ٹھنڈا پانی پینے کے فائدے زیرو۔۔ نقصان ہزار

گرمیوں میں ٹھنڈا یخ پانی پینااکثریت کی خواہش ہوتی ہے۔اگر یوں کہاجائے کہ کچھ لوگ تو سردیوں میں بھی ٹھنڈاپانی پینابند نہیں کرتے تو غلط نہیں ہوگا۔ ٹھنڈا پانی پینے کے نقصانات اگر آپ جوانی میں نظر نہیں آئیں تو بڑھاپے میں آپ کا اس سے بچنا نہایت مشکل ہوجاتا ہے۔ برف کا ٹھنڈا یخ پانی کسی بھی انسان کوبیماری کے سوا کچھ نہیں دے سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے نقصانات سے بچنے کے لئے اس سے اجتناب برتیں اورصحت کوبرقرار رکھیں۔ ٹھنڈا پانی نظام ہضم کی خرابی کاسبب بنتاہے۔وقت کے ساتھ ساتھ معدے کے مسائل زیادہ بڑھتے جارہے ہیں اسکی وجہ کچھ اورنہیں بلکہ ہماری بڑھتی ہوئی خواہشات اوربگڑی ہوئی عادات ہیں۔ ٹھنڈا پانی اور یخ ٹھنڈے مشروبات ہاضمہ کی خرابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹھنڈا یخ پانی جسم کے درجہ حرارت کو کم کر دیتاہے جسکے باعث کیلوریز برن نہیں ہو پاتی اور وزن میں اضافہ ہوتا جاتاہے ۔ ٹھنڈے پانی کی بدولت فیٹ آپکے جسم میں اپنی جگہ مضبوط بنا لیتا ہے جس کے باعث اسے ختم کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ سادہ پانی نظام ہضم کودرست رکھنے میں معاون ثابت ہوتاہے جبکہ ٹھنڈ اپانی قبض کاسبب بنتاہے۔ ٹھنڈے پانی کی بدولت کھانے کا آنتوں سے گزرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے قبض کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ ٹھنڈا پانی گلے کی خرابی اور گلے کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سبب بنتا ہے۔آواز میں بھداپن عمر سے پہلے آواز میں تبدیلی کاباعث بنتاہے۔سادہ پانی آپ کوگلے کی تکلیف سے بچاتاہے۔ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے آپ کووقتی سکون توملتاہے لیکن یہ جسم میں کئی مسائل کاسبب بنتاہے جن میں سے ایک تیزابیت بھی ہے۔معدے میں خرابی دیگر بیماریوں کادروازہ کھول دیتی ہے۔ یہ دل پر اضافی بوجھ کا سبب ہے کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے سے دل کی دھڑکن کم ہوسکتی ہے۔ ٹھنڈے پانی کے استعمال سے جسم کادرجہ حرار ت نیچے آجاتاہے تواسے واپس نارمل ہونے میں وقت لگتاہے، بالوں پر ٹھنڈے پانی کے نہایت حیران کن اثرات ہوتے ہیں۔بالوں کاگرنا،وقت سے پہلے سفید ہونا ٹھنڈے پانی کے باعث بھی ہوتاہے۔یہ پورے جسم کے ساتھ ساتھ بالوں کوبھی متاثر کرتاہے۔ جوڑوں کے درد کی بڑی وجہ ٹھنڈا پانی ہوتاہے۔ ٹھنڈے پانی کی وجہ سے جسم کانظام متاثر ہوتاہے۔ہڈیوں کے لئے ٹھنڈک نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جسکے باعث جوڑوں کے درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *