• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دفتر وں میں کام کا دباؤ اور گفتگو میں شائستگی۔۔ محمد ارسلان طارق

دفتر وں میں کام کا دباؤ اور گفتگو میں شائستگی۔۔ محمد ارسلان طارق

وہ دفتر میں بیٹھا اپنے معمول کے مطابق مصروف تھا۔ اس کا شعبہ سرگرمیوں کے اعتبار  سے  ایسا تھا کہ ہر وقت اسے عوامی معاملات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ فرداً فرداً ہر شخص کی بات کو سنتا اور اپنے مخصوص لہجے اور انداز میں اس سے بات کرتا اور اس کے متعلقہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتا۔ تمام اشخاص سے مخاطب ہوتے ہوئے اس کا انداز تقریباًمشترک تھا۔ چڑاتی ناک اور حیرانی سے بھرپور آنکھوں  کے ساتھ  وہ ہر شخص سے استفسار کرتا جیسے اس دفتر میں آج اس کا پہلا دن ہے اور اس سے پوچھے جانے والے  سوال کا سامنا وہ پہلی دفعہ کر رہا ہے۔ اور پھر سوال در سوال سے سائل کو اتنا الجھن میں ڈالتا تھا کہ سائل اس شک میں مبتلا ہو جاتا کہ شاید  وہ غلط جگہ پر اپنا مسئلہ لے کر آگیا ہے۔اس شخص اور آنے والے سائل کے درمیان بعض اوقات تکرار شدت اختیار کر جاتی اور وہ سائل کو خاموش کرنے کے لیے اتنی اونچی آواز سے بات کرتا جیسے شور سے بھری عدالت کو جج صاحب خاموش کراتے ہیں۔

اس تمام نظارے کو  کافی دیر  سے ایک طرف کھڑا خاموش طبع شخص دیکھ رہا تھا۔ چونکہ سائلوں کی کوئی مناسب قطار نہیں تھی۔ اس لئے ہر شخص اپنے زور بازو سے جتنی جلدی سبقت لے جاتا وہ اپنے مطلوبہ مسئلہ حل کروانے کی تگ و دو میں لگ جاتا۔ اسی اثنا میں دفتر میں بیٹھے شخص کی نظر اس خاموش طبع سائل کی طرف پڑی۔ اور کام کے بارے استفسار کیا۔ سوال کے جواب پر سائل نے انتہائی متانت  سے اور نفیس انداز میں جواب دیا اور اپنے مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا۔ سائل کا انداز بات کرتے ہوئے اس قدر شریفانہ اور مہذب تھا کہ دفتر میں بیٹھے شخص کی طبیعت اور مزاج گرگٹ کے رنگ کی طرح بدل گئے۔ فریقین کی باہمی گفتگو   نہائیت ادبی تھی ۔ سائل دفتری شخص کی ہر ہر بات کا مناسب جواب دیتا اور یوں اپنے کام کی تکمیل کے بعد وہاں سے روانہ ہوا۔ اس ایک ملاقات کے بعد گھنٹوں دفتر کے ماحول میں ایک شگفتہ  تبدیلی محسوس ہوتی  رہی۔

مندرجہ بالا مختصر احوال ایک عوامی دفتر کا  تھا ، جہاں بیٹھا ایک اہلکار  عوامی معاملات دیکھ رہا تھا۔ اس تحریر میں بیان کردہ حقیقی کہانی سے کوئی ناواقف نہیں۔ آئے روز بیشتر لوگوں کو اس قسم کے دفتر اور اہلکاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس خلفشاری حالت میں فریقین میں کون کتنا غلط ہے۔ معاشرے میں تقریباً ہرشخص کسی نہ کسی سطح پر سائل ہے اور کسی نہ کسی سطح پر مسؤل بھی ہے۔ آیا بطور سائل ہم اپنا کردار اسی طرح رکھتے ہیں جیسا کہ بطور مسؤل کسی دوسرے سائل سے ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ عموماً جواب نہ ہی میں ملے گا۔ مذکورہ صورت میں پیدا ہونے والی منفی بحث وتکرار کی کیفیت کی بنیادی وجہ یہی پائی جاتی ہے۔ کہ ہم بطور سائل و مسؤل اپنے اندر وہ خوبیاں پیدا کرنے سے قاصر ہیں جن میں  شائستہ  انداز میں گفتگو، جلدبازی سے پرہیز،اور انتظار کا مادہ پیدا کرنا شامل ہے۔

اپنے دفتر میں اپنی گفتگو کی شائستگی سے ماحول کو پر امن اور پر سکون بنایئں۔ مانا کہ کام کا دباؤ گفتگو کو بہت متاثر کرتا ہے حتی کہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں بلکہ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں پبلک سروسز میں خدمات انجام دینے والے 93%لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں لیکن وہ اپنی تربیت کی بدولت اپنے اس دباؤ کو اپنے  اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے اور دفتری ما حول کو خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *