حکمران عوام کے اجتماعی سیاسی شعور کی توہین نہ کریں

حکمران عوام کے اجتماعی سیاسی شعور کی توہین نہ کریں
طاہر یاسین طاہر
آج کل پانامہ لیکس کا ایشو پی ٹی آئی کی قیادت نے خوب اٹھایا ہوا ہے اور تسلیم کیا جانا چاہیے کہ عمران خان پانامہ لیکس کے ایشو کو اپنی ہمت اور بے باکی سے سپریم کورٹ میں لے گئے ہیں،جہاں سے انھٰن اور ہر پاکستانی کو یہ امید ہے کہ فیصلہ عدل کی بنیاد پر ہوگا۔ وزیر اعظم صاحب کی ترجمان ٹیم کا بھی یہی کہنا ہے کہ فیصلہ انشا اللہ وزیر اعظم صاحب کے ھق میں آئے گا،جبکہ عمران خان صاحب اور ان کی ٹیم کا بھی یہی کہنا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔کیس چونکہ عدالت عظمیٰ میں ہے اس لیے بہتر رویہ یہی ہے کہ اس کیس پر اس نوع کو کوئی بھی ایسا تبصر نہ کیا جائےجوکسی بھی طرح کیس ،عدلیہ یا فیصلے پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے دیکھا جائے۔
یہ امر درست ہے کہ پانامہ لیکس کے بعد جب وزیر اعظم صاحب کے بچوں کے نام آف شور کمپنیوں کی ملکیت میں آئے تو ایک ہنگامہ خیز بحث شروع ہو گئی۔ اس بحث کو اخلاقی تقویت اس وقت ملی جب آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے اس بنا پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا کہ اس پانامہ سکینڈل لیکس میں ان کا نام بھی آیا تھا۔پی ٹی آئی جو بطور خاص اس کیس کی مدعی ہے، نے آئس لینڈ کے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کو بھی خوب اٹھایا اور میاں نواز شریف صاحب پر دباو بڑھایا کہ وہ استعفیٰ پیش کریں،پیپلز پارٹی نے بھی اس حوالے سے اپنا بیانیہ بلند رکھا اور کہا کہ وزیر اعظم اسمبلی میں آ کر اس حوالے سے وضاحت کریں۔یہ امر بھی واقعی ہے کہ پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کے حوالے سے وزیر اعظم صاحب،ان کے بچوں اور بیگم کے بیانات میں تضادات ہیں،اور آئینی ماہرین اس حوالے سے بحث بھی کر رہے ہیں۔ منی ٹریل کے حوالے سے بھی کیس میں بحث کی جا رہی ہے کہ بتایا جائے کہ پیسہ ملک سے باہر کیسے گیا اور آیا اس پیسے پہ ٹیکس بھی ادا کیا گیا یا کہ نہیں؟ اسی طرح یہ بحث بھی سیاسی دانشور کر رہے ہیں کہ چونکہ وزیر اعظم صاحب کا نام نہیں آیا ہے اس لیے وہ بے گناہ ہیں،جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اس حوالے سے کئی نکات اٹھا چکی ہیں۔جن میس سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بچے زیر تعلیم تھے تو مے فیئر فلیٹس اس وقت خریدے گئے تھے،اور یقیناً اس وقت وزیر اعظم صاحب کے بچے بر سر روزگار نہ تھے۔کیس کا جو بھی فیصلہ ہو گا بہر حال وہ عدلیہ ہی کرے گی۔
البتہ ہم سیاسی جماعتوں کے رہمناونں اور وزیر اعظم صاحب کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے والوں سے ملتمس ہیں کہ وہ عوام کے اجتماعی سیاسی شعور کی توہین نہ کریں۔بے شک عوام ٹیکس دیتے ہیں اور بہت زیادہ دیتتے ہیں، لہٰذا عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں کہ ان کا پیسہ کون کس طرح استعمال کر رہا ہے۔ منی ٹریل کے حوالے سے وزیر اعظم صاحب قطری شہزادے کا خط بھی عدالت میں پیش کر چکے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ قطری شہزادے کا خط کس حد تک درست ہے۔البتہ رانا ثنا اللہ صاحب کا یہ بیان کسی بھی طرح عوامی رویوں سے میل نہیں کھاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف کا نا اہل قرار دیا گیا تو عوام یہ تسلیم نہیں کریں گے،اور نواز شریف کو بدنام کرنے کا عوام میں بہت زیادہ ردعمل ہو گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ رانا صاحب نے یہ کہہ کر عدلیہ پر دباو ڈالنے کی کوشش کی ہے،کہ اگر نواز شریف صاحب کو نا اہل قرار دیا گیا تو عوام اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے،اگرچہ ماضی میں بھی نون لیگ عدالت عظمیٰ پر باقاعدہ حملہ آور ہو چکی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتوں کو فیصلے عدل کی بنا پر دینے چاہئیں نہ کہ عوامی رحجان کو دیکھتے ہوئے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی ایک عدالتی فیصلے کی بنا پر نا اہل ہوئے تھے۔اگرچہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی کرپشن کے حوالے سے کئی عشروں سے میڈیا میں بحث جاری ہے۔اور اسی رحجان کے باعث کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ایک کرپٹ صدر کا دفاع کر رہا ہے انھیں نا اہل قرار دے دیا گیا،حالانکہ سوئس اکاونٹ اور سرے محل ایساے سکینڈلز سے گیلانی صاحب کا ذاتی کوئی تعلق نہ تھا۔
اسی طرح تسلیم کر لیتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب کا پانامہ لیکس میں نام نہیں مگر جس منی ٹریل کا چرچا ہے بہر حال وزیر اعظم صاحب کو وہ تو ثابت کرنا ہو گا اور یہ بھی کہ پیسا جائز اور درست طریقے سے ملک سے باہر گیا۔اگر وہ ایسا کچھ ثابت نہ کر سکے اور اپنے کاروبار،مے فیئر فلیٹس اور دیگر الزامات کا دفاع نہ کر سکے تو پھر لا محالہ انھٰن نا اہل ہونا چاہیے۔ یہ رویہ درست نہیں کہ کرپشن چارجز کا سامنا کرنے والے سیاستدانوں کی دل جوئی یوں کی جائے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ ایا تو عوام تسلیم نہیں کریں گے۔کیوں؟کیا عوام لوٹ مار کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں؟ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔عوام کی غالب تعداد ملک میں عدل اور سماجی انساف چاہتی ہے۔ڈاکٹر عاصم ہوں یا شر جیل میمن،نواز شریف ہوں یا کوئی اور سیاستدان یا بیوروکریٹ یا آرمی آفیسر،جس نے بھی عوامی پیسے کو اپنی ذات اور اپنی اولادوں کے لیے استعمال کیا اس کا احتساب ہونا ضروری ہے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *