بونگیاں

"بونگیاں "
نعیم الدین جمالی.

آج کل بونگیوں کا موسم جوبن پر ہے، ہر کوئی بونگیاں جھاڑ کر اپنا قد، کاٹھ اونچا کرنے پر تلا ہوا ہے.
تو کوئی فیس بک آیا ہی بونگیاں مارنے کے لیے،
بونگیاں سن سن کر پک چکے ہیں،ابکائیاں آنے لگی ہیں.قوی مضمحل، طبعیت بوجھل ہے۔
مزید بونگیوں پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ احساس سر منڈلا رہا ہے کہ شاید بہت سارے احباب کو بونگیوں کا لفظی معنی بھی پتا نہ ہو، اور آپ کی بونگیاں بھی بونگیاں ہی رہ جائیں۔
چنانچہ سر دست ایسے قارئیں وسامعینِ بونگیوں کے لیے بونگی کا کچھ لفظی تعارف بھی کروا دیتے ہیں، تاکہ آئندہ جب وہ بونگیاں ماریں تو کم از کم انہیں بونگیوں سے اتنی شناسائی ہو کہ وہ بلاجھجھک، بے محل وموقع بونگیاں مار سکیں، اور ویسے بھی مارتے رہتے ہیں، بتائے بغیر بھی وہ اس میں مہارت تامہ رکھتے ہیں،
صاحب فیروز اللغات فرماتے ہیں:
"بونگی کا مطلب بے محل وموقع گفتگو کرنا "
ارے صاحب! آپ بغلیں کیوں جھانک رہیں ہیں، آپ تو فیس بک کے مہا دانشور ہیں، صبح شام منطق وفلسفہ بگھارتے رہتے ہیں، آپ کو ہزاروں لائکس ملتے ہیں ، انگوٹھا چھاپ کر لوگ آپ کو پسندیدگی کا سرٹیفکیٹ اور تمغہ محبت عطا کرتے ہیں۔
واہ! واہ!…. سبحان اللہ…!
ماشاءاللہ ..!
بہت خوب ..!
کمال لکھا ہے ..
اور آداب آداب ..سے داد دی جاتی ہے ، آپ سرجھکا کر سوری ضمیر جھکا کر داد وصول کرتے ہیں۔
میری مراد آپ نہیں،آپ خفا کیوں؟
آپ ناک کیوں سکیڑ رہے ہیں؟
آپ بونگیاں، سوری دانشوری کریں،منطق وفلسفہ اور حکمت وطب بگھاریں،
عوام کو الو اور بے وقوف بنائیں،
قارئین!
پہلے یہ کام صرف سیاست دان ہی کیا کرتے تھے، یہ کام سیاست کا ہی خاصہ تھا، مطلب وہ بونگیاں مارتے اور سبز باغ دکھاتے تھے، عوام بیچاری ان کے چکروں میں آکر ذلیل وخوار ہوتی تھی، وہ خود تو ملک کا مال لوٹ لوٹ کر سبز باغ گھومتے تھے اور اب بھی گھومتے ہیں، اور ڈنکے کی چوٹ پر گھومتے رہیں گے۔
ہم ان کا نہ کچھ بگاڑ سکے ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب وبعید میں کوئی امید وآسرا نظر آتا ہے۔
لیکن بے کس و بے حال ، لاچار وناچار عوام کو تو سبز گھاس گھومنے کا موقع بھی نہیں ملتا، کیوں کی سبز گھاس گھومنے کی جگہوں کو بھی چائنا کٹنگ کی زد میں آنا پڑا.
خیر!میں بہت دور نکل گیا، بات چل رہی تھی فیس بکی بونگیوں کی،آج ہر شخص کے پاس بونگیاں مارنے ایک وسیع سے وسیع تر پلیٹ فارم ہے، جس سے وہ عمل سے تہی دامن ہوکر بونگیاں ہی مارتا رہتاہے، بے محل وموقع گفتگو کرتا ہے،اپنی عملی زندگی میں عمل سے کورا نظر آتا ہے، صبح وشام ہم ایک دوسرے کو کتنی نصائح، زریں اقوال ، قران وحدیث، بزرگوں کے اقوال سناتے ہیں، دس لوگوں کو بھیج کر ثواب بھی کماتے ہیں، لیکن ہم خود کتنا عمل کرتے ہیں.
یہ بخوبی آپ جانتے ہیں، کیوں کہ میری طرح آپ بھی یہ کام اعلی اور وسیع پیمانے پر کرتے ہوں گے، بعض لوگ یہ بونگیاں صرف سستی شہرت کو حاصل کرنے کے لیے مارتے ہیں، ایسی بے ڈھنگی اور بے حد نازیبا گفتگو کرتے ہیں کہ بس جی بھر کے چھتر مارنے کو دل کرتا ہے۔یا آج کل تین مہینے رینجرز کی تربیت میں دینے کا خیال وارد ہوتا ہے، اس میں وہ اخلاق کے ادنٰی پیمانے سے بھی گر جاتے ہیں، اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسے "آزادی اظہارِ رائے " کا حق گردانتے ہیں۔
اسی بہانے وہ نظریات و شخصیات کا بھونڈا مذاق اڑاتے ہیں، کس کی تذلیل وتحقیر سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا، انہیں اپنی دکان چمکانی ہوتی ہے،کچھ سیاسی اور مذھبی جماعتوں کے کارکن بھی اس میں بقدر ثواب حصہ ڈالتے ہیں، جماعت میں ہوتے ہوئے ان کے قائدین آب زمزم سے دھلے پاک صاف ہوتے ہیں، اگر وہ بیچارے تھوڑی سی خلاف ورزی یا حق گوئی کر لیں تو اس کا وہ حشر کرتے ہیں کہ جیتے جی زمین میں دھنس جانے کو دل کرتا ہے۔
بعض لوگ ایسے بھی ہیں، جو اپنی بونگیوں کی فیکٹری یعنی اپنی آئی ڈی پر بڑے سنجیدہ اور فہمیدہ ہوتے ہیں، لیکن دوسرے کے گھر میں گھس کر یعنی دوسرے کی وال پر جاکر اپنا اندر انڈیلتے ہیں، اپنی شہرت کا ذریعہ اور وسیلہ ان کی وال کو سمجھتے ہیں.اور بعض دفعہ ایسے تجزیہ نگار بھی پیدا ہوتے ہیں جو دوسروں کی گفتگو کو من پسند مطلب نکال کر اسکرین شارٹ لے کر اپنی وال پر واہ، واہ کرنے والوں کو اکٹھا کرتے ہیں،اپنی طرح کے قارئین سے خوب داد سمیٹ کر خوب پھلتے پھولتے ہیں، جی ہی جی میں سدا بہار ہوتے ہیں کہ اب میں پکا دانشور بلکہ بونگیاں مارنے والا بن چکا ہوں،
خواتین وحضرات!!
ابھی بہت سی قسمیں رہ گئی ہیں، زندگی باقی تو پھر کبھی ان بونگیوں سے متعارف کرواوں گا،فی الحال آپ میری ان بونگیوں پر گذارا چلائیں…
" وما علینا الا الپہنچانا"
"وعلیکم بونگیاں مارنا "

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *