ریڈ لائن کراسنگ سے لیکر جبری گمشدگی تک — بلال شوکت آزاد

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ وہ برطانیہ میں بیٹھ کر موجودہ ملکہ سے بسم اللہ کرے اور اس سلسلے میں پہلی کڑی تک ہر شاہی فرد اور بالخصوص سابقہ ملکاؤں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ بھارت میں بیٹھ کر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگا سکے اور بھارتی ہندوؤں اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ اسرائیل یا یورپ و امریکہ میں بیٹھ کر ہولوکاسٹ کی بات اور تعریف کرسکے اور یہودیوں کے اس جھوٹ پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ ایران میں بیٹھ کر صحابہ رض کا نعرہ لگا سکے اور ایرانی اکثریتی مسلکی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ میکسیکو میں بیٹھ کر امریکہ زندہ آباد کا نعرہ لگا سکے اور میکسیکن عوام جبکہ جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ سعودیہ عرب میں بیٹھ کر ایران زندہ آباد, بادشاہ مردہ باد کا نعرہ لگا سکے جبکہ سعودی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ برما میں بیٹھ کر اسلام کا نعرہ لگا سکے اور برمی بدھ بھکشوؤں اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ چین میں بیٹھ کر کسی بھی مذہب بالخصوص اسلام کا کمیونزم کے مقابلے میں نعرہ لگا سکے اور چینی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ جنوبی کوریا میں بیٹھ کر امریکہ زندہ آباد کا نعرہ لگا سکے اور کورین عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ تھائی لینڈ میں بیٹھ کر موجودہ یا سابقہ کسی بادشاہ کے خلاف نعرہ یا لگا سکے یا اشارتاً بھی بات کرسکے یا تھائی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ روس میں بیٹھ کر امریکہ زندہ آباد اور روس مردہ آباد کا نعرہ لگا سکے اور روسی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

اور  کیا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے کہ امریکہ میں بیٹھ کر جہاد, اسلام کی بات کرسکے آزادانہ اور موجودہ و سابقہ امریکی صدور کی اسلام کش پالیسیز پر تنقید کا نعرہ لگا سکے اور امریکی عوام اور جمہوری حکمرانوں پر حرف تنقید لکھے یا بولے, تضحیک کا تو لیول ہی بعد میں شروع ہوتا ہے۔

کوئی اگر کہتا ہے کہ ہاں تو اسے کسی نفسیاتی ع معالج  کی اشد ضرورت ہے اور فی الفور ضرورت ہے ورنہ ہر ذی شعور اور صاحب علم اور صحافت و قانون کا طالبعلم جانتا ہے کہ اوپر مذکورہ ممالک میں مذکورہ حرکات و سکنات اور اظہارات دراصل ان مذکورہ ممالک میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ریڈ لائنز ہیں اور اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں ریڈ لائنز موجود ہیں جن کو کراس کرنے پر جو کم سے کم سزا ہے وہ بغیر اطلاع اٹھوانا ہی ہے اور بعد از جبری گرفتاری 99% ماورائے عدالت قتل ہی آخری سزا ہے جبکہ جو ایک فیصد عدالت میں پیش ہونے پر بچتے ہیں وہ بھی خال خال تو وہ نفسیاتی مریض بن کر نکلتے ہیں۔

اقوام عالم میں ریڈ لائنز زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔۔۔۔

یہ جن ممالک کا ذکر میں نے کیا وہاں پر مذکورہ باتیں اور اظہار دراصل شدید اور ناقابل مواخذہ جرم ہیں جن کو غداری کے ایکٹ کے تحت دیکھا, سنا اور فیصلہ دیا جاتا ہے پر ایسی نوبت تب آتی ہے جب بندہ عدالت تک پیش کیا جائے جبکہ ماورائے عدالت قتل اور گمشدگی میں ان ممالک کے اداروں کا وقت اور میڈیا ٹرائل وغیرہ سے ہونے والے  سردرد سے  بچ جاتا ہے۔

دیکھو یار پاکستانی دانشورو, تمہیں فوج سے شکوے شکایات ہیں تو ضرور ان کو ریکارڈ پر لاؤ اور احساس دلاؤ متعلقہ ادارے کو پر صرف خالی خولی باتوں سے نہیں بلکہ مستند دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ اور بار بار بتاؤ لیکن تنقید اور تنقیض و تضحیک کا فرق واضح رکھو کیونکہ جب تم تنقید کرتے کرتے تنقیض اور تضحیک کی روش اپناتے ہو تو تم موضوع سے ہٹ جاتے ہو اور تمہارا خبث باطن اور بغض چھلکنا شروع ہوجاتا ہے اور اسی جذباتی سٹانس میں تم کب کوئی ممنوعہ حد مطلب ریڈ لائن کراس کرجاتے ہو تمہیں کوئی خبر نہیں ہوتی پر باخبر اداروں کو ہوجاتی ہے اور وہ پھر جب ایکشن لیتے ہیں تب تم ایسے خود کو اور اپنے دوستوں کو پیش کرتے ہو جیسے تمہاری پیدائش ہی ابھی ابھی ہوئی ہے اور تم بہت مظلوم ہو۔

یہاں پر مطلب پاکستان میں ریڈ لائنز کیا ہیں؟

ختم نبوت ص پر تنقید و تضحیک, گستاخی رسول ص, مسلکی منافرت, عصبی و لسانی منافرت, اعلانیہ ملک سے غداری کی باتیں, قومی ہیروز پر تنقید و تضحیک اور قومی اداروں کو للکارنا و قوم میں بغاوتی نظریات کو پروان چڑھانا۔

کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کی دانشوری ان ممنوعات میں داخل ہو اور آپ سے مواخذہ نہ کیا جائے؟

سرکار آپ کے پاس ڈھیروں ڈھیر معاشرتی و علمی اور سیاسی موضوعات ہیں جن پر آپ روز اور ساری زندگی بھی لکھیں تو یہ ختم نہ ہوں پھر کیوں آپ کو کوئی انجانی و نادیدہ شہ اکساتی رہتی ہے کہ آپ نو انٹری میں داخل ہوں؟

اگر جبری گمشدگیوں سے آپ کی اتنی ہی جان نکلتی ہے اور آپ کو یہ پسند نہیں تو اپنی حدود و قیود سے تجاوز مت کریں نا۔دنیا کے ہر ملک میں جو ریڈ لائنز متعین ہیں ان کی خلاف ورزی پر وہ ملک بھی پھولوں کا ہار نہیں پہناتے اور آزادی اظہار رائے کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں جن سے آپ سراسر نابلد ہیں اور بنے پھرتے ہیں چیمپئنز۔

پاکستان میں بلا مبالغہ اور آن ریکارڈ یہ بات موجود ہے کہ پاکستان دنیا کے سوکالڈ مہذب ممالک سے زیادہ عوام کو آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے لیکن برداشت کی بھی کوئی ایک حد ہوتی ہے جس کو کوئی چیلنج کرے گا تو پھر بھگتے گا اور ہم اداروں کے اس قدم پر انہیں تنقید کا نشانہ نہیں بناسکتے اخلاقی طور پر بھی اور بہت حد تک قانونی طور پر بھی کہ ہمارے ملک میں 90 روز کے لیئے بغیر اطلاع گرفتاری کا قانون بھی موجود ہے۔

بہرحال ریڈ لائنز کی کراسنگ کا اختتام پھر جبری گمشدگی نہ نکلے تو اور کیا نکلے؟

رہنمائی درکار ہے پر یاد رہے میں اقوام عالم کی بات کررہا ہوں صرف پاکستان کی نہیں۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *