کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 33

ایک ناد ر الوجود ڈکشنری

لیکن اس سے پہلے کہ میں امریکہ  اور کینیڈا میں نقل مکانی کے بعد کا ”آلاپ“ شروع کروں، مجھے انگلستان میں اپنے ڈیڑھ دو برسوں کے قیام کے دورانیے  کو ایک نظر دیکھنا ہے کہ اس نے میرے دماغ کے کن خلیوں کو پرانے عنکبوتی جالوں سے صاف کیا اور کیسے یہ ممکن ہوا کہ میں اردو ادب کوایک نئے حوالے سے دیکھ کر ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کروں، حال کو سنوارنے کا جتن کروں اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کروں۔یہ موقع مجھے امریکہ میں ہجرت سے پندرہ برس پہلے ہی مل گیا تھا۔ برٹش اوپن یونیورسٹی ملٹن کینز میں ریذیڈنٹ اسکالر کے لیے جو دعوت نامہ مجھے موصول ہوا، اس پر مجھے حیرت بھی نہیں ہوئی تھی  کہ اس کی بنیا د تو شاید اسی دن رکھی گئی تھی، جس دن مواصلاتی طرز تعلیم پرمیری کتاب University Without Walls چھپی تھی اور ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں نے میری کتاب کو اس مخصوص نظام تعلیم کے لیے انجیل تسلیم کر کے اپنے اپنے کیمپسوں پر یہ شعبہ جات کھولنے کی تجاویز کو نافذ کیا تھا۔ ہندوستان میں ایک کے بعد ایک یونیورسٹی نے مجھے دعوت بھیج کر اپنے اپنے کیمپس پر بلا کر اس جدید طرز تعلیم کی Curriculum Planning and Course Designingکے لیے میرے اختصاص سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اس لیے جب انگلستان کی اس یونیورسٹی نے (جسے انگلینڈ کی پارلیمنٹ کی طرح ہی Mother of Distance Education کہا جانے لگا تھا) مجھے دعوت دی تو میں اپنا بوریا بستر باندھ کر فوراً جا پہنچا۔

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط32
یہ تو تھی میرے وہاں پہنچنے کی وجہ تسمیہ، لیکن ایک بار جب میں پہنچ گیا، مجھے دو کمروں پر مشتمل ایک گھر مل گیا اور میں نے کالے رنگ کی (یہ رنگ مجھے بہت مرغوب ہے) ایک پرانی مارس مائینر گاڑی خرید لی، تو مجھے جیسے پر لگ گئے۔ ہر دوسرے تیسرے دن میں لندن میں انڈین ہائی کمیشن میں پہنچا ہوا ہوتا جہاں  سٹاف میں آئی ایف ایس (انڈین فارن سروس) کے دو ایسے دوست تھے جو کسی زمانے میں ایم اے انگلش میں میرے ہم جماعت رہے تھے۔ ان کی وجہ سے ہی مجھے انڈیا ہاؤس میں پرانی کتابوں، مخطوطات اور کمپنی بہادر کے وقت سے لے کر آزادی تک کے سرکاری ریکارڈز  تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوئی اور میں بہت  سے  کام ایسے  کر سکا  جو شاید   انڈیا میں رہ کر نہیں کر سکتا تھا۔نتیجے میں ہندوستان واپس پہنچنے کے بعد میری دو کتابیں ایسی چھپیں، جو شاید اگر میں انڈیا ہاؤس لائبریری سے متعلقہ مواد کے نوٹس نہ لیتا، جو وہاں ہی موجود تھا (یعنی اور کہیں نہیں تھا) تو نہ چھپ سکتیں۔ یہ تھیں:
1.The Asian Identity: Studies in Asia’s Unity and Diverstiy. Sameer Prakashan. 1978
2. Great Testaments of India’s Freedom Struggle.
Sameer Prakashan 1979

ا س کے علاوہ فورٹ ولیم کالج، کلکتہ کے بارے میں کاغذات، مخطوطات اور لندن سے چھپنے والی نیوز لیٹر East India Times (last published 1770.) کے دریدہ شماروں سے ایک ایسی ڈکشنری کے ہونے کا پتہ چلا، جس کا علم اردو کے ان تاریخ نگاروں کو بھی نہیں تھا (جنہوں نے فورٹ ولیم کالج کے حوالے سے اردو اور ہندی کے تنازعوں پر کام کیا تھا)۔ جب یہ ڈکشنری مجھے ایک rare books کے دکاندار سے پچیس پاؤنڈ میں مل گئی، تو جیسے مجھ پر ایک نئی دنیا کا ظہور ہوا۔
(ایک ذاتی حوالے کی طرح یہ تحریر کرنے میں مجھے کوئی تامل نہیں کہ جب میں نے اس ڈکشنری کا وہ نسخہ جمیل جالبی صاحب کو ٹورونٹو میں دکھایا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر اس کے پیش لفظ سے وہ سطریں پڑھ کر سنائیں جن سے یہ یقین ہوتا تھا کہ گلکرسٹ کی دو جلدوں پر مشتمل ”انگریزی ہندوستانی لغت“ کا بیشتر مواد اگر سرقہ نہیں تھا، تو در پردہ ایک ایسی ڈکشنری سے ماخوذ تھا، جس کا حوالہ دینے میں وہ ناکام رہا۔ تو ڈاکٹر جمیل جالبی انگشت بدنداں رہ گئے اور انہوں نے افسوس کے لہجے میں مجھے یہ کہا  کہ ڈکشنری کا یہ نسخہ جو آپ کے پاس ہے، ہم لوگوں کے ہاتھ لگ جاتا تو آج اردو کی لسّانی تاریخ کچھ اور ہوتی)

یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا، لیکن میں اس بارے میں کچھ تفصیل سے لکھنے کا جوکھم اٹھاتا ہوں۔ یہ ڈکشنری جنرل ولیم کِرک پیٹرک General William Kirkpatrickکی زیر تدوین کاوش تھی، جس کا ٹائٹل Dictionary – Hindoostani And English تھا۔ یہ کام نا مکمل رہا اور اس کو جب میجر جوزف ٹیلرMajor Joseph Taylor نے ہاتھ میں لیا تو کچھ برسوں تک گلکرسٹ بھی اس کے ساتھ شریک کار رہا۔(یہ امر اردو محققین کی نظروں سے اوجھل رہا۔ شاید اس لیے کہ کسی نے بھی انڈیاہاؤس لائبریری میں بیٹھ کر ورق گردانی کی زحمت گوارا نہیں کی)،میجر جوزف ٹیلر کی ڈکشنری Quarto Edition لندن  سے شائع تو 1808ء میں ہوئی لیکن ایک شریک کار کے طور پر اس کا بہت سا مواد گلکرسٹ اپنی ”انگریزی ہندوستانی لغت“ کے 1790ء میں شائع ہونے سے کئی برس قبل تک اپنے پاس جمع کرتا رہا۔

”ہندوستانی ٹُو انگریزی ڈکشنری“ سے ایک لغت نویس اپنی ”انگریزی ٹُو ہندوستانی ڈکشنری“کے لیے مواد کیسے اخذ کر سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔اور اس کا کچا چٹھا میرے ایک مضمون میں موجود ہے، جو مقتدرہ پاکستان کے جریدہ میں شامل اشاعت ہو چکا ہے۔ پیشے سے طبیب ہونے کے باوجود گلکرسٹ نے لغت نویسی میں تو  وہ کمال حاصل کیا، جس کی مثال ملنا مشکل ہے، لیکن ایسا کرتے ہوئے اس نے جنرل کرک پیٹرک اور میجر جوزف ٹیلر دونوں کے جمع شدہ مواد سے ہو بہو سرقہ کر لینے کی حد تک استفادہ کیا، لیکن اردو کے محققین نے اس طر ف توجہ نہیں دی۔

اب اس راز کو افشا ہوئے بھی کئی برس ہو چکے ہیں لیکن خدا جانے ہم لوگ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں، کسی پاکستانی یا ہندوستانی محقق نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ صرف ناصر عباس نیر صاحب نے اپنے ایک مضمون میں مقتدرہ کے رسالے میں شائع ہوئے میرے مضمون کا حوالہ دیا ہے۔ دو سو برس پہلے کی چھپی ہوئی اس ڈکشنری کی ایک جلد میرے پاس اپنی خستہ و دریدہ حالت میں موجود ہے۔ اگر موقع ملا اوراس عمر میں قضا نے مجھے مہلت دی تو میں حواشی کے ساتھ اس کا نیا ایڈیشن اپنے خرچ پر ہی شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔

جاری ہے۔۔۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 33

  1. آپ کی تحریروں میں زبان و بیان کی لطافت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہماری ادبی تاریخ کے حوالے سے حیرت انگیز معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں آپکے لہجے میں محبت اور اخلاص کا عنصر نمایاں ہے آپ اپنے قاری سے بے تکلفی سے بات کرتے ہیں سچائی اور درویشی آپکی تحریروں کے بنیادی ستون ہیں اسی لئے االلہ اور بھگوان دونوں کو آپ پر فخر ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *