چور دروازے۔۔۔۔ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ

‎او جاہل عورت یہ روٹی پکائی ہے تو نے، کیا کبھی ماں باپ کے گھر بھی کچھ پکایا تھا کہ بس مانگ تانگ کے ہی کام چلاتے رہتے تھے تم لوگ، فقیروں کی اولاد۔۔۔

شیخ صاحب جن کی خوش اخلاقی کا ایک زمانہ معترف تھا اس وقت منہ سے کف اڑاتے اپنی زوجہ سے مخاطب تھے، جن کی کبھی شوہر تو کبھی ساس کے ہاتھوں اکثر ہی عزت افزائی ہوتی ہی رہتی تھی،وہ بی اے پاس سلیقہ مند اچھے گھرانے سے تھیں مگر اس نصیب کا کیا کرتیں جس نے انھیں شیخ صاحب جیسے احساس کمتری میں مبتلا شخص کے قدموں میں لا پھینکا تھا۔

‎شیخ صاحب یوں تو اعلیٰ تعلیم یافتہ، برسر روزگار انسان تھے جن کی   مہمان نوازی دوستوں میں ضرب الامثال بنی ہوئی تھی ، مگر عجیب سی بات کہ انکا خاندانی پس منظر کچھ اتنا اچھا نہیں تھا ، اس کے برعکس انکی بیوی کا خاندان بہت اعلی تھا، بس یہیں آکے وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے تھے اور شاید اس احساس کمتری سے نکلنے کا جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا کہ جتنا ہو سکے بیوی اور اس کے خاندان کی تذلیل کی جائے، یہ سوچے بغیر کہ بچوں پہ اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے انکی شخصیت میں کوئی کمی رہ جائے گی، وہ اپنی ڈگر پہ چلے جارہے تھے یہ سوچے بنا کہ انکی بیوی بھی ایک انسان ہے اور سب انسانوں کی طرح انھیں بھی محبت کی ضرورت ہے، وہ لب سیے ان کی مغلظات سنے جاتیں ۔۔

‎آج کی دھلائی کے بعد ایک عجیب بات ہوئی ۔۔شیخ صاحب اپنا غبار نکالنے کے بعد دوستوں کی محفل میں شرکت کے لئے جاچکے تھے، بچے اپنا ہوم ورک کررہے تھے، چھوٹا بچہ سو چکا تھا، بیگم شیخ اب آزاد تھیں جی بھر کر رونے کُرلانے کے لیے، مگر آج انھوں نے شیخ صاحب کے جانے کے بعد اٹھ کے دروازے بند کئے ، لائٹس آف کیں اور بچوں کو سونے کی ہدایت کرکے اپنے کمرے میں آگئیں ۔
‎کافی دنوں سے ایک نمبر مسلسل ان کو تنگ کررہا تھا، تنگ بھی کیا اظہار محبت کررہا تھا، انھوں نے اس کی بات کبھی سنی ہی نہ تھی، مگر آج انھوں نے موبائل اٹھا کے وہی نمبر نکالا اور اس پہ بیل دے دی۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *