موذی آزمودہ کی فرمائشی آزمائش۔۔۔۔محمد علی

مَنْ جَرَّبَ الْمُجَرَّبَ
حَلَّت لَہُ النَّدامَۃُ

آزمائے ہوئے کو آزمانا،پچھتاوے میں اضافہ!!

یہ قول مسلمانوں کے یکے از خلفاء راشدین، حضرت علی بن ابی طالب کا ہے، سمپل اور سادہ ہے، سوچنے کے لیے کوئی راکٹ سائنس سلمہ درکار نشتہ، جو بات سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ سڑی ہوئی رانڈ کڑھی کو اگر مائکروویو کر دیا جائے تو وہ صرف کھانا گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ، نہ تو کھانا تازہ ہوگا اور نہ رانڈ کڑھی سہاگن ہوجاوے گی!!

اب اس الیکشن کی بازیگری شریف ملاحظہ ہو، ساقی کی نگاہ مست کیسے انتقام لیتی ہے کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں، کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور ٹکٹنگ کا؟ نہیں ناں؟

یہاں ہو کیا رہا ہے؟سنگ راہ کو حجر اسود بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں، خار مغیلاں کو گل بداماں بنایا جارہا ہے، شراب کو سرکہ اور حدود سے متجاوز ہونے کو کیمپیننگ کہا جارہا ہے،

وللہ اعلم،

کیا عمرا ن خان میدان مار پائیں گے ؟ ۔۔۔۔۔محمدعامر خاکوانی

میں کیا کہہ رہا تھا؟ معروضہ یہ ہے کہ انتخابات اپنے سلیس ترین معنی میں رہیں تو اچھے ہیں یعنی عوام کا اپنی آزاد رضا سے پسندیدہ شخصیت کو نمائندگی کے لیے چننا، ورنہ جس سائز کےمعبود دن بدن پجاریوں پر مسلط ہورہے ہیں، ایک دن بت خانہ ،پنڈتوں سے خالی اور صرف بتان رنگ و بو سے بھرا نظر آئے گا، تو پھر بقیہ عمر کس کے عشق میں میں کٹے گی؟

بس، آپ کا اسٹاپ آگیا!! 71 سال کی سیاسی نقل و حمل کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے جس نے فتنے کی اوٹنی کو حاملہ کر کے اس کا بچہ بھی گرادیا اور اس کا دودھ اور گوشت پیاروں کے کلیجے میں گیا،میں آپ سے کچھ کہوں گا لیکن پلیز سن لیجیے گا ۔۔۔۔۔۔ یہ میرے دل کی آواز ہے!

یہ ملک جب بنا تھا تو اسکو چاہے جس زاویے سے دیکھیں؛ہر لحاظ سے سیاسی ،گو کہ مضمحل,قوی کار فرما تھیں اور اس زمانے کی فوج کا ذرہ برابر بھی سیاسی عمل میں کوئی عمل دخل نہ تھا، وہ نہ چلمن سے لگی بیٹھی تھی نہ کسی اور طریقے سے مداخلت میں شامل، وہ پروفیشنل آرمی تھی جس نے حکمت عملی سے 25فیصد دنیا پر لندن کے چھوٹے سے سیکریٹریٹ سے آنے والی ہدایات پر عمل کر کے سلطنت انگلشیہ کا پرچم سربلند رکھا،

قائد اعظم نے بیوروکریسی اور فوج دونوں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے بہترین استعمال اور کسی بھی صورت میں سیاسیات سے دور رہنے کی تلقین کی اور سب سے کہہ دیا صاف صاف کہ ان کا کام اس حکومت یا اس کو سہارا دینا نہیں بلکہ وہ تو ریاست کی طرف سے حکومت کی معاونت کے پابند ہیں، ایسے ہی فوج کو آئینی حدود میں ملک کی سلامتی کا ضامن قرار دیا۔

اقوام دو دن میں تباہ نہیں ہوتیں سائیں، سائنس داں مدرس ہیں، ٹیچر مبلغ ہیں، انگوٹھا چھاپ وزیر تعلیم، میٹرک پاس وزیر اعلی، پرچی پکڑے وزیر اعظم، (طاقت کے) نشے میں ممکنہ وزیر اعظم۔ سیاست دان یعنی کہ حکمران یا آمرین آفات ارضی و سماوی و معاشی کو امر خداوندی کہتے ہیں اور خادمین پولیٹکل انجنئیرنگ کرتے نظر آتے ہیں، ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست و سیادت کو کرنے دیا جائے!!

تو ، یہ جو دیوانے سے دوچار نظر آتے ہیں،
ان میں کچھ صاحب اسرار نظر آتے ہیں!!

پاکستان ترکی نہیں ہے، بلکہ یہ تو ابھی تک اپنے اقبال سے آگاہ بھی نہیں ،اور کچھ اس میں  تمسخر نہیں وللہ نہیں ہے۔

ہارے بھی تو بازی مات نہیں ۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

کسی ادارے کو سیاست کی اجازت دینی ہے تو سو بسم اللہ، آئین میں جمہوریت کی روایت سے ترمیم کیجیے ، اسے کہتے ہیں الشفاء فی القانون!!

تو ہوا یہ کہ، اجر قیادت اس طرح ادا ہوا کہ بسم اللہ اور قل شریف پڑھ کر شراب کو زمزم بنانے کی کوشش ہوئی، اور جس طرح منہ بنا کر کڑوے گھونٹ(حکومت کے) پیے گئے ، اس پر میں قربان۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں آتے ہی چینج آف کمانڈ کا حکم دے کر سیف اللہ خالد بن ولید (رض) کو معزول کردیا(بقیہ واقعہ سب کو یاد ہے۔۔۔)
کیونکہ نظام مضبوط پولیٹیکل ول سےچلتا ہے، ناکہ شخصیات سے۔

فیلڈمارشل(ہمارے والے نہیں)جنرل ڈگلس مک آرتھر نے جاپان اور فلپینز پر آہنی گرفت مضبوط رکھی اور جنگ عظیم دوم کے ہیرو ثابت ہوئے اور 45 سے 51 تک وہاں کے منتظم رہے لیکن سیاسی نظام پر ان کی بے جا مداخلت کو فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں  صدر ہیری ٹرومین کی جانب سے ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا،دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اگلےصدر جنرل ڈگلس کے فوجی ہمعصر جنرل آئزن ہاور تھے جو یورپی کمانڈ کے مسئول تھے اور کسی طور سے بھی ان سے کم نہ تھے،
دونوں نے سیاست میں حصہ لیا، دونوں سیاسی عزائم رکھتے تھے لیکن باقاعدہ طور سے سیاسی دھارے میں شامل کون ہوا اور جلدی کس نے مچائی؟ یہ صدارتی دوڑ کا نتیجہ دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ1952 سے لے کر1961 تک صدر امریکہ کون رہا، (مشہور کیمپ ڈیوڈ کو آئزن ہاور نے ہی نام دیا تھا).

سیاست عربی کا لفظ ہے ، گھوڑے کی دیکھ بھال کرنے والے کو سائس کہتے ہیں اور گھوڑا تو مالک اور نوکر کا آسن پہچانتا ہے، کوئی غیر متعلقہ تھوڑی دیر تو جبراً  بیٹھ سکتا ہے لیکن زیادہ دیر میں دولتی کی دولت مل جاتی ہے۔۔کچھ سمجھے؟

حضرت علی کے دور حکومت میں کچھ لوگ اپنی سابقہ قربانیاں گنوا کر حکومتی مراعات اور عہدوں کا مطالبہ کر رہے تھے تو غالباً  مالک اشتر نے ان سے کہا کہ لوگ اپنا اجر خدا سے مانگیں، حکومت صرف لائق اور صالح کا حق ہے!!

ہم بدبختوں کی قسمت میں الیکشن کے دن سونا ہی ہے۔۔۔۔محمداظہار الحق

یہاں سے کچھ بات نظام کی درستی پر ہوجائے۔ ۔۔۔۔۔
حضرت عمر سے جب ان کے کرتے کی بابت سوال ہوا تو انہوں نے اپنی قرابت داری نہیں جتائی,حضرت علی نے فرمایا کہ میں جس حلیے میں تم پر حاکم بنا ہوں،بعد میں اگر وہ تبدیل ہوجائے تو جان لینا میں نے تمہارے حق میں خیانت کی ہے!!
یہ تو خیر رہ نما کے اوصاف ہیں۔۔۔۔

اب آتے ہیں مشینری پر جس سے حکومت چلتی ہے۔۔
یوسف رضا گیلانی نے پارلیمان میں فرانسیسی شاہ شمس لوئی کی یاد تازہ کرتے ہوئے فرمایا تھا
“Le’tat cest moi, I am the state”
یعنی میں ریاست ہوں۔۔ ارے بابا، گڑبڑ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ نئے نویلے ممبران پارلیمان کو 4 کریڈٹ آرز سیاست پر لیکچر دیے جائیں تا کہ وہ عوام سے گٹر صاف، روڈ  کھلے اور شفاف بنانے کے سبز باغ دکھا کر نہ آئیں بلکہ اپنی آئینی حیثیت کا ادراک رکھیں۔شہروں کو تبدیل کرنے کےلئے شہری حکومت نامی لاشے کو زندگی بخش دیں تا کہ پالیسی میں گٹر اور صاف پانی کے علاوہ کچھ اور تو آئے!

حضرت علی نے فرمایا تھا
“انظرفی امور عمالک فاستعملہم اختیارا”
یعنی اپنے کارندوں کو امور تفویض کر کے ان کی کارکردگی پر نظر رکھو،
یہ سب سے بہتر بات ہے مینجمنٹ، ایڈمنسٹریشن اور اختیارات کی۔

مندرجہ   بالا نکتے کو گزشتہ سے پیوستہ کر کے ہم جان سکتے ہیں کہ آئینی اداروں کو کون سے کام سونپے گئے ہیں اور جو سبکی دکھائے اس کے ساتھ کیاہونا چاہیے، ساتھ ہی سپریمسی کی بات جاننی ہے تو یہ جانیے کہ جس پر آپ کو تنقید کی اجازت نہیں یا یہ کار سہل کوہ گراں محسوس ہو تو جان لیجیے کہ وہی ادارہ اپنی ہی فطرت کے مقاصد  حاصل کرتا ہے ،نگہبانی، قوم ،ملک،سلطنت تو بس پائندہ تابندہ باد۔
اس پر ایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک فقیر بھیک مانگ رہا تھا، ایک بچہ دیکھ رہا تھا، ماں نے پیسے دینے چاہے تو بچے نے کہا کہ اسے مت دینا، لے خدا کے لیے رہا ہے، کھا خود لے گا۔

اب آتے ہیں ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، اسٹیٹس کوو، لندن،پیرس،نیو یارک بنا دوں گا اور کھاتا ہے پر لگاتا ہےوالی بات پر۔

ایک پارٹی پکی کرپٹ ہے اور دہشت گردوں کی ساتھی بھی۔
ایک پارٹی دہشت گردوں کے ساتھ نہیں ہے لیکن 900 چوہے ابھی پورے کہاں ہوئے،
ایک پارٹی کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے لیکن مذہب، تعصب وغیرہ پر زندہ باد!!

کھلا خط بنام چیف جسٹس برائے اصلاح ِ تعلیمِ قانون۔۔۔محمد علی جعفری

تاریخ نہ پڑھنے کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم وہی آنکھوں دیکھی مکھی ویسے ہی نگل جاتےہیں۔لیکن یہ سیاسی نظام اتنا واضح طور سےسیاہ و سپید میں منقسم نہیں ہے، fifty shades of grey موجود ہیں،بہت ساری علاقائی،مذہبی، معاشرتی،معاشی مجبوریاں ہیں جن سے سسک سسک کے زندگی سانس لیتی ہے۔

آپ کچھ بھی کریں لیکن یاد رکھیے گا،
خوشبو آ نہیں  سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے اور یہ کہ مردار گوشت زمیں میں دبانے سے تازہ غذا نہیں نکلتی بلکہ وہ تو تیل میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کے چکر میں ممالک ایک دوسرے پر سلطانیے جمہور کی آڑ میں وار کرجاتے ہیں!!

ووٹ دینے کے بعد مت سوچنا، اتنا کافی ہے!
دوبارہ آزماؤ اور سانپ کی اڑان دیکھو!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *