جنگِ ستمبر اور بھٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابر عباس خان

چھ ستمبر سے کچھ ماہ قبل، میجر جنرل ٹکا خان نے برگیڈئیر افتخار کو رن کچھ کی مہم سونپی جنہوں 27 اپریل 1965 تک تمام مطلوب علاقہ بھارت سے چھین لیا. رن کچھ کی پسپائی کے بعد بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے اعلان کیا کہ اب ہم اپنی مرضی کا محاذ کھولیں گے. چودہ جولائ 1965 کو کشمیری مجاہدین نے بھارتی فوج کے خلاف گوریلا کاروائیاں شروع کر دیں اور اور بھارتی فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا. 18 اگست کو آزاد کشمیر ریڈیو سے بتایا گیا کہ ایک خفیہ ریڈیو شٹیشن”صدائے کشمیر” کی نشریات سنی گئ ھیں، کہا گیا ھے کہ کشمیر کے عوام نے ایک انقلابی کونسل قایم کر لی ھے اور بھارت کے ساتھ تمام نام نہادمعاہدے ختم کر کے جنگ آزادی کا آغاز کر دیا ھے.اسی ہی دن بھارت نے دعوی کیا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں گوریلا کاروائیوں میں تین پاکستانی فوجی گرفتار کئیے ھیں جنکے بعد میں انٹرویو بھارت نے ریڈیو پر نشر کئیے.

امریکی مصنف سٹیفن فلپ کوہن اپنی کتاب “تصور پاکستان”میں لکھتا ھے کہ 1965 کی جنگ اور کشمیر کی صورت حال ایوب خان کی سٹریٹجک غلطی تھی، اور ایوب خان کو اس راہ پر انکے نو جوان اور فعال وزیر خارجہ ذوالفقارعلی بھٹو نے لگایا جو اسٹیبلشمنٹ کے “پر عزم بے رحم اور باضابطہ” رکن تھے. سٹیفن کوہن کا کہنا ھے کہ جنگ کا مقصد بھارت کو کشمیر کے حوالے سے مزاکرات کی میز تک لانا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ کشمیری خود بھی یکجا ہو کہ اٹھ کھڑے ہو ں گے۔ جبکہ بھارت نے تصادم کا رخ بین الاقوامی سرحد کی طرف موڑ دیا اور نہ ہی کشمیریوں کی طرف سےکوئ قابل ذکر جنبش ہوئ۔۔۔۔ بھارت نے 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اچانک لاہور پر شب خون مارنے کی ناپاک و نا کام کوشش کی، جسکو پاک فوج اور غیور عوام نے بہادری اور جذبہ حب الوطنی و قربانی سے ناکام بنا دیا۔ لاہور کے علاوہ بھارت نے ،سیالکوٹ ،چونڈہ ،کھیم کرن اور راجھستان بارڈپر بھی اپنے مرضی کے محاز کھولے اور ناکام ہوا۔ 20ستمبر کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئ ایک قرارداد منظور کی گئ جس میں 22 ستمبر تک جنگ بند کر دینے کا کہا گیا. 1965 میں ،جبکہ بھٹو حکومت کا اہم حصہ بھی تھے اور خارجہ جیسی اہم وزارت رکھتے تھے، مگر اسی پر اکتفا نہ چاہتے تھے. سن اڑسٹھ میں جب ایوب خان علیل اور سیاسی حالات ابتری کا شکار تھے تو ملک میں آیندہ کے دنوں کیلیے بہت بے چینی پائ جاتی تھی۔ ملک غلام جیلانی کا اندازہ تھا کہ فوج ہی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور یہ سمجھتے تھے کہ فوج ہی کی مدد سے ایوب خان کو حکومت سے الگ کیا جا سکتا ھے، اسطر آنے والی فوجی قیادت کے ہاتھوں سے اقتدارلینے میں آسانی ہوگی۔ انکے اس خیال میں وہ بھٹو اور اصغر خان کو اپنا حمایتی سمجھتے تھے.

جب اگست 1965 میں مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی طرف سے گوریلا کاروائیوں میں حصہ لیا گیا تو یہ ایک انتہائی اہم سوال موجود تھا کہ بھارت اس کے ردعمل میں پاکستان کی سرحدوں پر فوج کشی کر سکتا ھے. یہ خدشہ اپنی جگہ سو فیصد درست تھا، مگر اس وقت کی وزارت خارجہ کی طرف سے اطمینان دلایا گیا کہ کشمیر کے واقعات براہ راست بھارت کے خلاف بھی ہو جائیں تو بھارت اس صورت میں بھی پاکستان کی سرحدوں ہر حملہ نہیں کر سکے گا یہ بھٹو صاحب کی وزارت تھی اور عزیز احمد اسکے سیکرٹری خارجہ تھے.

23ستمبر، نیو یارک میں بھٹو صاحب نے ایک تاریخی اور دبنگ تقریر کی، جس میں بہت سی اہم اور درست باتوں کے ساتھ ساتھ بھٹو صاحب نے ،”شاید تیسری دنیا میں پاکستان کا بھرم قائم رکھنے کی خاطر “یا کچھ اور مخفی مقصد کے واسطے” یہ تاثر دیا کہ ہم جنگ بندی نہیں چاہتے اور ہم اپنے دفاع اور کشمیری قوم کے حق خوداردایت کیلیئے ہزار سال تک بھی لڑنے کو تیار ھیں. تقریر کے دوران سیکرٹری خارجہ نے انتہائ ڈرامائی انداز میں آگے بڑھ کر بھٹو صاحب کے کان میں کچھ کہا اور اسکے ساتھ ہی بھٹو صاحب نے کہا اگرچہ ملک و قوم جنگ جاری رکھنا چاہتی ھے لیکن حکومت پاکستا ن کے فیصلے کے مطابق جو کہ مجھے ابھی موصول ہوا ھے ، ہم جنگ بندی کی قرارداد منظور کرتے ھیں. جبکہ حکومت پاکستان کا جنگ بندی کو منظور کر لینے کا فیصلہ نیویارک پہنچنے سے پہلے ہی انکی جیب میں نہ صرف موجود تھا بلکہ تمام بڑی حکومتیں اس امر سے پہلے سے ہی آگاہ بھی تھیں. ہو سکتا ھے سٹیفن فلپ کوہن، جو امریکی مصنف ھے، کو کشمیریوں اور پاکستان سے عداوت ہو یا 1978 سے پہلے بھٹو نے پاکستان آنے کیلیئے اسکا ویزہ مستر کر دیا تھا، اس پر بھٹو صاحب سے کوئ ذاتی پرخاش رکھتا ہو۔ مگر بھٹو صاحب کی تقریر کے بعد اس وقت کے امریکہ میں پاکستان کے سفیر غلام احمد نے بڑے معنی خیز انداز میں ان سے انگریزی میں پوچھا کہ آپ نے یہ تقریر درحقیقت کن لوگوں کیلیئے کی ھے؟ ذوالفقارعلی بھٹو نے برجستہ جواب دیا ” شکار پور کے رہنے والوں کیلیئے”. بظاہر یہ سادہ جملہ اپنے اندر مستقبل کے فیصلے لئیے ہوئے تھا. یہ تقریر اور سلامتی کونسل میں بھارتی ہم منصب سورن سنگھ کو دی بھٹو صاحب کی گالی، بھارت دشمنی کا عوام پر بہترین نفسیاتی وار تھا۔ بعدازاں تاشقند کے معاہدے کو بنیاد بنا کر ایوب خان حکومت سے علیحدگی نے اس وار کو مزید تقویت بخشی اور ہر چڑھتا دن بھٹو کی مقبولیت اور ایوب خان کے زوال کی منزل قریب لاتا گیا۔

16دسمبر 1968 کو حیدرآباد میں رسول بخش تالپور کی رہایش گاہ پر پیپلز پارٹی کا قیام ہوا، 25 مارچ 1969 کو ایوب خان کا یحیی خان کو “آئینی فرایض “انجام دینے کا دعوت نامہ موصول ہوا اور اسی دن ملک میں پھر مارشل لا نافذ ہو گیا. انتخابات ہوئے ،1971 کا سانحہ ہوا اور تاریخ نے پہلا سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر دیکھا. یہ کہنا مشکل ھے کہ عنانیت کا فیصلہ کب کیا گیا مگر شواہد کہتے ھیں کہ تیاری بہت پہلے کی اور بہترین تھی. 

نواب شاہ بلکہ پورے اندرون سندھ کے عوام بہت ” سادہ لوح” ھیں۔ مگر اب پاکستان کی عوام بھٹو دور سی سادہ نہیں رہی اور بہتر سیاسی شعور رکھتی ہے۔ اب اسے کسی جنگ کے نفسیاتی کارڈ سے اور نہ ہی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے سے فتح اور تقسیم کیا جاسکتا ھے۔ اس کا ثبوت حالیہ دنوں میں کراچی اور اگست کے مہینے میں بلوچستان میں عوام دے چکے ھیں.

پاکستان پائندہ آباد.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *