اوریا صاحب, ابوالکلام کی بخشش کا سوال ہے…. التمش خان گھڑاخیل

ہندوستان میں ایک کافر ہوا کرتے تھے، زندگی ان کی ایسی کہ ہزاروں کو اس پر رشک آئے، آدھی زندگی زندان کو سپرد کر گئے اور جو بچی تھی وہ ساحل پہ اپنے ہم فکر، ہم عقیدہ، ہم مذہب لوگوں کی کشتیاں بچاتی گزر گئے، مستقبل کا وہ طوفان جس کی آدم خور موجیں لوگوں کو لپیٹ رہی تھیں وہ دیکھ چکے تھے سو نکل پڑے کچھ لوگ ساتھ ہوئے، کچھ ساتھ چوڑ گئے، کچھ بچھڑ گئے، اور جو باقی تھے وہ حالات کی نذر ہوگئے۔ پیچھے مکمل پینتیس القابات کی گردان چھوڑ کر تو نہ گئے۔ ابوالکلام سے شہرت تھی یار دوست آزاد بھی بلاتے مولانا کا سابقہ ان کے نام کا لازمی جز بن گیا تھا جبکہ وہ مولوی تو نہ ہی تھے آزاد دفن ہوگئے بچھڑنے والوں کے لئے آزاد کے خیالات بڑے مقدس تھے وہ انہیں پاکیزہ تصور کرتے تھے اب سمندر کے اس پار جو پہنچے ان میں سے کچھ لوگوں نے آزاد کو معاف نہیں رکھا بعد از مرگ بھی ان کی زندگی پر خاک اڑاتے رہیں عرصہ ہوا پھر ایک بوڑھا سراپا اٹھتا ہے وہ آزاد سمیت ہند میں بسنے والے تمام لوگوں کو نہ صرف گناہ گار سمجھنے اور باور کرانے لگا بلکہ آخرت کی بھی گارنٹی دے ڈالی کہ نہیں بخشے جائیں گے وہ اس لئے کہ سمندر کی طغیانیوں سے گریزاں کیوں رہیں ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے اس پار آ کر مورچوں کی تیاری کرنی تھی اور ” غزوہ ہند” برپا کرنا تھا سو نہیں آئے کمک کم پڑے گی اور پھر غزوے میں سامنے آئیں گے اور سیدھا جہنم جائیں گے۔

مولانا آزاد زندہ ہوتے وہی انداز ہوتا کچھ نہ کہتے صرف عصا تھام کر فرماتے میری تو خیر ہے تمھاری جنت میں ہماری تو ویسے بھی جگہ نہیں دوسروں کو بخشیں ان پر جنت کے دروازے بند نہ کریں!! سندھ کے باب الاسلام سے مولانا سندھی گرجتے۔ شیخ اپنی جنت اپنے پاس رکھو کیا میں دیوبند کی سرزمین پر رہنے والے سارے لوگوں کو تمھاری جہنم میں ڈالے جانے دوں گا ایسی جہنم کو بھی جلا دوں گا۔
دوسری طرف یار لوگوں پہ غزوہ ہند کا ایسا خطرناک بھوت سوار ہے کہ وہ اس ضمن میں کسی رعایت کے حق میں نہیں جو راستے میں کروڑ کروڑ مسلمان آئیں انہیں بھی جہنم والی جھنڈی دکھا دو تاکہ محاذ گرم رہے ” غزوہ ہند” ایک بشارت ہے اس کا تعین صحیح طور سے کوئی نہیں کرسکتا علماء کرام نے اس باب میں کسی بھی بشارت یا فتنے کی تعیین سے گریز فرمایا اور کیا یہ ممکن نہیں کہ غزوہ ہند وقوع پذیر ہوچکا ہو ہندوستان پہ مسلمان فاتحین کے کئے کامیاب حملے تاریخ نے محفوظ رکھے ان فتوحات سے متعلق بھی یقینی کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ یہ سب امکان کے درجے میں ہیں پھر جو چیز ہو کے رہنے ہو وہ ہماری پیدائش کا انتظار نہیں کرتی قدرت نے غزوہ ہند کے لئے کشمیر کی وادی متعین کی ہے اس وثوق کے ساتھ وہی لوگ کہ سکیں گے جو صرف عرش پہ ہی رہتے ہوں جنہیں فرش والوں کے مسائل سے بلکل بھی سروکار نہ ہو وہ خدا کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں کہ اسے بنائی اپنی مخلوق سے کوئی ہمدردی نہ ہو اور پھر اسی کو پوجنے والے اس راستے میں اس بے دردی سے مارے جائیں گے وہ بھی ناحق جن کے لئے شیخ کی جنت میں بھی کوئی جگہ نہیں۔
غزوہ ہند اگر ضروری ہے کہ برپا ہو تو پھر دیر کس بات کی تیر، کمان سنبھالیں خدا آپ کی نصرت فرمائے دیر بھی اس لئے ہورہی ہے کہ غریبوں کے بچے مزید ہوجائیں ابھی ہی کٹ کر آئے ہیں سو جب فصل تیار ہوگی تو پھر یکبارگی انہیں کاٹنے کے لئے غزوہ ہند کی نذر کیاجائے گا اور سرمایہ دار دور کھڑا اپنی قسمت پہ قہقہے لگائے گا_
عرض ہے آپ غزوہ ہند کے لئے بجا طور سے دستے جمع کریں مگر جنت، جہنم اور خدائی فیصلے ہاتھ میں نہ لیں وہ خدا کی مرضی ہوگی جسے جنت، جہنم میں تقسیم کرے گا__مسلمانوں کی بے بسی ہے کہ ایسے لوگ ان کے شعور اور احساسات پر حکومت کررہے ہیں جو اپنے شعور اور احساس سے بھی بے خبر ہیں کچھ لوگوں نے امام مہدی کا شور مچایا تھا ہر گزرنے والا کسی اچھی شکل والے کو امام مہدی کی نظر سے سونگھ کر گزرتا تھا اور جس کی شکل میں کوتاہی ہوتی اس پر دجال کا یقین کرتے۔
خدا راہ بس کرو غیب کی ایسی خبروں س سے جس پر انسانوں کا خون ہی خون بہے گا خدا راہ!!!!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *