یہ پاکستان ہے بھائی

کوئی کہتا ہے کہ جہاں کرپشن،دہشت گردی،لاقانونیت،بے ایمانی،خیانت،حرام خوری،ناخواندگی،جہالت،ملحدیت،اشتراکیت،فرقہ واریت،ذخیرہ اندوزی،گرانفروشی،بھوک ،خود غرضی،الغرض سبھی جرائم کا جن ہر ادارے میں گھسا ہوا ہے۔۔۔۔لیکن سانوں کی؟
روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگتا ہے۔۔۔لیکن یہ سب ملنے کے بجائے چھن جاتا ہے۔۔۔۔۔پر سانوں کی؟
ہم مر رہے ہیں ۔ ۔ کبھی بھوک سے,کبھی پیاس سے,کبھی غربت سے,کبھی دہشت گردی سے,کبھی اندرونی دشمن کے ہاتھوں,کبھی بیرونی دشمن کی وجہ سے,کبھی سیاست سیاست کھیلتے ہوئے,اور کبھی لسانیت کو بچاتے ہوئے,کبھی نظریہ کی خاطر,اور کبھی فرقے کے لیئے,کبھی دوستی کے لئیے,اور کبھی دشمنی کی خاطر,کبھی استحصال سے,کبھی ووٹ کی وجہ سے,کبھی کبھی بریانی اور قیمے والے نان کی خاطر بھی مرتے ہیں۔۔۔۔۔پر اک واری ،فیر سانوں کی؟
یہاں بھٹو زندہ ہے,بی بی زندہ ہے,لیکن ضمیر مردہ ہیں۔۔۔۔پر یار سانوں کی؟
کوئی یہاں شیر ہے لیکن دراصل گیدڑ ہے,کوئی تیر ہے لیکن ٹوٹاہوا,کوئی بلا ہے لیکن آج کل پھاتی بنا ہوا ہے,کوئی کتاب ہے لیکن باب ایک بھی درج نہیں, کوئی ترازو ہے لیکن اس میں مراعت تلتی ہیں,ایک سائیکل ہے لیکن وہ بھی پنکچر,پتہ نہیں اور کتنے بیٹھے ہیں ہم پر حکومت کے متمنی۔۔۔۔لیکن برادر، سانوں کی؟
کبھی امریکہ کو کھٹکتا ہے,کبھی روس کو,کبھی بھارت کو,کبھی اسرائیل ، ایران , افغانستان کو,لیکن ادھر بھی، سانوں کی؟
فوجی شہید ہوتے ہیں,لوگ شہید ہوتے ہیں,بچے شہید ہوتے ہیں,عورتیں بوڑھے اور جوان شہید و اپاہج ہوتے ہیں۔۔۔۔لیکن سانوں کی؟
کوئی یہاں کچھ ہے,کوئی چور,کوئی ڈاکو,کوئی ریلو کٹا,کوئی پھٹیچر,کوئی ٹریکٹر ٹرالی,تو کوئی پانامہ کوئین,کوئی کچرے والاڈرم,کوئی ڈمپر,کوئی گنجا,تو کوئی نفسیاتی مریض,پتہ نہیں کون کون ہے یہاں۔۔۔۔لیکن سانوں کی؟
کوئی پنجابی,تو کوئی سندھی,کوئی بلوچ,تو کوئی پٹھان,کوئی مکرانی,تو کوئی مہاجر,کوئی سرائیکی وسیبی,تو کوئی پہاڑی,غرض ہر ایک نسل,اور ہر ایک قوم ہے یہاں,لیکن کوئی پاکستانی نہیں۔۔۔۔پر سانوں کی؟
میرے دوست یہاں پٹواری ،انصافی،اور جیالے مل جاتے ہیں لیکن کوئی دردمند پاکستانی نہیں ملتا۔۔۔لیکن سانوں کی؟
عقل نہیں تےموجاں ہی موجاں۔تو کیا یہ میرا پاکستان ہے بھائی؟؟؟
ذرا ٹہرو۔۔۔۔کیا واقعی یہ ہے پاکستان؟؟؟نہیں نہیں۔۔۔میں دکھاتا اور بتاتا ہوں کہ کیا ہے پاکستان!
مجھے جان سے پیارا ہے میرا پاکستان،میری آنکھ کا تارہ ہے میرا پاکستان،یہ محمد بن قاسم کا پاکستان ہے،یہ سر سید احمد خان کا پاکستان ہے،یہ قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان ہے،یہ علامہ محمد اقبال کا پاکستان ہے،یہ لیاقت علی خان کا پاکستان ہے،یہ عبدل رب نشتر کا پاکستان ہے،یہ چوہدری رحمت علی کا پاکستان ہے
یہ شوکت علی جوہر کا پاکستان ہے،یہ محمد علی جوہر کا پاکستان ہے،یہ حفیظ جالندھری کا پاکستان ہے،یہ امیر الدین قدوائی کا پاکستان ہے،یہ فاطمہ جناح کا پاکستان ہے،یہ خواجہ ناظم الدین کا پاکستان ہے،یہ عبدالستار ایدھی کا پاکستان ہے،یہ عارفہ کریم رندھاوا کا پاکستان ہے،یہ عمران خان کا پاکستان ہے،یہ راحیل شریف کا پاکستان ہے،یہ وسیم اکرم کا پاکستان ہے،یہ سرفراز احمد کا پاکستان ہے،یہ فخر زمان کا پاکستان ہے،یہ علی حسن کا پاکستان ہے،یہ محمد عامر کا آزاد پاکستان ہے،یہ حافظ محمد سعید کا پاکستان ہے،غرض یہ ہم سب, ساری عوام کا پاکستان ہے۔یہ ناموسِ رسالت کے پروانوں کا پاکستان ہے،یہ ناموسِ صحابہ کے دیوانوں کا پاکستان ہے،یہ ناموسِ وطن کے جیالوں کا پاکستان ہے،یہ سندھ کا پاکستان ہے،یہ بلوچستان کا پاکستان ہے،یہ پنجاب کا پاکستان ہے،یہ خیبر پختون خوا کا پاکستان ہے،یہ فاٹا کا پاکستان ہے،یہ گلگت بلتستان کا پاکستان ہے،یہ کشمیر کا پاکستان ہے،یہ زندہ دلان لاہور کا پاکستان ہے،یہ خوشحال کراچی کا پاکستان ہے،یہ وفادارکوئٹہ کا پاکستان ہے،یہ بہادر پشاور کا پاکستان ہے،یہ مضبوط اسلام آباد کا پاکستان ہے،یہ خوشگوار مظفرآباد کا پاکستان ہے،یہ صالح پاکستان ہے،یہ مخلص پاکستان ہے،یہ متحد پاکستان ہے،یہ متفق پاکستان ہے،یہ محب پاکستان ہے،یہ جری پاکستان ہے،یہ ثالث پاکستان ہےیہ فاتح پاکستان ہے ،اور یہ ایٹمی پاکستان ہے،یہ آئی ایس آئی کا پاکستان ہے،یہ آرمی کا پاکستان ہے،یہ نیوی کا پاکستان ہے،یہ ائیر فورس کا پاکستان ہے،یہ رینجرز کا پاکستان ہے،یہ پولیس کا پاکستان ہے
اور یہ ایف سی کا پاکستان ہے،یہ آئی بی و ایف آئی اے کا پاکستان ہے،یہ نیب اور عدلیہ کا پاکستان ہے،یہ ایدھی فاؤنڈیشن اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا پاکستان ہے،یہ مسلمانوں کا پاکستان ہے، یہ سکھوں کا پاکستان ہے،یہ ہندوؤں کا پاکستان ہے،یہ پارسیوں کا پاکستان ہے،یہ عیسائیوں کا پاکستان ہے،یہ کشمیر و جونا گڑھ کا پاکستان ہے،یہ حیدرآباد و مناواں در کا پاکستان ہے،یہ پاکستان ہے بھائی۔۔۔۔دراصل “یہ پاکستان ہے”!
پاکستان زندہ آباد،پاکستان پائند آباد!

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *