فواد رانا،ایک التجا،لاہور قلندر۔۔علی خان یوسفزئی

محترم رانا صاحب آج آپ کو ایک لاہوری جس دکھ اور اذیت سے پکار رہا ہے اس کرب کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ تکلیف سے بھرپور ہے ۔
جناب آج سے کچھ سال قبل ہم جب اپنے ہمسایہ ملک انڈیا کی آئی پی ایل کو شوق سے دیکھتے تو کہیں نہ کہیں ہمارے دل کے کسی کونے کھدرے میں یہی خوائش مچلتی رہتی تھی کہ کبھی تو ہمارے ملک میں بھی کرکٹ لیگ ہوگی اور ہم بھی اپنے شہر کی ٹیم اور کھلاڑیوں کو سپورٹ کریں گے ۔اپنے شہر کی ٹیم کی ٹی شرٹ پہنے گے۔اپنے گلی محلے میں اپنی ٹیم کے پوسٹر لگائیں گے ،اک جشن کا سما ہوگا اور پورا شہر ایک ہی رنگ میں رنگ جائے گا ۔۔۔الحمداللہ یہ دعا 2016 میں قبول ہوئی اور پاکستان سپر لیگ کا آغاز ہو گیا!

اور شاید اسی دن سے ہم لاہور والوں کی امیدوں پہ بالٹیاں بھر بھر کر پانی ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری و ساری ہے
دیگر شہروں کی ٹیم کے سپورٹر جوش و ولولے کے ساتھ اپنی ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں لیکن لاہور میں صورتحال اس کے برعکس ہے
پچھلے دو سیزن میں لاہور قلندر کی پہ در پہ ناکامیاں اب ہمیں مجبوراً اس موڑ پہ لے آئی  ہیں کہ ہم    دوسرے شہر کی ٹیموں کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔

بالکل ویسے ہی جیسے ہم سبھی لوگ ہر فٹ بال کے ورلڈ کپ میں برازیل کو سپورٹ کرتے آئے  ہیں،جو چند اک مٹھی بھر لوگ سپورٹ کر رہے ہیں وہ بھی صرف اس خبط میں مبتلا ہیں کہ لاہور قلندر اس بار پچھلے سبھی داغ دھو ڈالے گی،مگر جیسے ہی وہ جذباتی سپورٹر کسی ذی شعور اهل کرکٹ کے  آگے لاہور قلندر سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں تو وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواد احمد کا  وہ گانا زیرلب گنگنانا شروع کر دیتا ہے۔۔
تم جیتو یا ہارو سنو۔۔۔ ہمیں تم سے پیار ہے!

اور آگے سے لاہوری باشندے اپنے جذبات کی لاش اپنے کاندھوں پہ اٹھا کر اداس چہرے کے ساتھ گھر کو چلے جاتے ہیں۔رانا صاحب یقین جانیے کہ ہمیں آپ کے خلوص پہ رتی برابر بھی شک نہیں،ہم چاہ کر بھی وہ لمحات نہیں بھلا سکتے جب آپ کی آنکھیں آنسوؤں  سے تر تھیں  اور آپ بےبس نگاہوں سے اپنی ٹیم کو ہارتے ہوئے  دیکھ رہے تھے۔۔لیکن اس بات کا مشاہدہ ضروری ہے کہ آخرکار ہماری ٹیم لاہور قلندر بار بار کیوں ہارتی چلی آ رہی ہے،اور کیا اس بار بھی ہمیں مایوسی کا  سامنا کرنا پڑے گا؟
خدا نخواستہ اگر ہم اس بار بھی ہار جاتے ہیں تو ٹیم کے کوچ کی رخصتی اور ٹیم کی اعلیٰ  قیادت کے حوالے سے عملی اقدامات کرنے چاہییں ۔
اس معاملے  پر  ابھی سے غور شروع کر دیں۔۔جہاں تک معاملہ ہے ٹیم کے کوچ کا  تو جناب عالی اس معاملے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ عاقب جاوید صاحب کی کارکردگی بحیثیت کوچ غیر تسلی بخش رہی ہے ،اور اگر ان کے اندر گندم کے دانے جتنی بھی غیرت باقی ہے تو ان کو اس پی ایس ایل کے بعد خود سے استعفی دے کر گھر چلا جانا چاہیے۔

مجھے امید ہے کہ آپ سبھی لوگ جو اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں اور لاہور قلندر کی غیر تسلی بخش کارکردگی پہ غمگین ہیں تو اس پیغام کو فواد رانا صاحب تک پہنچا کر اس نیک کام میں حصّہ ڈالیں  گے۔
تاکہ ہم کل کو اپنی ٹیم لاہور قلندر کو ایک بہتر مقام پر دیکھ سکیں!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *