یورپ جہاں زندگی آزاد ہے۔۔۔۔۔۔میاں ضیا الحق/قسط6

دو دن روم اور ویٹیکن میں ٹورسٹنے کے بعد اگلی منزل فرانس کا شہر پیرس تھا۔ رات کو ہوٹل پہنچتے ہی پہلا کام گوگل پر روم سے پیرس فلائیٹ ڈھونڈنا تھا کہ ٹرین یہی 2 گھنٹے فلائٹ کا سفر 10 گھنٹے میں طے کرتی ہے اور کرایہ بھی تقریباً  اتنا ہی۔ یورپ کی لوکل ائیر لائینز میں Vueling سب سے سستی 290 یورو میں ملی کہ دو دن بعد نیو ائیر تھا اور پیرس جانے کا رش بے انتہا۔ ٹکٹ اور بورڈنگ کارڈ ای میل کے ذریعے وصول ہوگئے تو بھوک ستانے لگی۔ شہر کا آخری چکر لگانے کا موقع ملا تو نزدیکی ریسٹورنٹ کا خیال آیا جو کہ بس سٹینڈ کے بالکل سامنے تھا۔ اٹالین ویٹر پہلے سے تیار شدہ پیزا گرم کرکے سامنے لایا تو اس سے کہا کہ بھائی ہم تو روٹی بھی تازہ لگوا کر کھاتے ہیں اور تم پیزا پرانا لے آئے ہو۔ اس نے نہائیت اطمینان سے کہا کہ میاں تمہارے پاس دس منٹ ہیں جلدی کرو ورنہ اس سے بھی جاؤ  گے کہ ہمارا ٹریڈ لائسنس 12 بجے رات تک کام کی اجازت دیتا ہے۔ جلدی میں یہ بھی نہ  پوچھا کہ یہ بیف ہے یا چکن کہ جب ڈکار آئے گا تو خودبخود ہی پتا چل جائے گا۔ پیزے کے ساتھ بئیر بھی تھی اور حلال کا لیبل لگانا بھول گئے تھے شاید۔ کل9:30 صبح کی فلائیٹ لینے کے لئے دو گھنٹے پہلے روم کے FCO ائیرپورٹ پہنچنا تھا۔

یورپ!جہاں زندگی آزاد ہے ۔ ۔۔۔میاں ضیا الحق/قسط 5
روم میں اوبر اور کریم کی بجائے مائی ٹیکسی کی ایپ زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ صبح چھ بجے ٹیکسی والا اٹالین آن پہنچا۔ یہ جان کر بہت عجیب لگا کہ یہ اٹالین لوگ جو کہ یورپ کے چھٹے امیر ترین لوگ ہیں ٹیکسی خود چلاتے ہیں۔
اس نے بتایا کہ وہ پہلے ایک ہاسپٹل میں ملازمت کرتا تھا اور اس کے ایک ساتھی کا تعلق بھی لاہور سے تھا اور اس لاہوری کا محبوب مشغلہ انڈین لوگوں سے بحث اور پھر لڑائی ہوتا تھا۔ میں اس کو بتاتے بتاتے رہ گیا کہ پاکستان میں دینی اور دنیاوی کے ساتھ ساتھ انڈیا سے منہ ماری بھی ہماری بنیادی تعلیم میں شامل ہے۔

پیرس آمد:
2 گھنٹے بعد فلائٹ پیرس اتر چکی تھی۔ اب اٹالین کے بعد فرینچ زبان آزمانے کی باری تھی کہ پورا یورپ ناصرف ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتا بلکہ جاننا چاہتا بھی نہیں۔ کسی میرے جیسے نے ایک فرانسیسی سے پوچھا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ تم انگلش نہیں جانتے اس نے مسکرا کر کہا کہ نہیں مسئلہ یہ ہے کہ تم فرینچ نہیں جانتے۔
ڈومیسٹک فلائٹ کی وجہ سے پاسپورٹ کنٹرول نہیں جانا پڑا۔ جہاز سے اتر کر سیدھا باہر آیا تو بادلوں سے ڈھکے پیرس کی سرد یخ لیکن خوشبودار تازہ ہوا نے استقبال کیا۔
اٹلی کی نسبت یہاں سیاہ فام زیادہ تعداد میں نظر آئے شاید فرینچ نیشنل ہی ہوں کہ آدھے سے زیادہ افریقہ فرینچ کالونی رہا ہے اور وہاں لوگ اب بھی انگلش کی بجائے فرینچ بولتے ہیں۔
ٹیکسی والا 30 منٹ بعد ہوٹل ڈی لا جاٹے De La Jatte چھوڑ آیا۔ یورپ میں ٹیکسی مہنگی ہے ٹیکس ملا کر 50 یورو بل ادا کیا تو اگلی دفعہ میٹرو ٹرین اور بس استعمال کرنے کا پختہ ارادہ خودبخود بن گیا۔
دریائے سینی اس علاقے کے دونوں اطراف سے گزرتا ہے جس میں یہ ہوٹل تھا یعنی دریا نے اسے ایک جزیرہ بنا دیا ہے۔ بہتے دریا چونکہ ہارٹ فیورٹ ہیں اور وہ بھی پیرس کا دریائے سینی تو یہاں رکنا مزہ دوبالا کرنے کے مترادف تھا اور ایسا ہی ہوا۔

پیرس میں شام جلد ہی آجاتی ہے اور صبح نو بجے تک گھپ اندھیرا رہتا ہے۔ اس لئے ارادہ کیا کہ سفر کی تھکان اور اندھیرے کو بہانہ بناتے ہوئے مرکزی شہر جانے کی بجائے نزدیکی علاقے رات گئے تک دریافت کیے  جائیں اور کل علی الصبح شانز لیزہ سٹریٹ، ٹرائیمف آرچ  اور آخر میں ایفل ٹاور پر نیو ائیر نائٹ منائی جائے۔
ہوٹل کی کھڑکی دریا کا خوبصورت نظارہ دیتی تھی لیکن  سرد ہوا نے زیادہ دیر تک محظوظ ہونے نہیں دیا۔ گوگل سے معلوم ہوا کہ نزدیک ترین سپر مارکیٹ 200 میٹر ہے۔ سردی کے حساب سے چہارم پنجم کپڑے پہن کر باہر نکلنا ہی عقلمندی تھی۔ اس سڑک کا نام Boulevard Bineau تھا اور اس پر پرانے طرز کے ٹریفک سگنلز بہت منفرد لگ رہے تھے۔ دونوں اطراف موجود دکان نما شو روم صاف ستھرے اور جاذب نظر تھے۔ ایک سبزی کی دکان نظر آئی جس میں تمام سبزیاں سلیقے سے سجا کر رکھی گئی تھیں جیسے بیچنے کی بجائے ڈیکوریشن پیس ہوں اور ایک پوری فیملی بیٹھ کر آج کی آمدن کا حساب کتاب کررہی تھی۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہمارے ہاں کم ازکم اتنا تکلف نہیں۔ سبزی خریدنی اور بیچنی بہت آسان ہے کہ کہیں بھی رکھ کر بیچ دو۔

سپر مارکیٹ سے چکن سینڈویچ اور پینے کا پانی خریدنے کے علاوہ باقی تمام اشیاء پر بھی توجہ دی کہ یہ میرا شوق ہے کہ جہاں بھی جاتا ہوں مقامی گراسری اور لوکل بنی ہوئی اشیاء کا ضرور جائزہ لیتا ہوں۔ اٹلی اور اب پیرس میں کسی جگہ بھی کوئی غیر معیاری چیز بکتی نہیں دیکھی۔ چیزیں مہنگی لیکن اعلی کوالٹی کی بیچی جاتی ہیں۔ سپر مارکیٹ کی سیلز گرل انگلش سے ایسے ہی ناواقف تھی جیسے ہم فرینچ سے۔ چند منٹ کی دو طرفہ کوشش کے بعد جب بات کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تو اپنا والٹ اس کے سامنے کردیا کہ یہ لو جتنا بل ہے خود ہی نکال لو۔ اس نے مسکرا کر سات یورو نکالے اور میرسی Merci کہہ کر الوداع کردیا۔

سردیوں میں دریا کی روانی ہمیشہ کم ہوتی ہے اس لئے دریائے سینی بھی چپ چاپ بہے جارہا تھا۔ اس دریا کے دونوں کناروں پر رننگ ٹریک بنے ہوئے ہیں جہاں اس ظالم سردی میں بھی بہت سے فرانسیسی خواتین و حضرات دوڑ لگا رہے تھے۔ دل تو چاہا کہ پوچھوں کہ جسم گرم رکھنے کا یہ کونسا طریقہ ہے بھئی کہ ایکسرسائز  کے لئے رننگ تو صبح سویرے ہوتی ہے۔ رات کو تو بس ہیٹر لگاؤ  اور سوجاؤ ۔ اب کون سمجھائے ان کو۔۔۔۔

ٹھنڈی رات کا پرسکون ماحول اور پیرس میں ہونے کا احساس بہت اطمینان بخش لگ رہا تھا کہ پیرس کے بارے میں سنا تھا لیکن یہاں آنا اور گھومنا پھرنا ایک خواب ہی تھا کہ وہ کونسا فیشن ایبل شہر ہے جس کی طرح کا ہم لاہور کو بنانا چاہ رہے ہیں اور اگر فرانسیسیوں کو اس بات کا پتا چل گیا تو پھر؟

ہوٹل کی ریسیپشن پر موجود فرینچ لڑکی انگلش جانتی تھی اس سے دعا سلام کی اور شہر کے بارے مزید معلومات لیں، کل کا لوکل ٹور پلان بنایا تاکہ کل وقت ضائع نہ  ہو۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *