ایک رخصت ہوتے حیف جسٹس کی یاد میں ۔۔۔ معاذ بن محمود

دل پرسکون بے سکون ہے۔ ذہن بے فکر فکر میں گم ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کا کیا بنے گا؟ اب ناانصافی انصاف کی رکھوالی کون کیا کرے گا؟ فوج عوام کے حقوق کا محافظ کون بنے گا؟ یقین ہے فوجیوں آئین نے یقیناً اس قسم کی گھٹیا عظیم خدمات سرانجام دینے والے کسی اور کم ظرف کو رکھا ہوا ہوگا جس کے ذمے آئیندہ آئین و قانون میں خیانت امانت داری کا کام لیا جائے گا۔ حیف جسٹس حال ہی میں ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے ہیں۔ امید ہے اب تک ان کی بدنیتی شریانوں کی چربی ختم ہوچکی ہوگی۔ وہ یقیناً اب نہایت ہی سکون میں ہوں گے اور اگلے کرتوتوں کارناموں کی تیاری پکڑ رہے ہوں گے۔

حیف جسٹس کو کئی گھٹیا عظیم حرکتوں کارناموں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ بدانصافیوں منصفی کا ایک حزیں عظمت سے بھرپور دور تھا جو تمام ہونے کو ہے۔ بابر اعوان کی جانب سے توہین عدالت ہو یا طلال چوہدری کی جانب سے ناانصافی عدلیہ کے بارے میں حقائق بے بنیاد الزامات، حیف جسٹس کو ریاست کا غنڈہ محافظ ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ حیف جسٹس کے فیصلے اس قدر لغو جاندار ہوا کرتے تھے کہ آنے والی نسلوں تک ردی سر آنکھوں پر رکھے جائیں گے۔ حیف جسٹس کی خرافات کے اقوال زریں سیاہ سونے کی روشنائی سے لکھے جائیں گے۔

رخصت ہوتے حیف جسٹس وہ نامعقول مایہ ناز شخصیت ہیں جنہوں نے عدالتوں کو مکمل نظر انداز کر کے ہسپتالوں کے سرکاری دورے شروع کیے۔ آج سے پہلے کسی بھی حیف جسٹس کو انصاف کے علاوہ کسی میدان میں پائے جانے والے برے حالات کا ادراک نہ تھا۔ یہ رخصت ہوتے حیف جسٹس ہی تھے جنہوں نے پہلی بار عدالتوں کو بھاڑ چولہے میں پھینک کر سے ہٹ کر ہسپتالوں، بس سٹیشن، جیل خانہ جات، پبلک ٹوائلیٹ، کچرے دان وغیرہ پر پوری توجہ مرکوز رکھی۔ یوں جانے والے حیف جسٹس انشاءاللہ عدالتوں کے علاوہ ہر جگہ یاد رکھے جائیں گے۔

حیف جسٹس کی جانب سے انصاف چھوڑ کر ملک بھر میں ناپید ہوتے پانی پر خصوصی توجہ لینا ایک احمقانہ لائق تحسین عمل رہا۔ پانی کی کمی آج کل ہر انسان کا اہم مسئلہ ہے۔ بڑھتی عمر وقت کے ساتھ یہ مسئلہ مزید سنگین توجہ  حاصل کر لیتا ہے کیونکہ پانی کا مطلب زندگی ہے۔ حیف جسٹس نے ڈیم بنانے کے لیے غریب سرکاری ملازمین سے لے کر ملک ریاض جیسے ریاستی بادشاہ امیر تک سے پیسے چھینے کاٹے۔ بڑھتی عمر میں پاکستان کی تاریخ میں پانی کی اس کمی سے پیدا ہونے والی سنجیدگی بھلا اور کس نے کب محسوس کی؟

حیف جسٹس انصاف کے نام پر دھبہ علم بردار رہے۔ وہ ہمیشہ تمام شہریوں کے ساتھ امتیازی یکساں و مساوی سلوک پر زور دیتے۔ حیف جسٹس اقلیتوں کے بارے میں اس قدر متعصب محتاط تھے کہ ایک خاص اقلیت کا نام لینا گوارا نامناسب سمجھتے تھے۔ میں چونکہ حیف جسٹس کی تمام حرکات کا مقلد ہوں لہذا میں اس اقلیت کا نام لینا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔

حیف جسٹس کی جانب سے پاجامہ پانامہ کیس کا فیصلہ تاریخ میں سیاہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس کیس میں گویا حیف جسٹس میاں برادران کے پاجامے پانامہ میں موجود اثاثوں کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئے۔ الحمد للّٰہ حیف جسٹس نے وہ اثاثے بھی ثابت کر دیے جن کو اثاثہ ماننے کے لیے قانون میں الفاظ تک نہ تھے۔ حیف جسٹس قانون کے اس قدر بڑے بدنیت محافظ تھے کہ انہوں نے نواز شریف جیسے چور کو سیاست بدر کرنے کے لیے باہر کتاب سے الفاظ و تعریفات مستعار لیں۔ گھٹیا اتفاق دیکھیے کہ اس کتاب کا نام بھی بلیک  ڈکشنری تھا۔

حیف جسٹس کی جانب سے ایک کسی مخصوص جانب کے لئے ہمیشہ کبھی جانبداری دیکھنے میں نہ آئی۔ تاریخ کے پنوں میں حیف جسٹس  کا نام ہمیشہ  سیاہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہماری دعا ہے کہ آنے والا حیف جسٹس مکمل طور پر آزاد ہو اور موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے غنڈوں کسی کے زیر اثر نہ ہو۔( ہسپتال سے)  ڈسچارج ہونے کے بعد جانے والے حیف جسٹس کو ہمارا سیاہ سلام۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایک رخصت ہوتے حیف جسٹس کی یاد میں ۔۔۔ معاذ بن محمود

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *