تلخ حقائق کڑوی باتیں

چند روز قبل ایک معمرشخص میرے پاس آیا اور علیک سلیک کے بعد فوراً پوچھنے لگا:’’ آپ کس جماعت اور مسلک سے وابستہ ہیں؟‘‘ اپنے سوال کا جواب سننے سے قبل ہی انہوں نے پھر سے بولا: کہیں آپ فلاں جماعت اور فلاں مسلک سے وابستہ تو نہیں ہیں؟‘‘ میں حیران ہو گیا، اس لیے نہیں کہ وہ میرے لیے اجنبی تھا بلکہ اس لیے کہ وہ شخص خود ہی سوال کیے جا رہا تھا اور خود ہی جواب بھی دے رہا تھا۔ میں نے اس کا یہ طریقہ دیکھ کر کچھ دیر چپ سادھ لی ، اس دوران وہ بار بار سوالیہ انداز سےپوچھا کہ کہ بتائو …بتائو…!کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ پھر جھٹ سے بولا: ’’گھبرائو مت میں کوئی غیر نہیں اپنا ہی ایک بھائی ہوں… بس کچھ مسائل تھے جو میں آپ کے پاس لے کر آیا…۔‘‘ اس کی بات ابھی ختم نہ ہو ئی تھی کہ میں نے پوچھا ’’میرے پاس کیوں آئے؟ کس نے بھیجا اور کس لیے بھیجا‘‘ ؟اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے ہی کیوں حل مانگتے ہو؟‘‘ وہ بولا:’ میں کسی کے کہنے پر آپ کے پاس نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے آیا ہوں۔‘‘ اب میں نے مناسب سمجھا کہ اس کی بات تفصیل سے سنو ں ۔
میری خاموشی دیکھ کر اس کے لب ہل رہے تھے لیکن اس بار اس کے الفاظ سنائی نہیں دے رہے تھے۔ میں بس خاموش رہا۔آخر کار زور سے ہاتھ ہلا کر اس کی زبان سے یہ جملہ نکلا’’میں تمہارے فلاں علاقے کا ایک ایسا شخص ہوں جس کے بارے میں نہ صرف تم بلکہ یہاں علاقہ میں رہنے والے لوگ اچھی طرح سے واقف ہیں۔ تم نہ سہی لیکن تمہارے علاقہ سے چند ایسے لوگ ہیں جو کم از کم سال بھر میں دو مرتبہ میرے گھر آتے ہیں۔‘‘ میں اس بزرگ کی باتیں سمجھنا چاہتا تھا… اسے جاننا چاہتا تھا لیکن باتوں کی تیز روانی کے سبب اچھی طرح سے کچھ بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق میں نے ذر ا سی اونچی آواز میں کچھ کہا تو ہ یکایک بیٹھ گئے، کہنے لگے:’’آپ غصہ مت ہوں، میں سن رہا ہوں، بات آہستہ سے بھی ہو سکتی ہے۔‘‘ یہ سن کر مجھے احساس ہو ا کہ مجھے اس طرح اُن سے بات نہیں کرنی چاہیے تھی کیوں کہ وہ مجھ سے بڑے ہیں اور اجنبی مہمان بھی ۔ دوبارہ اپنی خاموشی توڑ کر میں نے سوال کیا : ’’میں آپ سے واقف نہیں ہوں، البتہ آپ کہتے ہیں کہ ہمارے علاقہ کے کچھ لوگ آپ سے ملتے رہتے ہیں، تو اس لحاظ سے میں آپ سےبڑے ادب سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ مجھ سے کیا کام ہے؟ ‘‘انہوں نے سر جھکاتے ہوئے سلیقہ مند انداز میں کہا کہ ’’میں فلاں علاقہ کے فلاں گھر سے وابستہ ہوں… میری… بیٹیاں اور …بیٹے ہیں… ، لیکن خدا کی کرنی کہ ایک بیٹا بچپن کے صرف گیارہ سال گزار سکا اور دنیا ئے فانی سے مجھ کو داغ مفارقت دے گیا، اب جو بیٹیا ںمیرے کندھوں پر سوار ہیں ان کا بوجھ اٹھانے کی میں سکت نہیں رکھتا… وہ پڑھائی بھی چھوڑ چکی ہیں… کیوں کہ ان کی پڑھائی کا خرچہ میری آمدن سے بہت زیادہ تھا، اب میں ان کو کھانے کو دیتا یا ان کی پڑھائی لکھائی کا خرچہ اٹھاتا؟… اس لیے ان کی پڑھائی بند کرنی پڑی، البتہ پہلی…بیٹی نے دسویں پاس کیا ہواہے۔ باقی سب پانچ سات جماعتیں ہی سکول میں پڑھی ہیں… !
میں خود کئی بیماریوں کا شکار ہوں کہ مہینہ بھر کام بھی نہیں کر پارہا ہوں، بیماری کی وجہ سے کبھی ایک دن تو کبھی دو دن اور کبھی پورےکا پورا ہفتہ ہی گھر میں پڑا رہتا ہوں ، جس کی وجہ سے میں گھر کی ذمہ داریاں اچھی طرح نبھا نہیں پا رہا ہوں۔‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا ’’کوئی مددگارنہیں کیا ؟ انہوں نے غصے میں کہا کہ ’’وہی تو پوچھنے آیا ہوں کہ میرے مددگار کہاں ہیں؟‘‘ چند لوگ جو کم از کم دو مرتبہ عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مواقع پر ہمارے یہاں آتے ہیں، عید کا خرچہ پانچ چھ سو رپے دے کر پورے سال تک غائب ہو جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا :’’آپ ان کو جانتے ہیں؟انہوں نے اثباتاًسر ہلاکر کہا : ’’ اچھی طرح سے لیکن ان کے سامنے دست ِسوال دراز نہیں کرتا … بس سلام کرتا ہوں۔ میں نے کہا : ’’تو پھر میرے پاس کیوں آئے؟‘‘ میرا یہ کہنا تھا تو اس نے ایسی روداد سنائی کہ سن کر میں پورے کاپوار ساکت وصامت ہو گیا! واللہ اس نے جو بات کہی وہ میرے دل میں جیسے کانٹے کی طرح چبھ کر ایسا درد دے گئی کہ آج تک محسوس کر رہا ہوں۔ ۔۔آنکھوں میں آنسو اور بات میں نرمی لیکن غصے کے ساتھ انہوں نے کہا :’’ جو لوگ میرے پاس آتے ہیں ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہوتا ،وہ مسجد کی چار دیواری میں چند پیسے عید کے موقعوں پر جمع کرتے ہیں اور اس کو ہم جیسے غریب اور نادار لوگوں پر خرچ کر دیتے ہیں، لیکن جن کے پاس سب کچھ ہے وہ بہت سارا پیسہ رکھتے بھی ہیں اور لوگوں سے جمع بھی کرتے ہیں اور الحمد للہ خرچ بھی کرتے ہیں لیکن ’’مخصوص لوگوں میں‘‘۔
یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی، اس لیے سوال کیا ’’مطلب‘‘؟اس نے کہا :’’یہاں جو جس طبقہ، جماعت، تنظیم، فرقہ اور مسلک سے وابستہ ہے وہ اپنے ہی مسلک وغیرہ کے لوگوں کی مدد کرتا ہے، چوں کہ میں نہ ہی کسی مسلک سے ہوں اور نہ ہی کسی تنظیم وجماعت سے، اسی لیے میرے پاس کوئی نہیں آتا۔میرے گھر میں الحمد للہ چولہا جل رہا ہے، علاقے میں رہنے والی میری بیٹیوں کی ہم عمربچیاں سکول، کالج اور یونیورسٹی جاتی ہیں، میرے گھر کے آس پاس میرے علاقہ کی بیٹیوں کی شادیاں ہو رہی ہیں…لیکن…!لیکن…! میرے گھر کا کوئی غم خوار نہیں، کوئی نہیں دیکھتا کہ آخر اس گھر کے لوگوں کی کیا حالت ِ زارہے؟ کوئی اس بات پر غور نہیں کرتا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اس پڑوسی کی اتنی بیٹیاں ہیں، وہ اسکول کالج وغیرہ کیوں نہیں جاتیں؟ وہ رونے لگا اور میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ مجھ سے کیوں سوال کر رہا تھا کہ میں کس جماعت اور مسلک سے وابستہ ہوں۔ میں نہ تو اسے تسلی دے پا رہا تھا اور نہ ہی ہمدردی کی کوئی بات کہہ پا رہا تھا…کیوں…؟؟؟کیوں کہ مجھے اس کی باتوں میں سچائی نظر آرہی تھی… !سوچتا ہوں کہ ہمارا سماج کس قدر اخلاقی طور کھوکھلا ہو چکا ہے ، انسانیت ختم ہو چکی ہے، تنظیم وجماعت اور مسالک سے وابستہ لوگ اپنا تو سوچتے ہیں لیکن دوسرے مسلک، دوسری جماعت کے لوگوں اور دوسری ذات برادری سے منسلک افراد کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ اُف خدا یا! کب ہماری یہ تنگ دل سوچ بدل جائے گی… ؟کب ہم بحیثیت مسلمان بن کر سوچیں گے؟ کب وہ یادیں پھر سے تازیں ہوں گی جہاں نہ کوئی بڑا نہ کوئی چھوٹاتھا، جہاں نہ کوئی رنگ اور نہ ہی زبان تھی، جہاں نہ کوئی مسلک وجماعت اور نہ ہی فکر وغیرہ… اگر کچھ تھا تو وہ صرف اسلام کا عملی اظہار تھا۔ اسلام کی عملی ہمدردانہ صورت تھی اور وہ غمسگسارانہ صورت نہ صرف مسلمان کے لیے تھی بلکہ تمام انسانیت کے فیض کا سامان تھی، جس میں غیر بھی اپنےجیسا پیار اور توجہ پا رہا تھا، جہاں اپنے تو اپنے غیر بھی ببانگ دہل التجا ودعا کر تے تھے ’’خدایا! ہمیں ان کی غلامی نصیب کر، ان کو ہم پر مستقلاً مسلط فرما‘‘ ۔ غیروں کے ساتھ جب انسانی روش کا یہ حال ہو تو ان پاک نفوس کا اپنوں کے ساتھ سلوک کیا ہو گا؟اس حقیقت کا نظارہ دنیا کر چکی ہے اور پھر ایک بار چشم فلک کر سکتی ہے لیکن تب، جب مسلمان انسانیت کا خیر خواہ بن کر کھڑا ہو جائے۔ اسے اپنوں کی فکر ، غیروں کادرد اور ان کے درد کے در ماں کا خیال دل وجان میں رہے ۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *