۔اُس کی وہ شہرہ آفاق کتاب”The Prince” تو کہیں اُسنے نہیں پڑھی؟اور یہ میکیا ولین ہتھکنڈے اُس نے وہاں سے تو نہیں سیکھے تھے کہ جس کے مطابق سیاست کا کوئی مذہب نہیں،اس کی کوئی اخلاقیات نہیں،اُس کے کوئی اصول نہیں۔

اب ہم دونوں نے تاریخ سے ڈھیروں ڈھیر مثالیں نکال کر اُسے بری تو کردیا تھا۔ مگر یہ وہ قبیح برائیاں تھیں جنہوں نے آگے چل کر سلطنت کو بہت نقصان پہنچایا۔اب ہمارے پاس کہنے کیلئے بس صرف ایک جملہ تھا۔
رموزِ مملکت داند خسران

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *