یہ جاٹ ہمارے

بہت پرانی بات ہے۔شاید ہزاروں سال پرانی ۔ہم چھوٹے سے تھے۔غالباً دوسری جماعت میں۔ایک کاندھے پر سکول کا بستہ اور دوسرے ہاتھ میں تختی لیے تقریباً اچھلتے بھاگتے سکول کی جانب رواں تھے۔ حیران مت ہوں۔اس عہدِ خوبصورت میں بچہ نہ صرف اپنا بستہ خود اٹھا سکتا تھا بلکہ اٹھا کر بھاگ اور اچھل بھی سکتا تھا۔اسی اچھل کود میں محوِ سفر جانبِ سکول میں ہماری نظرایک گھر کے باہر لگی نام تختی پر پڑی۔ محمد اسلم بندیچھہ ۔پڑھ تو خیرہم نے جیسے تیسے ہجے وغیرہ کرکے لیا لیکن پلے کچھ نہ پڑا۔ گھر جا کر بزرگوں سے پوچھا ۔جواب ملا جاٹوں کی ایک گوتھ ہے ۔اور پھر مقدور بھر تفصیل ۔یہ تھا جاٹوں سے ہمارا پہلا تعارف ۔ابھی کچھ دن ہی خیریت سے گذرے ہونگے کہ ہمیں پھر کہیں پر لکھا ہوا مل گیا۔محمد اکرم کروٹانہ۔بارِ دیگر وہی الجھن “کروٹانہ”.پھرکسی سیانے کی جستجو، پھر وہی جواب جاٹوں کی گوتھ۔۔
تازہ معصوم ذہن میں یہ بات تقریباً بیٹھ چلی تھی کہ ہر مشکل اور نہ سمجھ میں آنے والا لفظ جاٹوں کی گوتھ ہوتی ہے کہ سکول کے صحن میں کھڑی اپنے استاد محترم عبدالخالق صاحب کی موٹر سائیکل کی پچھلی نمبر تختی پر یوں لکھا ہوا دیکھا، عبدالخالق”جنجوعہ”۔جنجوعہ کی بابت کسی قدر متوقع جواب جاننے کے بعد تو جیسے یہ نظریہ قانون بن چکا تھا۔کہ ہر مشکل اور نہ سمجھ میں آنے والا لفظ ،جاٹوں کی گوتھ ہوتی ہے ۔بس اسی قانون کے تحت ہم نصفِ حیات اول قسطنطنیہ اور اوقیانوس کو بھی جاٹوں کی قسم سمجھتے اور بتاتے رہے تاوقتیکہ کہ اول الذکر کے بارے میں قبلہ زید حامد نے غلط فہمی رفع نہ کردی ۔ثانی الذکر کے لئے البتہ ہمیں فلم “ٹائی ٹینک”قطع و برید شدہ اردو ترجمے والا نسخہ دیکھنا پڑا۔
جاٹوں کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرنا شروع کیں تو عقدہ کشائی ہوئی کہ ان کی دو ہی تو چیزیں مشہور ہیں ۔گوتھیں (یا قسمیں) اور یبلییاں۔ یبلی کیا ہوتی ہے اور کیسے ماری جاتی ہے اس کے لیے لازم ہے آپ پہلی فرست میں اپنے ارد گرد کوئی جاٹ تلاش کریں ۔احتیاطاً میں اتنا بتا دیتا ہوں کہ ہر وہ بات یبلی ہے جو آپکے سوا کسی کو سمجھ نہ آئے۔یا اس انتہائی سمجھداری سے کی گئی بات کو کہتے ہیں جو بے محل ہو۔یبلی اگر کسی غیر جاٹ سے سرزد ہو تو وہ بونگی کہلاتی ہے۔ جاٹوں کی بے انتہا اقسام ہیں ۔آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں،کہ اگر ہر قسم کے بدلے پانچ روپے ایک گلے میں ڈالے جائیں تو قسمیں ختم ہونے تک اتنی رقم جمع ہو جائے گی کہ آپ “بریزے” کا ایک سوٹ خرید سکتے ہیں ۔
جاٹوں کی اتنی قسمیں کیوں ہیں، اس بارے میں محققین خاموش ہیں۔اور خود جاٹ بھی۔ ہو سکتا ہے کہ ڈارون کے پاس کوئی جواب ہو ۔گمانِ فاضل ہے کہ تاریخ میں کئی ایسے ادوار بھی گذرے ہونگے کہ جاٹوں کی تعداد اور انکی قسموں کی تعداد برابر ہو گئی ہو گی۔ یا شاید اس سے بھی کچھ کم۔ جب جاٹ اپنی قسمیں بنانے میں لگے تھے ان کے مخالفین انکے متعلق باتیں بنانے میں۔ کہتے ہیں جٹ ایہہ تے مت نہیں، جے مت ایہہ تے جٹ نہیں۔ بندہ پوچھے چلو اگر تمہیں پتہ چل ہی گیا تھا تو اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت تھی۔ آپ کی بے جا تشہیر کے بعد اب حالت یہ ہے کہ اگر غلطی سے جاٹوں کا کوئی بال عقلمند نکل آئے تو اس کو شجرہ نسب کی یقین دہانی کے لئے وقفے وقفے سے یبلیاں مارنی پڑتی ہیں ۔یبلی کے علاوہ بھی جاٹ کی کئی نشانیاں ہیں۔ پراڈا کے سوٹ اور بارکلے کے جوتے میں ملبوس جاٹ کے بھی بال الجھے ہوئے بے ترتیب ہی ہونگے۔
اگر کسی ذی روح کے بال سلیقے سے جمے ہیں تو یقین کر لیں کہ جاٹ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اگر کسی کی تفریق کرنا ہو کہ جاٹ ہے کہ نہیں ۔تو ڈی این اے کروانے کی بجائے اسے کلف لگے شلوار قمیض میں ملبوس کروا دیں۔ ٹھیک گیارہ منٹ بعد اگر دامن پر اتنی سلوٹیں ہوں کہ جتنی جاٹوں کی اقسام تو جاٹ ہے۔بصورتِ دیگر کوئی عقلمند۔ سادہ لوح اتنے ہیں کہ اس بات پر ہی خوش ہوتے رہتے ہیں کہ سکھوں میں بھی جاٹ ہوتے ہیں ۔پہلے وقتوں میں بہت جھگڑالو ہوتے تھے ۔بات بات پہ جھگڑتے تھے ۔اناج بیچ کر اور زمینیں تک بیچ کر جھگڑتے ۔کوئی بہانہ نہ بھی ہوتا تو اس بات پر جھگڑ پڑتے کہ تم مجھ سے جھگڑتے کیوں نہیں ۔پھر رفتہ رفتہ ان کی زمینیں اور جھگڑے کم ہوتے چلے گئے ۔
خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ اگران سے پوچھا جائے کہ جاٹوں کے بڑے کارنامے کون سے ہیں۔تو جھٹ سے کہتے ہیں کہ جاٹ ہونے سے بڑا کارنامہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ ذہانت کا عالم دیکھیے کہ ان سلے کپڑے کو ہی زیبِ تن کرنے کی صلاحیت (بطور تہمد). اور بہادر اتنے کہ اسی تہمد میں، نتائج وعواقب سے بے نیاز ،ہواؤں کے دوش پرسرِ راہ زیرِ ٹاہلی محوِ استراحت ۔خداترسی اتنی کہ آج تک کسی بیرونی حملہ آور سے نہیں الجھے،مبادا انہیں غصہ آجائے اور حملہ آور کی نسل ہی ختم کر دیں۔ریاضی میں بڑی دریافتیں ہیں ۔ست ویاں دا سو ،اورنودوگیارہ ان ہی کی دریافت ہے۔ انجینئرنگ کے شعبے میں بھی بڑے کارنامے ہیں ۔
بیل کی آنکھوں پہ کھوپے چڑھا کراس کا دائرے میں استعمال سب سے پہلے انہوں نے شروع کیا۔اسی طرح کھیت میں چھڑی گاڑھ کر اس پہ ہانڈی الٹی رکھ کر پرندوں کو ہراساں کرنے والی لازوال ایجاد کا سہرا بھی انہیں کے سر ہے۔ ادب پر بھی ان کے بہت احسانات ہیں۔ جن میں سب سے بڑا اور قابلِ ذکر یہ کہ یہ ادب سے دور رہے۔ اپنی قوم کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جاٹوں کے سیانوں کو (اگر کوئی ان میں ہے) تو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور نئی ہائبرڈ جینریشن کے لئے اقدامات کرنے چاہییں۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *