• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • حمایت اللہ مایار اور اے این پی کی دم توڑتی سیکولر سیاست۔۔۔ودود

حمایت اللہ مایار اور اے این پی کی دم توڑتی سیکولر سیاست۔۔۔ودود

تقریباً  ایک سال پہلے مردان کی یونیورسٹی میں مشال نامی طالب علم کو توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا . اس وقت ضلع ناظم اور اب اے این پی کے مردان حلقہ پی کے 51 سے نامزد امیدوار حمایت اللہ مایار اس قتل کو اخلاقی جواز فراہم کرنے والوں میں سے تھا ..بعد میں مشال  کے چہلم کے دنوں میں اور مشال قتل کیس میں بری ہونے والوں کے استقبال کے واقعہ میں اس شخص کا کردار اور واضح ہو گیا.اس پوری تفصیل کو بیان کرنے کے بعد کچھ سوال ذہن میں ابھرتے ہیں جن کے جواب تلاش کرنا ہر اس ورکر کے لیے ضروری ہے جو سیکولر فکر پر یقین رکھتا ہے ..

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اے این پی کی سیکولر سیاست صرف ایک سیاسی نعرہ ہے ؟ کیوں کہ اس واقعے کے بعد اے این پی لیڈرشپ کی جانب سے حمایت اللہ مایار کو ایک واجبی شوکاز نوٹس جاری کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا .
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اے این پی کی لیڈرشپ بالخصوص حیدر خان ہوتی حمایت اللہ کے مقامی سیاست میں اثرو رسوخ سے خائف ہے؟ اور ان کو یہ خدشہ ہے کہ حمایت اللہ کے خلاف کسی قسم کی کاروائی ان کو الیکشن کے دنوں میں مشکلات کا شکار کروا سکتی ہے ؟

tripako tours pakistan

تیسرا سوال اگر اوپر بیان کی گئیں ساری باتیں غلط ہیں تو کیا اے این پی کی قیادت اور ورکرز مشال کو واقعی میں مجرم تصور کرتے ہیں جس کی وجہ سے چپ سادھے بیٹھے ہیں ؟اب جب کے اے این پی نے حمایت اللہ کو صوبائی اسمبلی کے لیے ٹکٹ دے دیا ہے تو یہ تاثر اور پختہ ہو رہا ہے کہ اس کے خلاف بجائے اصولی کاروائی کرنے کے اسکی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے .

سب سے زیادہ مایوسی کی بات سوشل میڈیا پر اے این پی کے ورکرز کا ٹکٹس کے اجرا کے بعد اس معاملے کو نظر انداز کر دینا ہے .آپ اس کیس کا موازنہ فاروق بندیال کے پی ٹی  آئی میں شمولیت کے واقعے کے ساتھ کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ اے این پی کے ورکرز بھی حمایت اللہ کے خلاف کمپین کو زیادہ سنجیدہ نہیں لے رہے جب کہ فاروق بندیال واقعہ میںصبح سوشل میڈیا سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ فاروق بندیال نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے. اور کچھ گھنٹوں میں فاروق بندیال کے ماضی میں ریپ کیس میں ملوث ہونے کی تفصیلات بھی سامنے آ گئیں. ، فیس بک اور ٹویٹر پر ایک طوفان برپا ہو گیا .، پی ٹی آئی کے مخالفین سمیت پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بھی اپنی لیڈرشپ کو اس اقدام پر آڑے ہاتھوں لیا . شام تک کچھ ہی گھنٹوں میں پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو اس بھرپور دباؤ کے باعث اپنے اس فیصلے کو واپس لینا پڑا.

اے این پی کی قیادت کو ہر صورت اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا ورنہ حالات یہی بتا رہے ہیں کہ پارلیمانی سیاست اور ووٹ حاصل کرنے کے چکر میں اے این پی کی سیاست کی سیکولر روح ختم ہوتی نظر آ رہی ہے …

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *