کراچی : شہرِ قائد میں جرائم پیشہ عناصر کھلے عام وارداتیں کرتے ہیں اور نِکل جاتے ہیں، یہ ملزمان قانون کی آنکھ سے تو بچ جاتے ہیں،لیکن گلی کوچوں میں کوئی اُن پر مسلسل نظر رکھتا ہے، بدقسمتی سے اَب وہ نظریں خراب ہونے لگی ہیں۔
مجرموں کو پکڑنے میں مددگارسی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ ہر حرکت پر نظر رکھتی ہے۔ پولیس ستر فیصد گرفتاری کیمرے کی مدد سے کرتی ہے،لیکن افسوس کہ فوٹیج یا تو قریبی اسکول سے لی جاتی ہےیا پھر کسی اسپتال یا دوسرے ذریعے سے۔
کیونکہ سرکاری کیمرے کی آنکھ میں اتنی صلاحیت نہیں،جتنی پرائیوٹ کیمروں میں ہے۔
کراچی میں کل 5ہزار سات سو سے زائد سرکاری کیمرے ہیں،جن میں ٹو اور فائیو میگا پکسل کیمراز ہیں۔
جبکہ پولیس کو 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمراز لگانے کیلیے جو امریکی امداد ملی، وہ منصوبہ آج تین سال بعد بھی جوں کا توں پڑا ہے۔ اگر شہر بھر کے کیمراز مکمل فعال ہوں تو ملزمان قانون سے بچ نہیں سکتے۔
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں