• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب۔۔۔ڈاکٹر شگفتہ حسین،کھلکھلاتی دانشور/صدف مرزا

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب۔۔۔ڈاکٹر شگفتہ حسین،کھلکھلاتی دانشور/صدف مرزا

ملتان سے ڈاکٹر انوار اور قاضی عابد کے شناسا چہروں کے علاوہ ڈاکٹر شگفتہ کی صورت میں ایک موسم بہار کا جھونکا بھی شامل تھا۔

ویسے تو عابد سیال نے جو ملتان کے شناختی کارڈ کی نشانیوں میں ایک ناقابل بیان ظرافت کا اضافہ کیا۔اس نے دوستوں کو کھلکھلانے پر آمادہ کیے رکھا۔

بہر کیف…
بات ہو رہی تھی ڈاکٹر شگفتہ کی شگفتگی اور بزلہ سنج مزاج اور بر جستگی کی ۔۔پہلے دن تو رسمی تعارف ہوا۔ہم نے بھی دو جملوں میں اپنا تعارف نمٹا دیا۔۔

“صدف ہوں اور ڈینش لٹریچر پر کام کر رہی ہوں۔۔۔”

اس کے بعد ہمیں دو باتوں کی دلی مسرت تھی۔۔ایک بر وقت ،طویل سفر۔۔ ملتوی فلائٹس،تاخیر کے باوجود  سامان نہ  ملنے کے باوجود  ہم یونیورسٹی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

دوسری اپنے دیرینہ دوستوں سے ملاقات ایسے ہی تھی جیسے عرصہ  دراز کے بعد اہل خانہ کی زیارت۔

سو مسلسل جملے بازی اور شوخ وشنگ حملے جاری تھے۔۔ سرحدی جھڑپوں کی گولی پٹاخوں کی طرح مسلسل ہنسی کی کھنکھناہٹ قہقہے کی بازگشت کی صورت ہال میں چکراتی پھر  رہی تھی۔

اگلے دن ہمیں جس اجلاس کا ” بھرتی کا اتفاقی ” مہمان خصوصی بننے کا اعزاز نما حکم ملا….

اس میں ڈاکٹر شگفتہ کا دلکش تحقیق پر مبنی مقالہ شامل تھا جس میں فرائڈ کا تذکرہ اور اس کے معاصرین کا بھی ذکر تھا.

ڈاکٹر کیومرثی.، ڈاکٹر جیلانی ڈاکٹر ویسلر .،ڈاکٹر نجیب جمال اور سعودیہ سے ہمارے معروف شاعر و خطاب محمد مختار۔۔۔سب صاحب علم و صاحب ذوق احباب شامل تھے۔

مجھے یہ خبر نہیں تھی کہ آخر میں مہمان خصوصی کو تاثرات بھی پیش کرنے ہیں۔

وہ تو بھلا ہو ڈاکٹر شگفتہ کا جن کے دلچسپ مقالے نے مجھے بیدار رکھا… اسی پر میں نے مختصر رائے پیش کی۔۔اور ڈاکٹر انوار صاحب کا مقالہ ظاہر ہے کوزے میں بند سمندر تھا۔۔ اس پر چند جملے عرض کیے۔

اجلاس کے بعد چائے کا پیالہ بنانے کی تیاری میں تھی کہ ڈاکٹر شگفتہ نے بغیر کسی سیاق و سباق اور تمہید کے اپنی بے لاگ رائے کے ساتھ مجھے آ لیا۔۔

” بات سنو۔۔میں تو تمہیں کسی یونیورسٹی کی کھلنڈری سی لڑکی سمجھی تھی  جو بس مشاعرہ وغیرہ پڑھنے آئی ہو گی۔۔”

ہائیں ۔۔۔۔۔

اتنی بے تکلفانہ رائے۔۔۔۔ وہ بھی سرِ عام۔۔
سنبھلنے کا موقعہ دئیے بغیر.۔۔

میں نے دو چمچ چینی کے ساتھ بنائی چائے کا گرما گرم گھونٹ بھرا۔

اچھا۔۔ تو اب آپ کی رائے بدلی ہے
میں بدلی ہوں  یا آپ ۔۔۔ از سر نو مفروضہ قائم کریں گی۔۔۔؟

جواب میں وہ خوش دلی سے ہنس دیں۔۔پھر آرام سے بولیں

نہیں ۔۔میری رائے تمہاری مختصر ” تقریر” نے بدلی ہے۔
مغربی ادب پر اتنی گہری نظر اور کسی مقالے کو سن کر فوری کلیدی نکات تک رسائی۔۔بہت متاثر کن، بلکہ مرعوب کن بات ہے۔

ان کی صاف گوئی،صاف رائے۔۔۔پہلے تاثر کا بے لاگ اظہار  اور قدرتی  مزاج میں گندھی شوخی نے رات تک ہمیں دو ایسی طالبات بنا دیا تھا  جو کمرہ جماعت میں  جانے کی بجائے باہر چھپی ایک دوسرے کو داستانیں سناتی ہیں۔

پنجابی زبان کا سنسناتا، کڑکڑاتا بگھار اور پھر ہنسی کی پھلجھڑیاں رہتی کسر ڈاکٹر نبیلہ کی بظاہر بے حد سنجیدہ شخصیت کے شوخ ادب میں گندھے پنجابی اشعار کے جملوں نے پوری کر دی۔

اوپر سے اتفاق یہ ہوا کہ ڈاکٹر نبیلہ کو میرے ساتھ کمرے میں رہائش ملی۔

خدا جھوٹ نہ بلوائے….
صبح چار بجے ان کا آخری جملہ تھا۔
سونا مت۔۔۔ میں ابھی دانت صاف کر کے آئی۔۔۔

اب میں وہ خوبصورت دن اور ڈاکٹر شگفتہ کی کراری رائے،لاپرواہ، نالائق لڑکی کا پہلا پہلا تاثر یاد کرتی ہوں تو از سر نو ایک بے فکر سی مسرت دل کے گرد دائرے میں دھمال ڈالنے لگتی ہے۔

مجھے ایک اور صاحبہ یاد آ گئیں جو مجھے پاکستان میں رعب اور وقار سے لوگوں کو مرعوب کرنا سکھا رہی تھیں….ان کا خیال تھا کہ  یورپ میں ایک ربع صدی کے قیام نے مجھے پاکستانی ماحول سے دور کر دیا ہے…. مجھے شدید سنجیدہ رہنا چاہیے اس طرح لوگوں پر رعب پڑتا ہے۔( کوئی مجھے بتائے کہ رعب ڈالنے میں کیا مقصدیت ہے)

میں نے جتنوں سے وہ کالم نکالا ہے۔۔ملاحظہ فرمائیے۔

دانشوری کے اصول۔۔

کیا آپ ہمیشہ سے ایسی ہی کھلنڈری اور خوش باش رہتی ہیں
اس نے کچھ متجسس  ہو کر کسی معالج کے سے انداز سے پوچھا۔۔

حازق مزمن طبیب کی طرح ۔بس میری نبض پر ہاتھ رکھنے کی کسر رہ گئی۔۔ یا یہ کہ”منہ کھولو.، زبان دکھاو”
اور آنکھوں کی پتلیاں الٹ پلٹ کر دیکھنے سے گریز کیا۔
تجسس بہرحال ان کے چہرے پر بالائی تہہ کی طرح چپکا تھا۔

میرے دل میں وہ تہہ چھیل دینے اور اصل فطری چہرہ دیکھنے کا ایک سر کش سا خیال کروٹیں لینے لگا۔شاید متجسس اس لیے کہ اگر مرض پرانا نہ ہو تو وہ کوئی نسخہ بتا دیں۔جس سے انسان کے چہرے بشرے کھلنڈری پر بقراطیت منجمد ہو جائے۔ابرو اوپر کو کھنچ جائیں اور آنکھیں مخاطب کے چہرے سے دو فٹ اوپر دیکھنے لگیں۔

گردن انڈے کی سفیدی کے ماسک لگنے کے بعد کی کیفیت کے موافق اکڑ کر ایک نقطہ غیر موجود پر فٹ ہو جائے۔ٹھوڑی سینے اور گردن کی حدود سے باہر نکل کر فضا میں بلند ہوجائے۔قوت گویائی مکمل و منفرد و ممتاز ہونے کے احساس سے سکوت کی ریت میں جا دھنسے۔اور گفتگو کے نام پر محض۔۔۔۔

ہوں ۔۔ ہاں۔۔ آہم۔۔ آں ہاں ۔۔

ریت کے ڈھیر سے
کسی کو بے توقیر کرنے کی کوشش کرتی
دیے لہجے کی دندناتی صدا آئے۔۔

کوئی بات کیسی ہی گدگدی کیوں نہ کرے
کوئی صورتحال کیسی ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو
قدرتی بے ریا و بے تکلف ہنسی کی کھنکھناہٹ ۔۔

یا تو پیٹ کی بوری کے اندر ہی ذرا سی پھسپھساہٹ کے دم توڑ جائے اور آپ پر سینئر دانشور، شاعر، اور تخلیق کار ہونے کا خطاب جگمگانے لگے۔لیکن اگر یہ مرض پرانا نہ ہو تو اس کا علاج و سدِ باب ممکن ہے یا یوں کہیے کہ کم سے کم علامات پر اسرار طریقے سے ختم کی جا سکتی ہیں۔

ہنسی سے مکمل پرہیز کی کوشش کے ساتھ ساتھ چند اور احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں۔

اگر کسی کا فون آجائے تو براہ راست کبھی جواب مت دیجئے۔۔پوچھنے پر صاف مکر جائیے کہ موبائل دیکھا ہی نہیں تھا۔براہ راست فون سننے کی بجائے کسی سیکرٹری قسم کے فرد کو آگے رکھیے۔۔خود کسی کا نمبر مت ملائیے۔اب گاندھی کا زمانہ تو ہے نہیں جوپوچھے  تمہاری انگلیوں کو کیا تکلیف ہے؟

اگر کبھی براہ راست بات کرنی نا گزیر ہو ہی جائے اور کسی بھی طرح چھٹکارا نہ ہو۔۔
باز پرس کا احتمال ہو تو۔۔
کسی درمیانی فرد کو فون کر کے تشویش ظاہر کیجئے،کہ مطلوبہ فرد کو فون کیا جا رہا ہے لیکن جواب نہیں آ رہا۔۔ذرا پتا کیجئے کہاں ہیں

تو شب آفریدی چراغ آفریدی۔۔

اگر کوئی وائبر یا وٹس ایپ کے پیغامات کے بارے میں آپ کا حوالہ دے اور سند کے ساتھ شرمندہ کرے تو پروگرام مٹا دیجئے

فون پانی میں گر گیا
گم ہو گیا
چھن گیا!

یاد رکھیے۔۔ بس نیت پختہ ہونی چاہیے کہ کسی منحوس ، نا مراد کا کام نہیں کرنا جو منہ اٹھائے چلے آتے ہیں۔

اگر فرار اور گریز کے تمام راستے مسدود ہو جائیں تو حتی الوسع روکھے پھیکے اور لٹھ مارنے کے انداز میں بات کیجئے تاکہ کسی مطالبے کی نوبت نہ آئے اور پہلے مرحلے پر ہی حاجت مند کی حوصلہ شکنی ہو جائے۔

یاد رکھیے ہنس کر یا ہشاش بشاش انداز میں بات کرنے سے وقار نہیں رہتا۔۔۔سو پرسکون اور متوجہ ہو کر یا ہنس کر بات مت کیجئے۔

ہنستے ٹھاکر ۔۔ کھانستے چور
ان سب کا آوت اور
بس
لوک دانش کو جدید رابطے کی تکنیک اور حوالہ جات پر فوقیت دیجیے!

Avatar
صدف مرزا
صدف مرزا. شاعرہ، مصنفہ ، محقق. ڈنمارک میں مقیم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *