میری شاموں کی امام شام ۔۔عثمان ہاشمی

   ایسا لگتا ہے کہ کل ہی کی بات ہے۔۔ رمضان المبارک کی آمد میں اکیس دن باقی تھے، میں طاہرندیم شہید قرآن اکیڈمی میں درجہ حفظ کا طالب علم تھا  ۔ مغرب سے کچھ وقت پہلے ابوجان ملنے کیلئے ایبٹ آباد سے راولپنڈی تشریف لائے ،مغرب ہم نے ساتھ پڑھی اور بعد از نماز ادارے کے باہر ہی کھڑے تھے کہ ابوجان نے مجھ سے پوچھا ۔ ۔ عثمان کتنےپارے رہتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا سات پارے ۔ ۔

ان کا اگلا سوال تھا کہ رمضان میں کتنے دن باقی ہیں؟ میں نے کہا یہ ہی کوئی تین ہفتے ۔ ۔ ۔ ان کے  چہرے پر کچھ اداسی سی آگئی اور ساتھ ہی کہنے لگے مجھے لگا تھا کہ اس سال تم تراویح میں مکمل قرآن پاک سناؤ  گے لیکن ۔ ۔ ۔ آگے کا جملہ انھوں نے جان کر ہی ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔

نہ جانے میرے جی میں کیا آیا کہ میں  نے فوراً  کہہ دیا کہ جی ایسا ہی ہوگا ان شااللہ ۔ ۔ ۔ قبل اس کے کہ ابوجان کچھ کہتے ساتھ میں کھڑے ڈرائیور نے مجھے حیرت سے دیکھا اور کہا معلوم ہے تم کیا کہ رہے ہو ؟ اکی دن اور سات پارے ؟

میں نے بھی فوراً  ہی جواب دیا کہ ہاں ان شاءاللہ میں مکمل بھی کرلوں گا اور رمضان میں تراویح بھی سناؤں گا ۔ پھر نہ تو والد صاحب کچھ بولے اور نہ ہی علیم شاہ ( ڈرائیور )۔ کچھ دیر بعد دونوں ہی رخصت ہوگئے ۔ ۔ اور میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کروں تو کیسے کروں ۔

المختصر ! تین ہفتے پر لگا کر اڑ گئے رمضان المبارک میں صرف ایک دن باقی تھا ،میں عصر کے بعد ” پی۔سی۔او ” پر گیا اور گھر کال کی دوسری جانب والد صاحب تھے انھیں اطلاع دی کہ آپ کل تشریف لے آئیے انشاء اللہ میرا ختم ہوجائے گا ۔ اگلے روز والدین آچکے تھے اور عصر کا وقت تھا، طے تھا کہ مغرب کے بعد میں سورہ یوسف کی آخری آیات تلاوت کروں گا ( چونکہ میرا ختم سورہ یوسف پر ہونا تھا ) جب کہ  حالت یہ تھی کہ میں گزشتہ تین ہفتوں میں تین دن کی ایورج سے ایک پارہ حفظ کرتا آرہا تھا مگر اب آخری دن سورہ یوسف پر اٹک گیا تھا ۔ میں پورا دن ساری کوشش اور محنت کے باوجود ایک رکوع تک نہ یاد کر پایا تھا اور اب تو صرف دو گھنٹے سے بھی کم وقت باقی تھا ۔ ۔

 میں نے ساری مسجد میں جگہ ڈھونڈی کہ کس کونے میں بیٹھ کر روؤں مگر عصر کے بعد تو طلبا نے چپے چپے پر قبضہ کررکھا تھا ۔ ایک طرف میں نے دھڑلے سے اساتذہ کو یقین دلا رکھا تھا اور دوسری جانب والدین کو امید اور ساتھ میں تراویح کیلئے مصلہ بھی بک کروا رکھا تھا ۔

خیر اسی سوچ میں مزید پندرہ منٹ گزر گئے اور پھر مجھے ایک ہی جگہ نظر آئی اور میں مسجد سے ملحقہ بیت الخلاء میں داخل ہوگیا ۔ ۔ ۔ داخل ہوتے ہی جو میرے ضبط کا بندھن  ٹوٹ گیا، ویسے بھی عمر یہ ہی کوئی پندرہ برس تھی مگر میں کسی آٹھ سال کے بچے کی طرح ہچکیاں لے کر رونے لگا اور اس رونے اور پریشانی میں یہ خیال بھی نہ رہا کہ کہاں کھڑا ہوں اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیے ایک پندرہ برس کا بچہ روتے ہوئے خدا کی جیسے منتیں کر سکتا تھا میں نے کر ڈالیں اور جو واسطے اور قسمیں دے سکتا تھا دے ڈالیں اور بیسیوں منتیں بھی روتے روتے مان لیں ۔

شاید آدھا گھنٹہ بیت الخلاء میں رونے کے بعد جب میں باہر نکلا تو پوری طرح سے پرسکون تھا ۔ ۔ ۔ قرآن میں اذا دعان کا دعوہ کرنے والے نے میری سن لی تھی ۔ ۔ ۔ اور اس نے ثابت کردیا تھا کہ جب بھی جہاں بھی جیسے بھی مانگا جائے وہ دینے میں دیر نہیں کرتا ۔ ۔ ۔ میں نے تازہ وضو کیا مصحف ہاتھ میں لیا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ آدھا گھنٹہ اک خواب تھا کہ حقیقت ۔ ۔ ۔ مالک نے صرف آدھے گھنٹے میں پوری سورہ یوسف ( جس کے الفاظ کو حفاظ حفظ کے اعتبار سے مشکل ترین شمار کرتے ہیں ) نہ صرف حفظ کروا دی بلکہ ایسی سینے میں نقش کردی کہ بعض دفعہ باقی کئی مقامات دہرائی نہ کرنے کی وجہ سے بھول جاتے ہیں مگر سورہ یوسف بحمداللہ کبھی نہیں  بھولی ۔

خیر مغرب کے بعد سورہ یوسف کی آخری آیات تلاوت ہوئیں اور خالق کی جانب سے وہ عظیم نعمت مجھے ودیعت ہوگئی جس کے لائق میں کسی طور بھی نہ تھا۔ اس آخری دن نے ایک عقیدہ ، نظریہ اور احساس اس پختگی سے دل میں بٹھا دیا کہ جب ، جہاں ،جیسے کسی مشکل میں پھنسوں پہلی نظر اسی خالق کی جانب اٹھتی ہے اور وہ پل بھر میں نہ صرف سنتا ہے بلکہ عطا بھی کردیتا ہے ۔ چونکہ اس کا وعدہ ہے کہ ! أجيب دعوة الداع إذا دعان فليستجيبوا لي۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements
julia rana solicitors

( گزشتہ شام ایک ترک دوست نے اپنے بچے کے ختم قرآن کے موقع پر مدعو کیا تو وہاں بچے نے مجھ سے میرے ختم قرآن بارے سوال کر لیا ۔ یوں اس خوب صورت شام کی یاد آگئی جو میری زندگی کی اب تک کی سبھی شاموں کی امام شام ہے )

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply