راجہ جی کے دربار میں

راجہ جی کے دربار میں
(ایک طویل مضمون سے تحریف اور تخفیف شدہ اقتباس)
یادش بخیر، اسی کی دہائی کا اختتام تھا جب کا یہ قصہ بیان کر رہا ہوں۔ویسے تو یہ زلف تراشی و آرائشِ گیسو کا سیلون تھا مگر راجہ اِندر کی سبھا سے کم نہ تھا کہ اس میں اصلی گوپیوں کی جگہ ان کی وہ تصاویر آویزاں تھیں جنھیں دیکھ کر شیرخوار بِلک بِلک کر مِلک مِلک پکار اٹھتے ہیں اور ادھیڑ عمرو پیرانہ سال ،رال اور عرق انفعال ٹپکانے کی سعی ناکام کیا کرتے تھے ۔راجہ جی اس دَربار ِ دُربار کے راجہ اندر تھے جن کی قلمرو میں نفوس کے سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخونوں تک سب کچھ شامل تھا ۔ان تمام مراحل میں جب ان کے ہاتھ میں قینچی یا استرا ہوتاتو ہر لمحہ جان پر بنی رہتی کہ پتہ نہیں کب پرکھوں کا جنگجویانہ خون جوش میں آکر اسے تلوار ہی نہ سمجھ لے ۔
راجہ جی کے آبا ،بقول ان کے پیشہ سپہ گری سے منسلک تھے اور ماورآ النہر سے آنے والےبیرونی حملہ آوروں کے خلاف برسرِ پیکار اس بہادر اور جری نسل سے تعلق رکھتے تھے جو تلوار کے دھنی تھے اور اب مدت مدید سے دھنیا پی پی کر اپنی خُو سے دستبردار ہوکر لام میں سروں کی جگہ بال کاٹنے پراکتفا کرتے تھے ۔وہ تلوار جو کبھی دشمن کے سر کاٹا کرتی تھی گھس گھسا کر تیز دھار استرے کا روپ دھار چکی تھی اور سر مونڈھنے سے لے کر خط بنانے اور بغلیں جھانکنے کی بجائے صاف کرنے کے کام آتا تھا۔
راجہ جی کا یہ دربار دو مختلف بستیوں کو قطع کرتی ہوئی سڑک کے سنگم پرتھا ۔ایک طرف سرکاری طور پر منظور شدہ اور تمام بنیادی سہولتوں سے آراستہ متوسط لوگوں کی آماجگاہ جبکہ سڑک کے اس پار ایک ایسی کچی بستی تھی جو بستے بستے بس گئی تھی ۔معمولی ملازمت پیشہ سے لے کر گوجر اور ڈوگر برادری اپنے مال مویشیوں ،گھوڑے تانگوں اور ہر دو طرح کے گدھوں کے ساتھ محو کام ،خرام اور حرام رہتے تھے۔ہر دو آبادیوں کے مکیں اس دربار کی حدود میں رہنے کے باعث وہاں حاضری لگوانے پر مجبور تھے ۔دو عدد غسل خانے بھی اس کے کاروبار کی شان بڑھانے کے لئے تعمیر کئے گئے تھے۔گرمیوں میں گرم اور سردیوں میں ٹھنڈا پانی بقدر اشک بلبل برائے اشک شوئی موجود ہوتا تھا۔
ان حماموں سے فیضیاب ہونے والوں میں زیادہ تعداد ان بزرگوں کی تھی، جو اپنی عمر رفتہ اور گذری جوانی کا رعب جمانے اور ایک دوسرے کے خون کو جوش دلانے ،خط کروانے کے بہانے یوں انگڑائیاں لیتے ہوئے آتے گویا یہ تاثر دے رہے ہوں کہ تیری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ۔ خط کروانے سے لے کر ،غسل ،محلہ جاتی سازشوں اور ناسفتہ خواہشوں اور سردیوں میں سرد ہوتے ہوئے جذبات کوگرم کرنے کی کوشش کرتے پائے جاتے اور گرمیوں میں گرماگرم اسکینڈلوں سے سینڈلوں تک سب کچھ زیرِ بحث آتا۔ موضوع ِ سخن یوم جمعہ کے اجتماع کی بجائے شب گذشتہ کے جماع کے قصائص اور شبانہ روزمصروفیات کی تفصیل کی بجائے شبینہ دوز بلکہ دلدوز داستان حسرت سنائے جانے پر ہوتا اور خلیفہ کی شان بلند کی جاتی کہ اسی کے دیے ہوئےمشوروں،نسخوں سے کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔سیاست توخیر تھی ہی گھر کی لونڈی ،اس لئےٹکےٹکے پر نچوائی جاتی ۔سیاسی سرخیوں سے لے کر فلمی اداکاروں کی سرخی پاؤڈر سب کچھ زیر بحث آتا۔اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ راجہ جی کوئی عمر رسیدہ،چشم کشیدہ قسم کے انسان تھے تو یہ قیاس صحیح نہیں۔
ابھی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھی تھیں مگر بچپن سے اسی پیشہ کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے عمر اور تجربہ اریب قریب تھے اور چھٹپن میں شادی اور جلد باپ بننے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھے دکھتے تھے گرچہ حوصلے چاند کو اب بھی چھونے کو تھے، مرادا چندا بائی سے ہے ۔راجہ جی کی خاص بات ان کی آنکھوں کامعمولی بُعد تھا جس کی وجہ سے ہر کسی کو لگتا کہ مرکز نگاہ وہی ہے جب کہ حقیقت یہ تھی کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ اور جہاں لگتا دھیان نہیں ہے وہیں سارا دھیان ہوتا تھا ۔سر مونڈھ رہے ہیں اور لگتا تھا کہیں اور دیکھ رہے ہیں اس لئےگاہک کا خون خشک رہتا کہ نہ جانے پلٹ تیرا دھیان کدھر ہے، کہنے سے پہلے کہیں کان نہ کٹ جائے اور کن ٹٹے کی جگہ کن کٹا نہ کہلوانا پڑ جائے۔اپنے بچپن میں ہم نے ایک کن ٹٹا بڑھئی دیکھ رکھا تھا جو کن کٹا بھی تھا اور اس کی شکل سے ٹپکتی دہشت ہمارا کالجہ دہلا دیا کرتی تھی۔
راجہ جی سے ہمارا صحیح معنوں میں ٹاکرا تب ہوا جب بال کٹوانے کےعلاوہ پہلی بار مسیں اور شلوار ایک ساتھ بھیگیں۔چہرے پر روئیدگی اتنی بڑھ گئی کہ لوگ ہمیں بھی مدرسے کانو آموز بچہ مولوی سمجھنے لگے ۔ابتدائی اسباق برائے صفائی وستھرائی اور احکامِ غسل ابا حضور سے پراپت ہوئےمگر پہلی شیو کا تجربہ گھر پر کرنے سے احتراز کرنا ہی مناسب جانا اور ہمت جُٹا کر راجہ جی کے دربار میں حاضر ہوگئےجو تازہ تازہ کسی لونڈے کی رسم مسلمانی سے فارغ ہوکر شاداں و فرحاں واپس لوٹے تھے اور اپنے مفتوحہ مال کو اترا اترا کر دکھا رہے تھے اور ساتھ ساتھ زمانے کی بے ثباتی سے شکوہ کناں تھے کہ اب تو کوئی جلد برائے رسم ختنہ بھی نہیں بلاتا جیسے میں ختنہ پرور ہوں۔
سب بھاگ کر بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں اور ہماری روزی پر لات مارتے ہیں۔کیا دور تھا جب فصد کھولنے ،جونکیں لگوانے،عمل ِجراحی سے پھوڑے پھنسی کو چیرا لگوانے تک عوام ہمارے پاس آیا کرتی تھی اب تو سب کچھ سائنسی ہوگیا۔ شادی بیاہ پر دیگیں پکاتے تھے ،اس پر بھی شادی ہال والوں نے لات مار دی اور دیگی سالن کی بجائے اپنے ککس سے کھانا پکوا کر کھلا دیتے ہیں ۔لوگ بھی اب تو اچھے دیگی پکے سالن کا مزا کہاں پاتے ہیں۔لڑکی ،لڑکے کے رشتوں کا کام بھی اب تو ٹھپ ہوگیا ورنہ کیا مجال تھی جو ہم سے پوچھے بنا رشتہ طے کیا جاتا ، جب تک لڑکے کی بلوغت اور اچھے چال چلن کی تصدیق ہم سے نہ ہوتی لڑکی والے ہاں نہیں کرتے تھے۔شادی کا سدا دینے ہم گھر گھر جایا کرتے تھے اور نیگ اور انعام ملتا تھا اب یہ فریضہ بھی لڑکی کے کزن اور ناکام عاشق اور لڑکے والے خود ادا کرتے ہیں ۔
خیر اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ راجہ جی بولے ہاں بھئی لمڈے کیسے آنا ہوا؟ ڈرتے ڈرتے عرض کیاراجہ جی کلین شیو کردیں،بال کافی بڑھ گئے چہرے پر ،خشمگیں نگاہ ڈالی کیوں میاں صاحبزادے چکنے بن کر کیا کرو گے؟ ابھی تو تمہارے کھیلنے کھانے کے دن ہیں۔ایسا کرو موٹی مشین پھروالو ابھی استرے کی دھار مت لگواؤ۔ذرا اور انتظار کرلو جب تک بال مزید گَھنے اور تم خود گھُنے نہ ہوجاؤ۔ ہماری اتنی مجال کہاں کہ ان کے مشورے جو اصل میں حکم نامہ ہی ہوتا تھاسے سر مو سرتابی کرسکیں۔سر نیہوڑائے اونچی کرسی پر براجمان ہوکر بیٹھ گئے۔راجہ جی نے ہاتھ سے چلنے والی مشین سے بالوں کی کھیتی اجاڑنا شروع کردی،ساتھ ساتھ مشوروں کی پوٹلی بھی کھلتی گئی اور دھڑا دھڑ مشورے یوں باہر گرنے لگے جیسے کسی بوری میں سوراخ ہوگیا ہو اور اناج باہر ابل پڑا ہو۔دیکھو میاں کبھی الٹی شیو مت کرنا ورنہ منہ لسلسے آلو کی طرح لگے گا اور بلیڈبھی ذرا دھیان سے استعمال کرنا کہیں اپنے چہرے کو لہو لہان نہ کرلینا ۔اگر کٹ لگ بھی جائے تو گھبرانا نہیں گھر میں اماں سے پھٹکڑی کی ڈلی مانگ لیجیو اور اسے گیلا کرکے اچھی طرح رگڑ لیجیو ۔یہ آفٹر شیو لوشن کچھ خاص نہیں ہوتے ۔ایک اور مفت مشورہ پلے باندھ لو ، جب بھی نہاؤ، شیو اس کے فوراََ بعد کرو ،اس وقت چہرے کے بال نرم ہوتے ہیں اور کم تکلیف اور جلد شیو ہوجاتی ہے اور تھوڑے جھاگ اور صابن سے گزارہ ہوجائے گا ۔اور ہاں صابن کا استعمال صرف نہانے کے لئے ہی کرنا ورنہ تمہاری صورت دیکھ کر ہی مجھے پتا چل جائے گا اور باوا کو بول دوں گا۔
گرمی دانوں اور کیل مہاسوں سے بچنے کےلئے گزک اور منٹو سے پرہیز بہت ضروری ہے اور فلمیں بولتی دیکھا کرو بلکہ کارٹون والی زیادہ مباح ہیں ،جن خاموش فلموں کا تذکرہ بڑے بوڑھے کرتے ہیں وہ واقعی میں بنا آواز والی ہوتی تھیں آج کل والی آواز بند کرکے دیکھنےوالی نہیں ، ہاں چل بھاگ اب اور چھت پر پتنگ اڑانے کم جایا کر ،یہ مولبی کہیں نئی نئی جوان ہوتی ہمسائی نے تو نہیں بول دیا جو یوں بھاگم بھاگ حمام پر بھاگ آیا۔دیکھنے والے بھی تاڑ کی (اسے تارڑ بھی پڑھ سکتے ہیں ) نظر رکھتے ہیں۔ منہ اور کان لپیٹ کر نکلنے میں ہی عافیت جانی اپنے تئیں جسے سب سے چُھپا رہا تھا سارا زمانہ اس کا قصہ سنا رہا تھا۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”راجہ جی کے دربار میں

  1. غضب کا اقتباس۔ معلوم نہیں پوری تحریر کاکیا حال ہوگا۔واقعی لطف آگیا۔ذومعنی اوراستعاروں سے بھری دلچسپ تحریر جو بلاشبہ قدیم اردو ادب کاپرتو معلوم ہوئی۔

  2. نہایت عمدہ مزے کا انشائیہ ہے۔ مصنف کا کمال یہ ہے کہ سارا ماحول، کردار اور گفتگو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہی ہو۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *