آج کا مشرق وسطیٰ

گریٹر اسرائیل کا عالمی منصوبہ کسی بھی طرح سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، آغاز میں جب سلطنت برطانیہ کی نگرانی میں اسرائیل کا قیام ہوا تو یہود کا ایک مشہور نعرہ ہواکرتا تھا جو اکثر اسرائیلی دستاویزات لکھا ہوتا تھا. جسکا مفہوم ہوتا تھا ’’سلطنت اسرائیل بین نیل و فرات‘‘ یعنی اسرائیل کی سلطنت کا رقبہ جو بنتا ہے وہ مصر میں دریائے نیل سے لے کر سعودیہ میں خیبر سے ہوتا ہوا فرات تک کا.علاقہ ہے۔ اس تمام علاقہ کو یہود درحقیقت اپنا علاقہ تصور کرتے ہیں، اور اسکو حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کی کوشش جاری رکھے ہوے ہیں ـ یہ تو تھااسرائیل کا پلان، اب ہم سمجھتے ہیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو، عرب اسرائیل کی پہلی جنگ میں عرب دنیا کی طاقتور قوتیں سعودیہ،مصر اور عراق تھیں۔یہ ساری طاقتیں وہ ہیں جنکی تیل پہ اجارہ داری تھی، دولت کی کمی نہ تھی، انکے ساتھ ہی خطے کی ایک بڑی طاقت ایران تھی، اور ان ساری طاقتوں کے پاس پیٹرولیم کی دولت تھی جسکی مغرب کو سخت ضرورت تھی، دوسری طرف یہی ساری طاقتیں اسرائیل کو کم از کم یہ پیغام بھی دے چکی تھیں کہ وہ آسانی سے گریٹر اسرائیل بننے دینے والی ہرگز نہیں ہیں ـ پھر یوں ہوا کہ امریکہ اسرائیل اور برطانیہ نے مل بیٹھ کر نئے سرے سے پلاننگ کی کہ ایسی سکیم بنائی جائے جس سے مغرب کی پیٹرولیم کی ضرورت کامسئلہ بھی حل ہو جائے، اور ان مقامی طاقتوں کو بھی کمزور کر دیا جائے اورگریٹراسرائیل کا منصوبہ بھی پورا کیا جا سکے، پلان بن گیا اور پہلے مرحلہ میں مصر عراق اور سعودیہ میں کارآمد حاکم منتخب کئے گئے اور امریکہ نے وہاں دوستیاں بنا کر ایسٹ انڈیا طرز پہ وہاں تجارت کے نام پہ اپنا رسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔
ایران اور عراق کی جنگ کا ماحول بنایا گیا۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ ایران اور عرب کی اس جنگ کی وجہ در حقیقت ایسی وجہ ہے کہ جس پہ عقل حیران ہوتی ہے اور وہ وجہ ہے خلیج فارس کا نام، عربوں کی طرف سے اسکا نام خلیج عرب رکھنے کاشوشہ چھوڑا گیا، اور ایران کو ابھارا گیا کہ اسکا نام خلیج فارس ہی ہوگا۔ اس تنازع پہ پہلی عرب ایران جنگ ہوئی، جو لمبی مدت تک چلی دونوں جانب کو اسلحہ امریکا کی طرف سے بیچا گیا اور بدلہ میں سہولیات اور تیل لیا گیا، اسی پلان کے تحت،مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی فسادات کا بھی آغاز کروایا گیا۔کہیں ڈکٹیٹر بٹھا کر، کہیں، بادشاہوں کو مضبوط کر کے صرف اور صرف امریکن اسلحہ بیچنے کے ساتھ ساتھ عربوں کی معیشت پہ کنٹرول حاصل کرنے اور گریٹر اسرائیل کے لئے عربوں کو کمزور کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔کچھ لوگ عرب میں اس سارے سلسلہ کو سمجھ گئے اور انہوں نے تمام عرب کو متحد کرنے اور ہر طرح کے شیعہ سنی یا دیگر فسادات کوختم کرنے لئے اخوان المسلمون کے پلیٹ فارم سے کام شروع کیا، مگر ان کو امریکہ اور برطانیہ نے ہر طرح سے روکنے کا بندوبست کر رکھا تھا، بادشاہوں کو ڈرایا گیا کہ اخوان المسلمون تمہاری بادشاہت چھین لیں گے. جہاں جمہوریت تھی،وہاں ڈکٹیٹر شپ قائم کر دی گئی۔اور اخوان پہ پابندیاں لگا دی گئیں۔ایران میں مسلکی پابندیوں کا سہارا لے کر اخوان کی راہ روک دی گئی. اس سارے سلسلہ میں میر جعفر کا کردار ادا کرنے والا ملک اردن بنا جو کہ تمام صیہونی اور مغربی ایجنسیوں کا گڑھ بننے کے علاوہ فسادات کے لئے افراد سازی کا بھی کام کرتا رہا۔ صدام حسین جو کہ شروع سے امریکا کا ہی نمائندہ رہا، لیکن جب امریکا نے عراق کاکچھ علاقہ ایران کے حوالے کرنے کی فرمائش کر دی اور وہاں ایک آزاد ریاست کردستان بنانے کی ڈیمانڈ کی تو صدام پھر ذاتی مفاد کی لڑائی میں امریکا کو آنکھیں دکھانے لگا. جس کی وجہ سے امریکا کی طرف سےاسے ہٹانے اور عراق کو تقسیم کرنے کا جو عمل ہوا، اس سے ساری دنیا ہی واقف ہے۔
دوسری طرف یمن میں اخوان نے طاقت حاصل کی، سعودیہ نے اخوان کا قتل عام کروانے میں بادشاہ کی معاونت کی، مگر اخوان نے عالمی اسلامی تحریکوں کی مدد سے وہاں ایک عوامی جمہوری حکومت بنا لی، اس کا سعودیہ کو اگر چہ نقصان تھا مگر سب سے زیادہ نقصان امریکا اور ایران کو تھا، اخوان اپنے فیصلے خود کرنے کے قائل ہیں اور یہ بات کسی کو منظور نہیں تھی. یمن کے سبکدوش ہونے والے ڈکٹیٹر کو ابھارا گیا اور حوثی قبائل جنکا پہلے سے ہی سعودی حکومت کے ساتھ چند کلومیٹر زمین کے ٹکڑتے کا تنازع تھا وہاں مرکز بنا کر عسکری بغاوت شروع کر دی گئی۔یوں یمن میں ایک خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا جو کہ اب سعودی مملکت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے ـ تیسرا ملک شام ہے۔شام میں ڈکٹیٹر سے بھی وہی ڈیمانڈ کی گئی جو صدام سے کی گئی تھی، یعنی شام کا کچھ علاقہ نئی ریاست کے قیام کے لئے دیا جائے، حافظ الاسد اس پہ تیار نہ ہوا تو اسے بشار الاسد سے بدل دیا گیا، مگر اس دوران سعودیہ نے بھی اپنی پالیسی کے تحت شام میں حکومت بدلنے کی ٹھان لی اور شامی عوام جو کہ پہلے ہی عوامی حکومت چاہتے تھےسے بغاوت کروا دی ، ایران نے جو کہ بشار کو پسند کرتا تھا اس نے بشار کا ساتھ دیا اور روس سے معاونت طلب کی، روس جسکی معیشت پہلے ہی بگڑی ہوئی ہے، اور اسلحہ کیصنعت تباہ ہونے کے قریب تھی اس نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوے اپنے اسلحہ کی کھپت شروع کر دی. اور اسکا سارا خرچ بشار اور ایران برداشت کر رہے ہیں، اور بدلہ میں پیٹرولیم کی سہولیات بھی دے رہے ہیں.، اسی گہما گہمی میں امریکا اور برطانیہ نے مل کر داعش نامی تنظیم بھی بنا دی ۔بدنام زمانہ بلیک واٹر کی ساری افرادی قوت وہاں استعمال کی گئی. اسکے علاوہ مسلمانوں میں سے بھی جہاد کے نام پہ کچے ذہنوں کے تباہ حال جوانوں کو سبز باغ دکھا کر استعمال کیا گیا، روس اور امریکا میں معاہدہ ہوا کہ داعش کو اسلحہ امریکا دے گا اور اسکے مخالفین کو روس دے گا، اور اس پہ اب تک مکمل عمل جاری ہے ـ اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ عراق تین حصوں میں تقسیم ہے، ایک حصہ پہ ایرانی حمایت یافتہ شیعہ طبقہ قابض ہے دوسرے حصہ سنیوں کے پاس اور تیسرا داعش اور کردوں کے پاس، اسی طرح شام کی بھی صورت حال ہے.، اور اس وقت سعودیہ کی حالت سب سے زیادہ نازک ہے، وہ سمجھ چکا ہے کہ گریٹر اسرائیل کی پالیسی پہ پوری طرح عمل درآمد ہو رہا ہے۔ سعودیہ کی تین اطراف سے محاصرہ ہو چکا ہے، امریکی بینک سعودی پیسہ واپس کرنے سے انکار کر چکے ہیں، اور ایران بھی اپنی نئی منڈیوں اور اجارہ داری کے چکر میں سعودیہ کو کوئی رعائت دینے پہ تیار نہیں ہے، اگر چہ سعودیہ نے مخلوط فوج بھی بنا لی ہے،مگرساری عالمی برادری اور اقوام متحدہ بھی سعودیہ کو اکیلا چھوڑنے کا پلان بنا چکی ہے. ایک واحد ملک ترکی رہ گیا ہے جو سارے عالمی دباو کو مسترد کر کے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی بھی کوشش کر رہا ہے، ساتھ ہی فلسطین میں حماس اور عرب میں اخوان کو بھی مضبوط کرنے میں لگا ہے، اور ساری امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پہ لانے کی جدو جہد کر رہا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی اپنے مشن میں کتنا کامیاب ہوتا ہے؟ اور سعودیہ اس پریشانی سے کیسے نکلتا ہے؟ اور گریٹر اسرائیل کا منصوبہ پھر سے کیسے ناکام ہوتا ہے ــــ

Avatar
مبارک حسین انجم
لاہور میں سکونت ہے، ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہوں، باقی میری تحریریں ہی میرا حقیقی تعارف ہیں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *