مولانا سمیع الحق کی زندگی پر ایک نظر ۔۔۔ مکالمہ خصوصی

مولانا سمیع الحق ۱۸ دسمبر ۱۹۳۷ کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبد الحق اکوڑوی دارالعلوم حقانیہ کے بانی تھے جنہوں نے تین بار ایم این اے کے تحت قومی اسمبلی میں حصہ لیا۔ مولانا سمیع الحق کا تعلق سنی دیوبندی مسلک سے تھا اور وہ خود بھی دو بار سینیٹر رہے۔ مولانا جمیعت علماء اسلام سمیع الحق گروپ کے صدر تھے اور متحدہ مجلس عمل کے بانی ممبران میں سے ایک تھے۔ دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں مولانا نے متحدہ دینی محاذ کے نام سے سیاسی جماعت بنائی اور انتخابات میں حصہ لیا۔ 

مولانا سمیع الحق تحریک طالبان افغانستان سے قریبی تعلقات کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ طالبان حلقوں میں مولانا کافی مشہور اور قابل تعظیم بھی تھے۔ اسی مناسبت سے انہیں طالبان کا باپ بھی کہا جاتا تھا۔ مولانا تحریک طالبان  کے بانی ملا عمر کے قریبی دوستوں میں بھی شمار ہوتے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر مولانا سمیع الحق کو طالبان اور پاکستانی فوج کے درمیان رابطہ کار بھی سمجھا جاتا رہا۔ مولانا افغانستان پر طالبان حکومت کے علی الاعلان حامی رہے۔ مولانا سمیع الحق طالبان کی پولیو کے خلاف مہم کے ناقد بھی رہے اور انہوں نے دسمبر دو ہزار تیرہ میں دیے گئے ایک فتوے کے تحت پولیو مہم پر پابندی کو ناجائز قرار دیا۔ 

مولانا سمیع الحق کو دو نومبر دو ہزار  اٹھارہ کی شام ان کے راولپنڈی کے گھر میں چاقووں کے حملے میں عین اس وقت شہید کیا گیا جب تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے آسیہ مسیح کی رہائی پر فیصلے کے خلاف بریلوی حلقوں کی جانب سے مظاہرے عروج پر تھے۔ مولانا پاکستان کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں ایک قد آور شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *