یہ مایہ ناز تعلیمی ادارے۔۔۔۔۔رشیدیوسفزئی

گزشتہ سال ٹائمز ہائیر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز Times Higher Education World University Rankings نے دنیا کے  ایک ہزار اعلی تعلیمی اداروں کی لسٹ شائع کی .پاکستان کے صرف چار اداروں کے نام لسٹ  میں  سب سے نیچے آئے. اولین پانچ سو کے آخر میں قائد اعظم یونیورسٹی واحد پاکستانی یونیورسٹی تھی. جبکہ پاکستان میں کل 188 سرکاری یا نجی یونیورسٹیاں تھریشر کی طرح ڈگری یافتہ مرد و زن باہر نکال رہی  ہیں(تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ میں فرق ضرور کریں).

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  چار یونیورسٹیوں کے  برعکس ٹائمز کی  اس لسٹ میں انڈیا کے  30،چین کے 60،ایران کے 14، ترکی کے 16، سعودی عرب کے 5، ملیشیا کے 8،جاپان کے 71، جنوبی کوریا کے 27، تائیوان کے 20 اور ہانگ کانگ کے 6 تعلیمی ادارے شامل تھے. ایشیا کے دوسرے مذکورہ ممالک کے تعلیمی اداروں میں جہاں اس رپورٹ نے قیامت برپا کی پاکستان میں ماہرین تعلیم سے لیکر والدین تک کسی نے ٹائمز کا نام سننے کی بھی زحمت نہ کی. لاکھوں  روپے تنخواہ اور سہولیات لینے والے ایک دو حکومتی وظیفہ خوار ماہرین تعلیم نے اسے پاکستانی نظام تعلیم کو بد نام کرنے کی یہودی سازش قرار دیکر اس رپورٹ کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا.

پاکستانی تعلیم کا المیہ بنیادی طور پر تعلیم کو تخلیقی اور حقیقی سانچوں میں ڈھالنے کی بجائے نظریاتی قالب میں ڈھالنے جیسی ریاستی پالیسی ہے. پاکستانی تعلیمی پالیسیوں کا مقصد تنقیدی سوچ اور تخلیقی استعداد پیدا کرنے کی بجائے صرف ماہر پیشہ ور جانور پیدا کرنا ہے جو بنی بنائی حاصل شدہ معلومات دوسروں کو پہنچائے. بہترین نقاد، سٹیٹس مین، تخلیقی بصیرت کے پالیسی ساز، فنکاروں کے بجائے پاکستانیوں کا  رجحان  مجموعی طور پر تعلیمی جدوجہد اسلامی نظریے کے  مطابق سپاہی، انجینئر، ڈاکٹر پیدا کرنا  ہوتا  ہے  ۔ جو صرف پیسے  بنا  کرسکتے ہوں . لبرل آرٹس اور سوشل سائنسز کو پاکستانی تعلیم ہی نہیں مانتے. نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ جو طالب علم بہترین رٹے لگا کر سکول کالج میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرے وہ ڈاکٹر یا انجینئر بنتا ہے. جو بعد میں سیکنڈ تھرڈ ڈویژن پاس یا سفارش سے آئے ہوئے بیوروکریٹ ڈپٹی کمشنر یا سیکرٹری کے ماتحت ہوتا ہے. جو بندہ مکمل فیل ہو وہ سیاست دان بن کے سب کا آقاء بن جاتا ہے اور جو سیاست سے بھی رہ جائے وہ بدمعاش، غنڈہ، سمگلر بن کے  انڈر ورلڈ کا بادشاہ بن  کر  باقی تمام کے اوپر بیٹھ جاتا ہے!

اسلامی نیشنلزم پاکستانی تعلیم کا محور ہے. ہر سائنس و غیر سائنس کے طالبعلم کو دیومالائی کہانیوں اور مذہبی تعلیمات کا ایک معجون مرکب کھلایا جاتا ہے. “سائنسی ایجادات اور علوم مغرب نے اسلامی دنیا سے چرائے، طب نبوی میڈیکل سائنس کا اصلی خزانہ ہے…… پاکستان کی تخلیق کا محرک عامل صرف اور صرف اسلام تھا، جغرافیائی وحدت لغو چیز ہے بلکہ نظریاتی وحدت ہی قومیت سازی کی اساس ہے، ہنود و یہود اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں جو شب و روز کوئی اور کام کئے اور کھانا بھی کھائے بغیر  ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں، وغیرہ وغیرہ”. تاریخ اور مطالعہ پاکستان کے گمراہ کن  واقعات  کا اندازہ اس سے لگائے کہ پاکستانیوں کی اصل نسل اور نسب و اسلاف محمد بن قاسم اور عرب دنیا سے مل جاتے ہیں. مقامی تاریخ کی بجائے عرب تاریخ ہی پاکستانیوں  کی تاریخ ہے.

ایک نصابی کتاب کا یہ جملہ پڑھیں۔۔۔۔۔
Under Aurangzaib the Pakistan spirit gathered in strength…… and his death weakened the Pakistan spirit.
انہی مایہ ناز اداروں کے ڈگری یافتہ و تعلیم یافتہ قوم کے مایہ ناز سپوتوں کا یہ حال ہے کہ روزانہ ایک نہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ یا میسنجر پیغام ملتا ہے کہ “میرا حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ ہے  کہ انگریزی کی  کتاب سے فلاں انگریز سائنس دان  کا  سبق نکال کر  فدایانِ اسلام کے اسباق  شامل کئے جائیں .” ۔۔
جبکہ راقم کا حکومت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے یہ مطالبہ ہے کہ تمام تعلیمی ادارے باقاعدہ مدرسوں میں تبدیل کئے جائیں !

رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی ایک ایسا طالب علم ہے جس کی پیاس مزید بڑھتی جاتی ہے۔ چھ زبانوں کے ماہر رشید وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *