یورپ جہاں زندگی آزاد ہے۔۔۔۔۔۔میاں ضیا الحق/قسط7

پیرس ائیرپورٹ پر اترتے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ یہ شہر ٹورسٹس کے لئے ہی بنا ہے۔ فرانس کی ٹورازم انڈسٹری 77 بلین ڈالرز سالانہ پر مشتمل ہے اور 9 کروڑ سیاح ہر سال فرانس آتے ہیں۔ صرف پیرس دیکھنے سالانہ 2کروڑ سیاح آتے ہیں اور 17 بلین ڈالرز پیرس کے 21 لاکھ عوام کو دے کر چلے جاتے ہیں۔ پیرس کے باقی کاروباری اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

پیرس میں دوسرے دن کا آغاز ہوٹل کی گرماگرم کافی اور سپر مارکیٹ سے خریدے سینڈوچ سے کیا۔ آج کا پورا دن یعنی 31 دسمبر 2018 پیرس کو دیکھنے کے لئے کافی تھا۔ نئے سال کا آغاز پیرس شہر میں اور ایفل ٹاور کے زیرِ سایہ کرنے کا بھرپور پلان لئے ہوٹل کی فرینچ ریسپشنسٹ کو کمرے کی چابی تھمادی اور صفائی سے منع کردیا کہ ایک اکیلا میاں کتنا گند مچا سکتا ہے۔

پیرس میں ٹیکسی بہت مہنگی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بہت سستی یعنی آپ دو یورو میں میری طرح شہر کے وسط تک جاسکتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کارڈ یا ٹکٹ بس میں ہی مل جاتی ہے جبکہ اٹلی میں بس میں سوار ہونے سے پہلے ٹکٹ لینی پڑتی تھی۔

ٹور پلان کے حساب سے پہلی منزل شانزے لیزے سٹریٹ تھی اور بس نے پیرس کی خوبصورت سڑکوں پر چند چکر لگوا کر شانزہ لیزے کے آغاز پر چھوڑ دیا۔ اس سٹریٹ کا سیاحوں سے رومانس کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں پیرس کی خوبصورتی عروج پر ہوتی ہے۔ ٹرائیمف آرک سے شروع ہونے والی یہ دو رویہ سڑک تقریبا 2ً کلومیٹر لمبی ہے اور اردگرد دیکھتے دکھاتے ختم ہوجاتی ہے۔ درمیان میں چیسٹ نٹس کے درخت لگے ہیں اور فٹ پاتھ پر بہت سارے سکھ متر انہی نٹس کو بھون کر بیچتے پائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ یورپ کا سب سے مہنگا علاقہ یہ ہے۔

پیرس کی فیشن انڈسٹری سے منسلک ہر سٹور اس سڑک پر مل جائے گا۔ سیفورہ کا میلہ نما شو روم آغاز میں ہی مل گیا تو کچھ شاپنگ فوراً  ہی کرلی کہ واپسی دوسری سائیڈ سے ہوگی۔ اچھی خاصی مہنگی کاسمیٹکس سیاح ایسے خرید رہے تھے جیسے لوٹ کا مال ہو پھر پتا چلا بالکل اصلی ہے اس لئے، ورنہ بیرون دنیا نے تو لورئیل کمپنی سے زیادہ لورئیل کی ورائٹی تیار کررکھی ہے اور کمپنی خود حیران ہوتی ہے کہ ہیں۔۔ یہ ماڈل تو ہمارے ذہن میں بھی نہیں تھا!

2 سنٹی گریڈ سردی میں محسوس ہوا کہ جو کچھ پہنا ہوا ہے کم ہے جبکہ ابھی پورا دن باقی ہے۔ H&M کا سٹور نظر آیا تو اُدھر کا رخ کیا۔ 3 منزلہ سٹور میں سیل کا مال ڈھونڈنے میں آدھا گھنٹہ  لگ گیا۔ فلیس کا ٹراوزر شرٹ اور موٹی اونی جرابیں لے کر باہر نکلا تو نیا مسئلہ درپیش تھا کہ اس کو پہنا کیسے جائے۔ بھلا ہو میک ڈونلڈز کا جس کا وسیع و عریض واش روم اس کام آیا۔ عوامی استعمال کو محدود رکھنے کے لئے آدھے یورو کا سکہ ڈالنے سے واش روم کا دروازہ کھلتا تھا ایک عجیب بات اس کے دروازے پر مرد عورت کا نشان اس کے مشترکہ استعمال کی ترغیب دے رہا تھا۔ جب مرد عورت برابر ہیں تو واش روم الگ الگ کیوں  ؟۔۔۔سردی کے احساس کو مزید کم کرنے کے لیے شانزہ لیزے کی کافی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ شاعر حضرات اسی کافی کے چسکے لیتے لیتے پوری کی پوری غزلیں یہاں بیٹھے لکھ چکے ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے کوشش کی کہ ایک دو اشعار تو ہوجانے چاہئیں۔ دسمبر میں شاعری بھی شاید نازل ہونے میں کافی دیر لگاتی ہے۔ جب سردی شاعری پر سبقت لے گئی تو بہتر یہی سمجھا کہ اب آگے چلا جائے۔

یہ بھی پڑھیے:یورپ جہاں زندگی آزاد ہے۔۔۔۔۔۔میاں ضیا الحق/قسط6
دو کلومیٹر تک سیاحوں میں سیاح بنے پیرس کا نشہ اوڑھے شانزے  لیزے کا دوطرفہ چکر مکمل کیا تو سہہ پہر کے دو بج چکے تھے۔ مہنگی چیز صرف وہ ہوتی ہے جو انسان خرید نا سکے پس اسی سٹریٹ پر ایک ریسٹورنٹ سے عمدہ برگر کھایا اور فرینچ شیف کی قابلیت کی داد 5 یورو کی شکل میں دی کہ میاں روز روز تھوڑی آئے گا یہاں۔

گوگل نے بتایا کہ شانزہ لیزے سٹریٹ سے ایفل ٹاور کا فاصلہ صرف دو کلومیٹر ہے اور بیچوں بیچ نکل جائیں تو شاید اس سے بھی کم۔ اس لئے پیدل جانا بہتر لگا کہ راستے کو بھی انجوائے کیا جائے۔
اب انتظار تھا کہ ایفل ٹاور پر پہلی نظر کب پڑے گی۔ چند گلیوں میں گھومنے کے بعد بالآخر ایفل ٹاور نظر آگیا۔ کسی نے کہا تھا کہ دیکھتے ہی دعا مانگنا تو کسی نے کہا کہ سیلفی لینا۔ چند منٹس کے بعد دریائے سینی پھر سے سامنے آیا تو دوسری طرف ایفل ٹاور کھڑا تھا۔
خوبصورتی، مہارت اور شان و شوکت کا شاہکار ایفل ٹاور ہزاروں لوگوں کو آس پاس لیے سکون سے کھڑا تھا۔ سیاح فوٹو گرافی کے لئے پوز بنا کر لمحات یادگار کررہے تھے کہ پاس جا کر یہ نظارہ نہیں ملے گا۔

چند تصویریں بنانے کے بعد جانے لگا تو کسی نے آواز دی کہ ہماری فوٹو تو بنا دو۔ مڑ کر دیکھا تو چار گوریاں ایک گروپ فوٹو کی طلب گار نظر آئیں۔ کیپ ٹاؤن کی لڑکیاں ملنسار ہوتی ہیں یہ تو معلوم تھا ہی اس لئے ان سے کہا کہ جتنی چاہے فوٹو بنوا لو لیکن آخری فوٹو میں میاں درمیان میں کھڑا ہوگا تاکہ توازن قائم رہے۔ ساؤتھ افریقہ وزٹ کے کچھ تجربات شیئر کئے تو تعلقات مزید مستحکم ہوگئے۔ دوبارہ ملنے کا عہد کرکے اپنی اپنی راہ لی تو یاد آیا کہ ایفل ٹاور دیکھنے آیا ہوں۔

اس ٹاور کی تاریخ ہر بندہ جانتا ہے اس لیے صرف شارٹ کٹ بات یہ کہ اس کو ایک باوقار فرانس کی علامت کے طور پر بنایا گیا تھا لیکن اس کی تکمیل کے بعد اس کے ڈیزائنر کو بدترین ڈیزائنر تسلیم کیا گیا۔ پچاس سال تک اس کو دیکھنے والے افراد میں کمی آتی رہی یہاں تک کہ 1950 سے لے کر اب تک اس کو دیکھنے والے افراد میں ڈرامائی اضافہ ہوا اور موجودہ دور میں سالانہ ساٹھ لاکھ افراد اس کو دیکھنے آتے ہیں اور پیرس کی واحد شناخت بن چکا ہے۔
1945 میں ہٹلر نے پیرس پر قبضے کے دوران اس ٹاور کو بارود سے گرانے کا حکم دیا جب اتحادی افواج نے فرانس میں جرمن افواج کو شکست دینی شروع کی اس کو نیرو ڈکری کہا جاتا ہے۔ پیرس کے ملٹری گورنر Von Choltits نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرکے سرنڈر کردیا اور اس عظیم ورثہ کو تباہی سے بچا لیا۔
اندازے کے مطابق 25،000 افراد روزانہ یہاں آتے ہیں جن میں اکثریت کی کوشش ہوتی ہے کہ لفٹ سے اس ٹاور کے بالائی ڈیک پر جایا جائے۔ بے انتہا رش اور وقت کی کمی نے یہ ارادہ فوراً  ہی تبدیل کردیا۔

یہ علاقہ افریقی نسل افراد کی آماجگاہ ہے جو یہاں مختلف قسم کی اشیاء فروخت کرتے نظر آتے ہیں اور بات خرید و فروخت سے مار کٹائی تک پہنچ جائے کسی کو نہیں معلوم۔ کچھ سکھ متر پینٹنگ کے فن کو یورو میں بدلتے نظر آئے۔ نیو ائیر کی مناسبت سے گلاب کے پھول خوب فروخت ہورہے تھے۔ چند گھنٹے ٹاور کے آس پاس گزار کر پھر دریا کنارے بیٹھا تو بائیں جانب ایک عارضی مارکیٹ نظر آئی باربی کیو کی خوشبو اس طرف کھینچ لائی تو معلوم ہوا کہ یہاں ایشیائی سے لے کر امریکی ہر طرح کے کھانے ملتے ہیں ۔ ایک صاحب گرم ریڈ وائن پکا کر بیچ رہے تھے۔ ٹھنڈے موسم میں گرم سوغات کا بہت اعلی کومبی نیشن بنا۔ رات کے آٹھ بجے تو تھکاوٹ نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔ سردی بھی اپنا زور دکھا رہی تھی کہ درجہ حرارت زیرو سے نیچے جا پہنچا۔ بالآخر خود سے یہ طے پایا کہ یہاں مزید رکنا موزوں نہیں ہے۔ اس ٹاور پر آتش بازی کا نظارہ ہوٹل کی کھڑکی سے بھی دیکھا جاسکتا ہے بغیر فریز ہوئے۔ گوگل نے بتایا کہ ایک ٹرین یہاں سے ہوٹل کے نزدیک لے جائے گی وہاں سے بس پر یا 500 میٹر پیدل جا سکتے ہیں۔ پیدل چلتا زیرزمین میٹرو سٹیشن پہنچا تو معلوم ہوا نیو ائیر کی خوشی میں آج سفر فری ہوچکا ہے۔ یورپ میں گوگل کی مدد سے سفر کرنا نہائیت آسان ہے۔ ٹرین یا بس کا نمبر اور وقت تک لائیو بتا دیتا ہے۔ ایک گھنٹے بعد ہوٹل پہنچا، گرم پانی سے نہا دھو کر فریش ہو کر ریسیپشن پر گیا کہ معلوم کروں کہ ڈنر میں کیا ہے۔ اچانک یاد آیا کہ کمرے کی چابی تو اندر ہی چھوڑ دی ہے اور وہ بھی لاک کے اندر۔ یعنی باہر سے کھولنے کا چانس بھی ختم۔

فرینچ گوری کو ڈرتے ڈرتے مشکل بتائی تو کہنے لگی مسئلہ ای کوئی نئیں۔ ہٹ جا پیچھے۔ فورا ًایک پلاس سکریو ڈرائیور لے کر اوپر پہنچ گئی اور پانچ منٹ میں لاک دروازے سے الگ کرکے میری چابی مجھے واپس لوٹا دی۔ تب معلوم اور ثابت ہوا کہ ان کے واش روم پر مرد عورت کی تصویر ایک ساتھ کیوں بنی ہوتی ہے۔
آج کا ڈنر پھر سپر مارکیٹ سینڈوچ بنا کہ ہوٹل رات کا کھانا نہیں بناتا تھا۔

پیرس میں مطلوبہ جگہ تقریبا ًیہی تھیں جو اس کم وقت میں دیکھی جاسکتی تھیں۔ اب اگلی منزل کو چننا دشوار ہورہا تھا کہ دسمبر چل رہا ہے برف باری ابھی تک نہیں دیکھی۔ خشک سرد موسم تو ہمارے ہاں بھی ہے۔ ہالینڈ اور سویٹزر لینڈ میں سے کسی ایک کو چننا تھا۔ سوچا فیس بک پر دوستوں سے رائے لی جائے۔ اکثریت سویٹزر لینڈ کے حق میں رہی تو سونے سے پہلے پیرس سے زیورخ کی ٹرین ٹکٹ آن لائین خرید لی کہ صبح دس بجے ٹرین سوئٹزرلینڈ چل دے گی۔
(جاری ہے)
مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *