دین میں داڑھی ہے یا داڑھی میں دین ۔۔۔آصف وڑائچ

کچھ تبلیغیوں نے میرے دوست بھولا کو ڈرا دیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ جب تک تم داڑھی نہیں رکھو گے ہم تمہیں نہ ہی صحیح مسلمان سمجھیں گے اور نہ ہی اصلی عاشق رسول مانیں گے۔

جواباً   بھولا نے عرض کی کہ جناب مسلمانوں کے شاعرِ  حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بھی تو داڑھی نہیں رکھی تھی. جس پر تبلیغیوں نے بھولا کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ “دیکھو ! علامہ صاحب تو اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں ورنہ ہم انہیں بھی قائل کرنے کی کوشش ضرورکرتے، تم انہیں چھوڑو اور اپنی عاقبت کی فکر کرو”

بھولا اب سخت شش و پنج میں مبتلا ہے۔۔۔۔تبلیغیوں کے اس   فتوے اور بھولا کے استفسار پر میرا جواب حاضر خدمت ہے:

چونکہ میں اس کو سرے سے دینی معاملہ سمجھتا  ہی نہیں اس لیے   میں اس پر محض منطقی دلائل ہی دوں گا البتہ جو لوگ داڑھی کو کوئی دینی نوعیت کی شے سمجھتے ہیں تو میری نظر میں یہ ان کا ایسا علمی و عقلی مغالطہ ہے جو وہم کی حدوں کو چھوتا ہے ۔

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی ترجیحات میں معاشی اور سائنسی علوم کی ترویج و اشاعت کے بجائے ہمیشہ تیسرے درجے کے غیر اہم مسائل پر بحث و نقد کا سلسلہ عام رہا ہے. ہمارے ہاں اکثر مذہبی اختلافات کی وجہ وہ من پسند روایات و احادیث ہیں جو ہر فرقے اور مسلک نے اپنے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے اختیار کر رکھی ہیں. ہر دو کے نزدیک اسکے نظریے  کو تقویت پہنچانے والی حدیث سو فیصد صحیح اور مخالف کے موقف کو سہارا دینے والی حدیث سو فیصد غلط یا ناقابل عمل ہے۔

اگر مسلمانوں کی علمی خدمات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جاۓ تو معلوم ہو گا کہ ہمارے مذہبی علماء کے پاس اسقدر فارغ وقت تھا کہ انہوں نے انتہائی ذاتی اور معمولی نوعیت کے مسائل پر بھی موٹی موٹی کتابیں لکھ ماریں. مناظروں، رسالوں اور فتوؤں کے انبار لگا دئیے. مخالف فقہ کے رد میں دکانیں سجا دیں۔ سینکڑوں محدثین اور فقہاء نے فتاویٰ و آراء کے دفتر بھر دئیے۔ بعض ایسے مضحکہ خیز مسائل بھی کتب میں موجود ہیں جن کا قرآنی احکامات سے  کچھ سروکار نہیں. مختلف ادوار میں خلفاء اور بادشاہوں نے بھی سیاسی مقاصد کے تحت چھولا چھاپ درباری علما کے ذریعے فتوے جاری کروائے. یاد رہے کہ سیدنا علی کے دور میں جب خارجیوں نے اپنے علاوہ باقی تمام مسلمانوں کو کافر اور ان کا قتل واجب قرار دیا تھا، وہ مسلمانوں کے اندر فتوے بازی کا نکتہ آغاز تھا۔

مسلمانوں میں سرائیت کرنے والے اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ داڑھی اور مونچھ کا بھی ہے۔ داڑھی مونچھ کیا ہے؟ نر انسان کی ٹھوڑی، گالوں اور اوپری ہونٹ اور نتھنوں کی درمیانی جگہ پر اگنے والے فطری بال داڑھی مونچھ کہلاتے ہیں جو مرد کے بالغ ہونے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ بالغ ہونے سے مراد جسم میں پیدا ہونے والی وہ تبدیلیاں ہیں جن کا تعلق ہارمونز اور جسمانی رطوبتوں سے ہوتا ہے اور یہ تبدیلیاں عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ یاد رہے کہ بلوغت کے یہ بال صرف چہرے پر ہی نہیں بلکہ بازوؤں، ٹانگوں، زیر ناف اور پیٹھ پر بھی نمودار ہوتے ہیں جن کا کوئی مخصوص نام نہیں بلکہ بال کہنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔ کئی لوگوں کی چھاتی اور کندھوں پر چہرے سے بھی زیادہ گھنے بال اگتے ہیں، ظاہر ہے یہ ہر کسی کی جسمانی ساخت پر منحصر ہے۔ بالوں کی کیمیائی ساخت میں کاربن، آکسیجن، نائٹروجن، ہائیڈروجن اور سلفر شامل ہیں۔ ایک نارمل انسانی جسم پر تقریباً پانچ لاکھ بال ہوتے ہیں صرف پاؤں کے تلوے اور ہاتھوں کی ہتھیلیاں بالوں سے پاک ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر چھ سال میں پرانا بال گر کر نیا آ جاتا ہے۔ اگر جسم کے بال نہ گریں تو انسان بھی ایک بن مانس کا روپ دھار لے۔

بالوں کی پیدائش صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ بیشتر جانوروں اور پیڑ پودوں کے اجسام بھی اس سے خالی نہیں. سردی گرمی کا عنصر بھی اس میں شامل ہے یعنی سرد علاقوں میں پائے جانے والے چرند پرند کے اجسام پر بالوں کی تعداد زیادہ جبکہ گرم علاقوں کے جانوروں میں کم ہوتی ہے. دلچسپ امر یہ ہے کہ بندروں، بن مانسوں اور بعض بھیڑ بکریوں کے چہروں پر بھی داڑھیاں ہوتی ہیں جبکہ گھوڑے کی گردن پر بھی ویسے ہی بال ہوتے ہیں جو کہ یقیناً  انہیں انکی جسمانی ضرورت کے تحت ہی قدرت نے عطا کر رکھے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ بالوں کا اگنا جانداروں میں جسمانی رطوبتوں اور ہارمون کے اتار چڑھاؤ کا ایک بائیولوجیکل عمل ہے جس کا براہ راست تعلق میڈیکل سائنس اور جانداروں کے اطراف کی آب و ہوا سے بنتا ہے نہ کہ مذہب سے۔

قدیم یورپ میں داڑھی کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ یہودیوں اور رومن کتھولک مسیحیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی اس لیے وہ اپنی داڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس قدیم رواج کے باعث داڑھی عزت کی نشانی بن گئی۔ روس میں پیٹر اعظم کے وقت اور انگلستان میں اس سے کچھ عرصہ بیشتر داڑھی والوں پر ایک ٹیکس لگایا جاتا تھا اور داڑھی رکھنا صرف شاہی اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ انگلستان کے تمام بادشاہ داڑھی رکھتے تھے۔ ایڈورڈ ہشتم نے اس رسم کو خیرباد کہہ دیا اور اس کے جانشین بھائی نے بھی اس کی تقلید کی۔ اسی طرح افغانستان میں جب طالبان کی حکومت آئی تو انہوں نے داڑھی منڈوانا جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔۔ ہندوستان میں سکھ دھرم کو ماننے والوں میں داڑھی مونچھ اور جسم کے دیگر بالوں کو منڈوانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ آج کئی مسلم ممالک ایسے ہیں جہاں داڑھی رکھنے پر مشروط پابندیاں لگائی گئی ہیں جس کی کچھ سیاسی اور معاشرتی وجوہات ہیں۔ البتہ چین، جاپان، کوریا، ملایا، برما، تبت اور منگولیا کے باشندوں میں قدرتی طور پر داڑھی مونچھ  کے بال نمودار نہیں ہوتے چنانچہ ان قوموں میں داڑھی کے تقدس وغیرہ کی بحث کا امکان پیدا نہ ہوسکا۔

برصغیر کو دیکھا جائے تو یہاں ہندو آبادی کی اکثریت تھی لہذا مسلمانوں نے اپنی الگ شناخت کی خاطر داڑھی، ٹوپی اور عربی رمال وغیرہ رکھنا ضروری سمجھا، یوں ایک مخصوص حلیہ مسلمانوں کی پہچان بن گیا لیکن یہاں پھر وہی سوال اٹھتا ہے کہ اس حلیے کا دین یا افکارِ نبی سے کیا تعلق بنتا ہے؟ کیا یہ محض وقتی ضرورت نہیں تھی؟ اگرچہ حلیے سے مسلمانوں نے اپنی الگ مذہبی پہچان تو یقیناً کروا لی لیکن کیا وہ دین کا حقیقی ہدف حاصل کر پائے؟

ہمارے ہاں آج کل داڑھی اور مونچھ کے جو مشہور ڈیزائن مختلف فرقوں نے اپنے “فہم” کے مطابق اخذ کر رکھے ہیں ان میں دیوبندیوں کے مطابق داڑھی لمبی ہو اور مونچھیں بالکل صاف یعنی “چکنی” ہوں۔ دوسرا ڈیزائن میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں کے قادری برادران کا ہے کہ اگر گلاس بھر کر دودھ پیئں تو مونچھیں بھی سیراب ہوں. تیسرا ڈیزائن ہمارے اہل تشیع بھائیوں اور ماڈرن اسکالرز کا ہے جو ہفتے بعد مٹھی بھر داڑھی کی تراش خراش کے قائل ہیں جبکہ چوتھا ڈیزائن اہلحدیث و سلفی بھائیوں کا ہے جو کہ فری اسٹائل ہے یعنی راہبوں، ربیوں اور رشیوں منیوں کی طرح داڑھی کا کوئی منہ سر نہیں جہاں جاتی ہے جانے دو. الغرض داڑھی مونچھ  پر بھی ہماری انتہا پسندی اور اختلاف عروج پر ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کے زوال کی ایک وجہ خود ساختہ مذہبی رسومات اور مخصوص جسمانی وضع قطع کو دینداری کی علامت سمجھنا بھی ہے. قرونِ اولٰی میں ایسے مبلغین پیدا ہوئے جو اسلام پھیلانے کی کوشش میں رسمی اعمال بجا لانے کے پراسرار فوائد عوام الناس کو بتلایا کرتے. مثلاً اگر آپ فلاں آیت کا ورد کریں گے تو آپ کو چھپا ہوا خزانہ ملے گا، فلاں اوقات میں فلاں وظیفہ جپیں گے تو فلاں بیماری دم دبا کر بھاگ جائے گی، فلاں رنگ کا کپڑا استعمال کرنے سے روح سرشار ہو جائیگی وغیرہ وغیرہ. ان شعبدہ بازیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کا اصل مدعا سمجھنے کی بجائے ہر نو مسلم رسمی اعمال کو دین داری سمجھ بیٹھا اور اسی پر لگ گیا. اجتماعی طور پر مسلمانوں کے مزاج میں یہ یقین پیدا ہو گیا کہ مذہبی رسومات اور ظاہری وضع قطع ہی دین داری ہے اور اسی کے ذریعے خدا کی خوشنودی اور نصرت و کامرانی ہاتھ آئے گی اور جنت کا حصول ممکن ہو سکے گا۔ حالانکہ چند رسمی اعمال اور مخصوص حلیہ اپنانے پر بڑے بڑے انعامات کی امید قائم کرنا سوائے جہالت کے بھلا اور کیا ہے؟

سوچنے کی بات ہے کہ جنہوں نے درخت کی لکڑی یعنی مسواک، شہد، سرمہ، شربت، پھلوں، سبزیوں حتٰی کہ جڑی بوٹیوں کو بھی دین و سنت سے جوڑ دیا ان کے لیے داڑھی مونچھ، شلوار اور ٹخنوں کو مشرف بہ اسلام کرنے میں بھلا کیا دقت تھی؟ حالانکہ داڑھی اور مذکورہ بالا اشیا کو شعارِ اسلامی قرار دینے والے بھول جاتے ہیں کہ کم و بیش یہی شعار، شعارِ یہود، شعارِ گردوارہ اور شعارِ سادھو سنت بھی ہیں جبکہ رسول اللہ کے ایک مشہور قول کے مطابق مومنین کو غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابو جہل اور ابو لہب کی بھی داڑھیاں تھیں بلکہ قرین قیاس ہے کہ نبی کریم کے ظہور کے وقت موجود مردوں کی داڑھیاں پہلے سے موجود تھیں۔

سادہ سی بات ہے اس زمانے میں ٹیکنالوجی نہیں تھی اور بلیڈ جیسی سہولت میسر نہیں تھی اس لئے کوئی شیو نہیں کرتا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ صحرا میں داڑھی کی کوئی خاص ضرورت رہی ہو یا اس معاشرے میں داڑھی رکھنے والا آدمی زیادہ معتبر دکھائی دیتا ہو یا سمجھا جاتا ہو. یہ بھی ممکن ہے کہ قدیم دور کی بودوباش اور ثقافت ہی ایسی تھی کہ داڑھی بنانے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا بالخصوص سادھو سنت، درویش، پیمبر جیسے رہنما جنہوں نے اپنی زندگی انسانی معاشرے کو سدھارنے میں وقف کر رکھی تھی کبھی چہرے کے بالوں کو سنوارنے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ہو گا اور نہ ہی اس کی ترغیب کی ضرورت تھی۔

تمام جانداروں میں بالوں کے امراض بھی پاۓ جاتے ہیں۔ مثلا بال خورہ ایک پریشان کن مرض ہے جس کا شکار زیادہ تر مرد ہوتے ہیں اور زیادہ تر یہ داڑھی، مونچھ اور بھنوؤں کے مقام پر ہوتا ہے۔ پہلے متاثرہ جگہ پر دھبہ پڑتا ہے اس کے بعد چھوٹی چھوٹی پھنسیوں کا دائرہ بن جاتا ہے۔ پھنسیاں کچھ روز میں سوکھ جاتی ہیں اور ان کے کھرنڈ باریک چھلکوں کی صورت میں جھڑ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی بال گر کر ایک گول خالی دائرہ سا بن جاتا ہے۔ بالفرض اگر کسی کو چہرے پر بالچر کی بیماری لاحق ہو جاۓ اور اس کے نتیجے میں اس کی آدھی یا ساری داڑھی کے بال جھڑ جایئں تو وہ شخص کیا کہے گا کہ میری سنت جھڑ گئی ہے؟ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں ؟ کیا سنت کو بھی بیماری لگتی ہے اور اسے میڈیکل ایڈ کی ضرورت پڑتی ہے؟ یعنی جب تک بالچر ٹھیک نہیں ہو گا وہ شخص سنت کے ثواب سے محروم رہے گا۔ العجیب !

اکثر لوگوں کو  یوں  بھی کہتے سنا کہ ، ماشااللہ فلاں شخص باریش ہے لہذا  وہ ایک دیندار اور نیک شخص ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر یہ فارمولا کہاں سے اخذ کیا گیا کہ داڑھی والا شخص دوسروں سے زیادہ دیندار اور نیک ہوتا ہے۔ کیا کسی کی شرافت اور نیک نیتی کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کی ٹھوڑی کی جلد کس قدر زرخیز ہے؟ کیا کسی سائنٹیفک یا   نان سائنٹفک تجربے و تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ روحانیت اور پاکیزگی کا ٹھوڑی کی زرخیز جلد سے گہرا تعلق ہے؟ یا یہ ثابت ہوا ہے کہ داڑھی دماغ کو تیز کر دیتی ہے اور داڑھی والا شخص چونکہ زیادہ ذہین بلکہ جینئس ہوتا ہے چنانچہ عقل و فہم میں بھی وہ بغیر داڑھی والے انسان سے آگے ہوتا ہے؟ اور کیا جسم کے کسی مخصوص حصے کے بال انسانیت کی بھلائی یا آخرت میں نجات پانے کے لئے اہم گردانے جا سکتے ہیں؟ کیا دینِ اسلام ہندوؤں کی طرز کا کوئی تنگ نظر مذہب ہے کہ جس میں ظاہر پرستی اور رسوم پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے؟ کیا اسلام اعلیٰ کردار، انصاف اور بہتر معاشرتی نظام کی بات کرتا ہے یا فقط داڑھیوں، جبوں، عماموں وغیرہ جیسی اشیا کو لاگو کرنے پر زور دیتا ہے؟ کیا ان اشیا کا لاگو ہونا اسقدر گھمبیر مسئلہ ہے کہ اگر حل نہ ہوا تو دین و دنیا سب بے کار چلے جائیں گے؟ کیا اسلام کا پیغام خدا شناسی ہے یا مخصوص وضع قطع اختیار کرنے کا ڈھنڈورا ؟

جب یہ کہا جاتا ہے کہ باطن کے ساتھ ساتھ ”ظاہر ” بھی شعارِ اسلامی کے مطابق ہونا چاہیے تو یہاں پھر سوال آتا ہے کہ کیا سارے  ”ظاہر”  میں صرف منہ کے بال ہی اہم ہیں؟ کیا صاف ستھرا لباس، نفاست، شیریں گفتگو اور رکھ رکھاؤ قدرے بہتر  ”ظاہر”  نہیں ہیں؟ ذرا سوچیے  کہ کل جہانوں کا مالک جو الصمد ہے، اس بے نیاز ہستی کے آگے اپنے بدبودار بدن پر اگنے والے ادنیٰ بالوں کو دکھا کر بھلا ہم کیا ثابت کریں گے؟ وہ پروردگار جو کائنات کو قائم و دائم رکھنے والا رب ہے، ان گنت کہکشاؤں کا خالق ہے، کیا ہمارے فانی جسم پر اگنے والے بے وقعت بال دیکھنے بیٹھا ہے؟ کیا اللہ کی بارگاہ میں ایمانی خلوص اور تقوی کا معیار داڑھیوں، شلواروں، ٹخنوں اور عماموں سے ماپا جاۓ گا؟ اگر واقعی ایسا ہے تو بہت عجیب ہے۔

اس کی مثال یوں ہے کہ کوئی طالب علم امتحانی پرچے پر سوالات کا حل لکھنے کی بجائے چند رنگین نقش و نگار بنا ڈالے لیکن ممتحن پھر بھی اسے پورے نمبر دیدے جبکہ ایک دوسرا طالب علم سوالات کے سو فیصد حل لکھے لیکن تنگئ وقت کے سبب چونکہ اضافی نقش و نگار نہ بنا پایا لہٰذا اس کے نمبر کاٹ دے۔

اکثر مذہب پرستوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید زندگی کو جینے کا صحیح ڈھنگ ایک باریش نورانی چہرے والا بزرگ جو دقیق مذہبی پس منظر رکھتا ہو، ہی بتا سکتا ہے. اندھی عقیدت میں وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ مولویوں، پیروں، پادریوں، پنڈتوں اور اعلیٰ ذات زادوں نے معاشرے میں اپنا اثر و رسوخ اور تسلط قائم رکھنے کے لئے جملہ مذہبی شعار کو خود تخلیق کر رکھا ہے، یعنی جس نیت سے ایک طوائف برقعہ پہنتی ہے، یہ لوگ اسی نیت سے داڑھی اور دیگر مذہبی شعار اپنا لیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کو یہ زعم بھی ہوتا ہے کہ خدا صرف اس کا ہے. ٹھوڑی پر لٹکتے بال اورسجدوں کی  رگڑ سے ماتھے کی ہڈی پر پڑنے والے داغ کو آئینے میں دیکھ دیکھ کر خود کو کوئی توپ چیز سمجھنے لگتا ہے اسے لگتا ہے کہ وہ خدا کے نزدیک کسی ارفع مقام پر فائز ہو چکا ہے۔ وہ لوگوں کو ان کے ناکافی اعمال کے پلڑے میں تول کر انہیں اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں سمجھتا حالانکہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ انسان سے اللہ کا رشتہ ماں جیسا ہے نہ کہ آجر اور اجیر کا۔ وہ بھول جاتا ہے کہ ایک کلین شیو والے کا بھی اتنا ہی رب اور اتنا ہی رسول ہے جو ایک داڑھی والے کا ہو سکتا ہے ۔ وہ کبھی ایک لمحہ کے لئے غور نہیں کرتا کہ رب العالمین کا پیغام اسکی پرستش نہیں بلکہ اس کے اور بندوں کے درمیان اس تعلق کو قائم کرنا ہے جس کے ادراک میں انسانیت کی بقا کا راز مضمر ہے اور جس پر دنیا کا امن اور سکون منحصر ہے.

اگر کوئی مسلمان اپنے علاوہ باقی انسانوں کو خدا کی تخلیق اور مدد سے مبرا سمجھتا ہے تو یہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ ابھی تک خالق سے مخلوق کا تعلق نہیں سمجھا. اور نہیں سمجھا کہ خدا سب کا برابر تخلیق کار اور مددگار ہے، اور ایسا ہی ہے تو خدا کسی کی دینیت یا لا دینیت سے بھی بے نیاز ہے، لوگوں کے ذاتی اعمال یعنی نماز، روزہ اور حج اسے کوئی فائدہ نہیں دیتے اور یقیناً ایسا ہی ہے تو پھر وہ کسی کے تقویٰ یا برتری کا معیار ان عبادات پر کیونکر جانچ سکتا ہے جو سراسر ذاتی نوعیت کے ہیں، جن سے کسی دوسرے انسان کا کوئی فائدہ نہیں جڑا. اور جب ذاتی عبادات کی حیثیت یہ ہے تو بھلا ذاتی حلیے کی حیثیت کیا ہو گی؟ چنانچہ یہ گمان کرنا کہ اگر چہرے پر ایک خاص لمبائی تک بال نہ بڑھاۓ تو معرفت اور سلوک کی منزلیں طے نہیں ہونگی، جنت کے دروازے نہیں کھلیں گے، احمقانہ منطق ہے۔

سمجھنا چاہیے کہ داڑھی، مونچھ ، سر کے بال، ٹخنے وغیرہ انسانی جسم کا قدرتی حصہ ہیں۔ ٹھوڑی کے بال بھی اسی طرح ہی ہیں جیسے جسم کے دوسرے بال ہیں جو کہ ہر انسان کے ہارمونز کے رد و بدل اور آب و ہوا کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں لہذا جسم کے بالوں کو کوئی مذہبی چیز سمجھنا یا انبیاء کی سنت سمجھنا ایک عظیم جہالت ہے. انبیاء یقیناً یہ بتانے نہیں آئے تھے کہ دیکھو ہم نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں لہٰذا تم بھی داڑھیاں رکھ لو کہ اسی میں ہم سب کی نجات ہے ! حالانکہ داڑھیاں تو سب مردوں کی پہلے ہی سے موجود تھیں۔ اگر اعمال و کردار کی بجائے ایسی روزمرہ کی معمولی چیزیں بھی بزرگان سنت تصور کی جائیں گی تو پھر آج تمام مذہبی پیرو کاروں کو جہاز اور گاڑیوں کی بجائے گدھوں اور اونٹوں پر سفر کرنا چاہیے ، کھڈی، سوتر اور پتوں سے بنے لباس زیب تن کرنا چاہئیں، جدید ادویات خریدنے کے بجائے پچھنے لگوانے چاہئیں، کرنسی نوٹوں کے بجائے سونے چاندی کی اشرفیاں استعمال کرنی چاہئیں، بیک وقت متعدد خواتین سے شادی کرنا چاہیے  جیسا کہ قدیم زمانے میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنما و دیوتا کیا کرتے تھے.

غور طلب سوال ہے کہ کیا اپنے محبوب رہنما سے محبت کا جذبہ صرف ان جیسی داڑھی، پگڑی یا حلیے میں مضمر ہے؟ کیا رہنما کے افکار و کردار کے مطابق اعمال بجا لانا محبت کا اظہار نہیں مانا جائے گا؟ یعنی رہنما کی عملی زندگی کو متمع نظر بناتے ہوئے زندگی گزارنا حقیقی عقیدت و احترام ہے یا محض ظاہری حلیے کو اہمیت دینا ہی اصل محبت ہے؟ واضح رہے کہ جس آیت میں اسوۃ حسنہ کا ذکر ہے وہاں بات اسوۃ کی ہوئی ہے حلیہ کی نہیں کیونکہ مقصود اسوۃ ہے نہ کہ حلیہ۔

یعنی بالفرض اگر مجھے اپنے ماں باپ سے سچی محبت کو ثابت کرنا ہے تو مجھے ساری زندگی ان جیسا حلیہ اپنانا ہو گا؟ باپ جیسا لباس پہننا تو شاید ممکن ہو لیکن ماں کی محبت ثابت کرنے کے لئے کیا مجھے ساڑھی پہننا پڑے گی اور ماں جیسے بال رکھنے پڑیں گے؟  حیرت انگیز !

کامن سینس استعمال کریں تو داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے کا تعلق جسمانی زیبائش سے ہے۔ زمانے کے ساتھ ساتھ جس طرح ہمارے لباس، کھانے پینے کے آداب اور رہن سہن بدلے ویسے ہی ہمارے سجنے سنورنے کے انداز بھی بدلے۔ چنانچہ اگر کسی آدمی کے چہرے پر داڑھی سجتی ہے تو وہ ضرور رکھے اور کسی کا چہرہ داڑھی کے بغیر زیادہ جازب نظر لگتا ہے تو وہ بے شک نہ رکھے۔ اللہ خود قرآن میں کہتا ہے کہ اسے جمال پسند ہے جبکہ اللہ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ جمال سے مراد داڑھی ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ وہ داڑھی بڑھاۓ بغیر بھی عاجز و انکسار رہ سکتا ہے، سر پر ٹوپی یا عمامہ سجائے بغیر بھی پرہیزگار رہ سکتا ہے اور کسی بھی مناسب لباس میں روح کی پاکیزگی برقرار رکھ سکتا ہے تو بلا مبالغہ یہ اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے بھلا کوئی دوسرا اسے کیسے باور کروا سکتا ہے کہ نہیں جناب آپ یوں نہیں، یوں زیادہ اللہ کے قریبی دکھائی دیں گے۔ یعنی کیا یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ٹھوڑی کے بال اس قدر اہم ہیں کہ جب تک وہ نہ ہوں گے دیگر نیک اعمال ضائع کر یے  جائیں گے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عورتیں اس شرف سے کیوں محروم ہیں؟ اور چینیوں جاپانیوں کا کیا قصور ہے جن کے گال بالوں سے اکثر ناآشنا ہی رہتے ہیں. ان بے چاروں کو تو پھر اسلام قبول کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔

چنانچہ یہ گمان رکھنا کہ داڑھی والا شخص اللہ اور رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے ایک  غلط  خیال ہے کیونکہ محض داڑھی رکھ لینے سے شخصیت میں حقیقی پاکیزگی اور نکھار پیدا نہیں ہو سکتا۔ شخصیت دراصل فرد کے اندر موجود ایسی ذہانت کا نام ہے جو طبیعت میں استحکام، سکون اور توازن لائے. ایسی سوجھ بوجھ ہے جو یقینی اور اتفاقی معاملات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرے. اس سے ایسے خوش گفتار الفاظ پھوٹیں جو دوسروں کو غیر محسوس طریقے سے اپنی جانب راغب کریں۔ انسانی روح کی حقیقی کردار سازی ظاہری حلیے سے نہیں بلکہ سچی اور کھری تربیت سے ممکن ہے۔ اگر کردار سازی کا عمل ممکنہ معیار پر پورا نہ اترے تو انسانی روح شعوری طور پر خیر کو نہیں پا سکے گی۔ پس ہمیں کسی مذہبی یونیفارم کی نہیں بلکہ صحیح تربیت کی ضرورت ہے. داڑھیوں اور عماموں سے اگر تزکیہ نفس ممکن ہوتا تو آج نہ اسلام کے اتنے بخرے ہوتے اور نہ معاشرے میں اس قدر بے حسی اور بگاڑ ہوتا۔

یہ بھی سمجھنا چاہیے  کہ اسلام کوئی کانچ کا کھلونا نہیں جس کی حفاظت داڑھیاں اور عمامے کریں گے، اسلام تو ایک ایسا مضبوط ہاتھ ہے جسے تھام کر محبت کے راستے پر چلنا ہے۔ معاشرے میں عدل اور مساوات کا نظام قائم کرنا ہے۔ انبیا کی تعلیمات کے مطابق زندگی کو اعلیٰ حکمت عملی کے تحت گزارنا، روزمرہ معاملات میں ایمانداری، رزقِ حلال کی جستجو اور اپنا محاسبہ و ملامت کرنا ہے۔ قرآن کا موضوع فلاحِ انسانیت ہے نہ کہ فلاحِ داڑھی و ٹوپی و جبہ۔

ایسے مذہبی عقائد و نظریات جو ہمیں ورثے میں ملتے ہیں یا رسوم و رواج جنھیں ہم ثقافتی و سماجی ماحول سے اخذ کرتے ہیں بغیر کسی عقلی دلائل کے اپنے اوپر نافذ کرلیتے ہیں. وقت گزرنےکے ساتھ ہمارا ذہن   ان روایات پر اسقدر پختہ ہو جاتا ہے کہ ہم انہیں دین و ایمان کا حصہ تصور کرنے لگتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اگر ان نظریات پر سے جاہلیت کی دھول ہٹائی گئی تو آگہی کی روشنی سے کہیں ہماری آنکھیں نہ چندھیا جائیں۔ ۔لیکن  اب وقت آگیا ہے کہ ہم توہمات کے سراب سے نکل کر سچ کے دریا میں تیرنا شروع کریں اور کھل کر سچائی کی روشنی کو پھیلائیں، چند روز سچائی کی چمک سے آنکھیں خیرہ ہونگی مگر پھر صاف دکھائی دینے لگے گا۔

کسی بھی معاملے میں خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، انتہا درجے کا متشدد رویہ رکھنا فی الواقع ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اور ایسے انسان کو کسی مندر، مسجد یا گرجے میں جانے کی بجائے اچھے سے نفسیاتی معالج کے پاس جانا چاہیے۔ سوچنے کی بات ہے کہ داڑھی اگر اتنی ہی اہم ہوتی تو یقیناً  اللہ اس کا حکم قرآن میں صادر فرماتا اور علامہ اقبال اور کئی ایک دوسرے راسخ العقیدہ دانشور اس سے اتنی بے اعتنائی نہ برتتے بلکہ ہمارے صالحین کے حالیہ سپر ہیرو طیب اردوان صاحب بھی کم از کم ٹھوڑی پر چھوٹی سی کوُچی تو ضرور ہی سجا لیتے اتمام حجت کے لیۓ۔

کچھ سادہ لوحوں کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرے گا کہ بھئی داڑھی کب سائنسی و دیگر علوم کی راہ میں رکاوٹ ہے؟ اگر غور کیا جائے تو میرے پورے مضمون کا حاصل ہی یہی ہے کہ جس طرح داڑھی علوم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں اسی طرح یہ ثواب کمانے کے لئے بھی ضروری نہیں. کیونکہ داڑھی محض جسمانی بال ہی تو ہیں جو کوئی پراسرار صلاحیت نہیں رکھتے، نہ یہ کسی شے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور نہ ہی کسی شے کو حاصل کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں. درحقیقت رکاوٹ تو وہ سوچ  ہے جس کا تفصیل سے پہلے ذکر کر چکا ہوں. ہمیں اس سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے جس کے تحت ہم نے خوامخواہ کچھ اضافی اشیاء کو شعار اسلامی یا غیر اسلامی سمجھ رکھا ہے. اسی سوچ نے ہمیں ایک جگہ جامد و ساکت کر رکھا ہے. ذرا غور فرمائیے  کہ مذہبی توہمات میں پھنسا آج کا مسلمان کیا دنیا کے لئے ایک تماشا بن کر نہیں رہ گیا؟ میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی داڑھی نہ رکھے۔ میں فقط اتنا کہتا ہوں کہ جتنا آپ کو داڑھی رکھنے کا حق حاصل ہے اتنا ہی حق کسی دوسرے کو بھی دیجیئے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے لیۓ ایک مناسب حلیہ منتخب کر سکے۔ لہذا فیصلہ صالحین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کائنات کے اسرار و رموز جاننے کی دوڑ میں اہل مغرب کا مقابلہ کریں گے یا آج بھی اہل بغداد کی طرح داڑھیوں اور مسواکوں پر فتوے دیتے ہوئے ہی فنا ہو جائیں گے؟

پسِ تحریر:اسلام میں داڑھی ہے،داڑھی میں اسلام نہیں !مضمون کو تنقید نہ سمجھا جائے!

آصف وڑائچ
آصف وڑائچ
Asif Warraich is an Engineer by profession but he writes and pours his heart out. He tries to portray the truth . Fiction is his favorite but he also expresses about politics, religion and social issues

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *