سو لفظ: تربیت اور باپ

اس کے کان پر تو جوں ہی نہیں رینگتی.. میں بہت سمجھاتی ہوں اسے،
تو ماں ہے تو نے ہی تربیت کرنی تھی ناں… میں تو سارا دن باہر کمانے جاتا تھا،
لیکن گھر آکے دو بول ہی بول لیتے! پوچھ لیتے پتر سارا دن کیا کیا؟
اب میں تو گلیوں میں نہ پھر سکتی تھی ناں اس کے پیچھے…
تو مجھے بتاتی تو………کتنی بار بتایا رشید کے ابا…
پر تیرا ایک ہی جواب ہوتا، بچہ ہے کھیلنے کودنے کے دن ہیں…
بشیر سوچ میں پڑ گیا کہ ماں لفظی تربیت تو کرسکتی ہے لیکن عملی تربیت باپ کی ذمہ داری ہے،
اولاد کو معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑنا واقعی اس کی غلطی تھی!

Avatar
ذیشان محمود
طالب علم اور ایک عام قاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *