مرگی کے دو حیران کن علاج۔۔۔۔۔ضیغم قدیر/ہیلتھ بلاگ

1:-آدھے دماغ والے لوگ
مرگی دراصل دماغ میں اچانک سے پیدا ہونے والے دوروں کو کہا جاتا ہے جس میں ہمارا دماغ کنٹرول نا ہونے والے الیکٹرک سگنلز ریلیز کرنے لگ پڑتا ہے۔جسکے نتیجے میں مریض کو دورے پڑتے ہیں۔
یہ تو ہوگی عام معلومات جسکا ہر کسی کو علم ہے لیکن آج ہم مرگی کے دو حیران کن علاجات کا ذکر کریں گے۔جن میں سے پہلا علاج ہیمی سفئیر کاٹمی ہے جسے ہم اردو میں آدھے دماغ کو نکال دینا بھی کہہ سکتے ہیں۔
اس طریقہ علاج میں مریض کا ایک سیریبرل ہیمی سفئیر کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے جوکہ مرگی کے دورہ جات کا باعث بنتا ہے۔سیریرم ہمارے دماغ کا سب سے بڑا حصہ ہے جوکہ شارٹ ٹرم میموری اور پرسنالٹی ڈیلوپمنٹ کیساتھ ساتھ جسم کے حصوں کو تحریک دینے کا بھی باعث بنتا ہے۔جیسا کہ دائیں حصہ ہمارے جسم کے بائیں حصے کو اور بائیاں حصہ ہمارے جسم کے دائیں حصے کو کنٹرول کرتا ہے۔
سیریبرل کاٹمی میں جب ایک ہیمی سفئر کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے تو بہت سے سوال اٹھتے ہیں جیسا کہ آیا سیریبرل ہیمی سفئیر کاٹ کر نکال دینے کے بعد مریض کی پرسنالٹی وہی رہے گی جو پہلے تھی؟ یا پھر پرسنالٹی بدل جاۓ گی؟ مطلب کہ کیا میں وہی ضیغم ہوں گا جسکا مجھے علم ہے یا کوئی نیا ضيغم بن جاؤں گا جسکو ایک دماغی حصے نے Suppress کرکے رکھا ہوا تھا؟
اس ٹیکنیکل سوال کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے کیونکہ ہم انسانی پرسنالٹی کے بارے میں کافی محدود علم رکھتے ہیں۔اور نیورو سائنس جتنا وسیع علم کہیں بھی نہیں ہے۔
اس سوال کا جواب کب مل پاۓ گا اس بات کا تو علم نہیں لیکن تب تک ایک اور نئے علاج کا ذکر کرتے ہیںاس علاج کو سر قدیر قریشی نے میری پوسٹ پہ ذکر کیا تھا۔
2:-ڈبل پرسنالٹی والے لوگ
ایسے مریض جن کو مرگی کے شدید دورے پڑتے ہیں اور ان دوروں کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ دماغ کے ایک حصے میں پیدا ہونے والے مرگی سے سگنل corpus callosum کے ذریعے دوسرے نصف کرے میں جا کر دونوں حصوں کو ناکارہ کر دیتے ہیں-
یاد رہے corpus callosum دماغ کی وہ شاہراہ ہے جس سے دونوں نصف کرے ایک دوسرے سے انفارمیشن کا تبادلہ کرتے ہیں-
ایسے مریضوں کا ایک علاج یہ ہوتا ہے کہ corpus callosum کو کاٹ دیا جائے تاکہ ایک حصے میں پیدا ہونے والے مرگی کے سگنلز دوسرے حصے میں نہ جا سکیں- اس سے ان مریضوں کی مرگی کے دورے تو کنٹرول ہو جاتے ہیں لیکن دماغ کے دونوں نصف کرے دو مکمل شخصیت بن جاتے ہیں-
آپس میں کمیونیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخصیتیں وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے مختلف ہونے لگتی ہیں اور کئی دہائیوں بعد دو بالکل مختلف شخصیتیں بن جاتی ہیں جن کی پسند ناپسند، عادات و اطور حتیٰ کے مذہبی رجحانات بھی مختلف ہو جاتے ہیں- ایسے مریض بھی دیکھے گئے ہیں جن کا ایک نصف کرہ مذہبی جب کہ دوسرا نصف کرہ مذہب کا انکاری ہے-
تو جناب یہ تھے مرگی کے دو حیران کن علاج۔دعا ہے ایسی بیماری کسی کو بھی نہ  ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *