مودی کی جگہ سونیا اور ٹرمپ  کی جگہ ہیلری۔۔ کامریڈ فاروق بلوچ

کل جب آپ تیس دن ذلیل ہونے کے بعد کولیکشن نہ ملنے پہ میٹنگ میں انتہائی بےشُستہ بےعزتی کروانے کے بعد گھر لوٹو گی تو فٹافٹ کھانا گرم کر دوں گا.

تم دفتر میں ایک فائل اٹھاؤ گی دوسری رکھو گی، لیپ ٹاپ پہ بھڑوے مینیجرز کی آٹھ آٹھ ای میل کے جواب میں رپورٹ پہ رپورٹ بناؤ گی، سامنے بیٹھے ہوئے تین وزیٹر کو مسکرا مسکرا کر اُن کے جواب دو گی. میں گھر میں بیٹھ کر تمہارے بچے بھی پالوں گا ہانڈی کی اذیت بھی اٹھاؤں گا کپڑے بھی دھو کر نبیڑ لوں گا ۔آٹا گوندھنے کی مشقت بھی کروں گا ہر ان چاہے آئے گئے کو بھی deal کروں گا اور شام کو تھکا ہارا ٹوٹا تمہارے لیے گرما گرم کھانا بھی بناؤں گا ۔ساتھ ساتھ تمہیں دیکھ کر مسکراؤں گا. یہ سوچتے ہوئے کہ سارے دن کی تھکی ہاری آئی ہے لہذا دل جوئی کرنے کے لیے خود کو تمہیں سونپ دوں گا.

تم جب صبح اپنی قسطوں سے خریدی 125سی سی پہ پیچھے باکس میں دو سو کورئیر رکھ کر سارا دن گرمی سردی بارش حبس گرد دھواں شور سہہ سہہ کر واپس لوٹو گی تو میں بھی سارا دن شورِ گھرداری، اذیتِ کچن داری اور قاتل ٹریفک کی وجہ سے تمہاری خیریت کے ‘اندیشوں و امید’ کے مابین رہ رہ کر ہلکان ہو چکا ہوں گا، کھانا بھی گرم دوں گا، وعدہ.

ایک ہوتی ہے مرد انسان اور ایک ہوتا  ہے عورت انسان.
عورت انسان کی مونچھیں داڑھی ہوتی ہے، جبکہ مرد انسان مردوانیت کے تحت تھوڑا حساس ہوتی ہے اور چہرے مہرے پہ کوئی بال وال بھی نہیں ہوتے. عورت انسان کے کپڑے عموماً یک رنگے سے سادہ سے ہوتے ہیں جبکہ مرد انسان بہت رنگیلے بھڑکیلے لباس پہنتی ہے. عورت انسان دن میں زیادہ لوگوں سے interaction کی وجہ سے ذرا پُراعتماد اور مرد انسانوں کی اکثریت سارا دن گھر میں گزارتی ہے لہذا کچھ ڈری ڈری سہمی سہمی شرمیلی شرمیلی سی ہوتی ہے.

مرد کی جگہ عورت، عورت کی جگہ مرد لکھ، پڑھ اور مستعمل کر لیا. دنیا بھر جو کچھ جیسا جیسا ہو رہا وہی ہونے دیں بس مرد کی جگہ عورت اور عورت کی جگہ مرد کو دے دیں. جو کام/مزدوری مرد کر رہا ہے عورت کو کرنے دیں اور جو کام/مزدوری عورت کر رہی ہے مرد کو کرنے دیں. کیا “انسان” کے مسائل حل ہو جائیں گے اور کیا “انسان” آزاد ہو جائے گا؟

اگر مودی کی جگہ “سونیا” کس دے دیں اور ٹرمپ کی جگہ “ہیلری” کو بٹھا دیں، کیا دنیا کا نقشہ بدل جائے گا؟

لبرلزم کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ انسان کو انسان کی نگاہ سے نہیں بلکہ کموڈٹی سمجھ چکی ہے. اِن کی بنیاد میں انسان جسم و شعور کی بجائے کچھ گھوڑا شوڑا ہے کہ بس بھاگے بھاگے جاؤ کیونکہ مقابلہ بازی ہی تخلیقیت ہے اور تخلیقیت ہی امارت (آسودگی) کو جنم دیتی ہے. لبرلزم چاہتا ہے کہ انسان اِس نظام کو مرد و زن کے مسائل کا موجد ہے کے خلاف جنگ نہ لڑے بلکہ ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہے.

بھائی دو جمع دو والا آسان معاملہ ہے کہ جتنی عورت ذلیل ہے اتنا ہی مرد رسوا ہے. جتنی قدغن عورت پہ ہیں اتنے جبر مرد پہ بھی ہیں. اِس ذلالت و رسوائی، قدغن و جبر کا ماخذ جنس نہیں بلکہ سماج کا معاشی ڈھانچہ ہے. اگر سماج کی کُل دولت کُل پہ خرچ ہو تو مرد ایسے دس دس گھنٹے چودہ چودہ گھنٹے عذاب نہ جھیلے اور عورت بھی اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی بکواس زندگی نہ گزارے. دو دو تین تین گھنٹے کی ‘سماجی ملازمت’ کے بدلے سکھ بھری زندگی کے لیے آپ کو جنسی جدوجہد کی بجائے طبقاتی جدوجہد کرنی ہو گی.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *