مکالمہ میٹ اپ اور بن بلایا پیر۔۔۔۔مظہر حسین بودلہ

ہر حساس انسان کو کسی بھی دوسرے انسان سے جو زیادہ ترقی یا نام کا حامل ہو۔ جلن ہوتی ہے اور میں حساسیت کا بھگوان ہوں۔ ذرا  ذرا سی بات پر ہتھے سے اکھڑ جانا، مائنڈ کر جانا میرا مزاج ہے، کچھ عرصہ قبل عارف لالہ کی اک پوسٹ سے پتہ چلا کہ کوئی صحافی ہیں جو بیروزگار ہیں، صحافت میں ان کی گرانقدر خدمات ہیں، شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں تو مکالمہ کی ٹیم نے ان کے لئے ماہانہ اعزازی وظیفے کا اعلان کیا ہے۔ انسان کی عزت اور مستحق کی خدمت ہوتے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے، خوشی سے میری آنکھیں نم ہوگئیں اور فرط جذبات میں انعام رانا کو لو یو کا میسج کرتے ہوئے فرینڈز ریکویسٹ بھیج دی، اگرچہ رانا صاحب پہلے بھی چند بار فرینڈز لسٹ میں رہے ہیں لیکن مجھے پسند نہ تھے اس لئے انفرینڈ کر دیا تھا۔ خیر میسج سین ہوا لیکن نہ تو رپلائی موصول ہوا نہ ہی فرینڈز ریکویسٹ قبول ہوئی جسکی وجہ سے میں اپنی رائے پر واپس قائم ہوگیا کہ یہ دونوں پارٹیاں صرف دکھاوے، دولت، طاقت کی نمائش اور اک دوسرے سے خار نکالنے والے گروہوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسے میری احساس کمتری کہیں یا اونٹ  سا کینہ، کسی سے مذاق میں بھی کوئی تلخی ہو جائے بھلے زندگی بھر اف تک نہ کہوں لیکن میں کبھی بھولتا نہیں، انتقام لینا مزاج نہیں ہے لیکن مجھے رویے بھولنے کی کبھی عادت نہیں رہی۔

ہفتے کو ہاف ڈے ہوتا ہے اس لئے جلدی ہی فلیٹ پرپہنچا تو روف بھائی کو معاذ کی کال آگئی کہ مکالمہ کا اک پروگرام ہے آپ بھی تشریف لائیں۔ روف بھائی نے مجھے بھی چلنے کو کہا لیکن دل نہیں مان رہا تھا، پہلی وجہ یہ کہ مجھے ہم سب اور مکالمہ والوں سے اک عجیب سی چڑ ہے، بنا جانے، بنا ملے، بنا دیکھے، اور یہ میرا حق ہے کہ میں کسی کو پسند کروں، نا پسند کروں، ملنا چاہوں یا ملنے سے گریز کروں، دوسری وجہ کہ میں بہت ہی تھکا ہوا تھا۔ روف بھائی نے کہا خیر ہے چلتے ہیں، میں نے پھر سے پینترا بدلا اور کہا کہ یار عجیب لگے گا کیونکہ میں مدعو نہیں ہوں تو کہا گیا معاذ نے بلایا ہے، اب چونکہ معاذ سے میں کئی مرتبہ مل چکا ہوں، بہت اچھا اور ملنسار بندہ ہے اس لئے انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، ہاں کرنا پڑی، ہاں کرنے کی اک وجہ یہ بھی تھی کہ میں نے سوچا انعام رانا یوکے ہوتا ہے، یہاں صرف معاذ اور یو اے ای میں مقیم لوگ ہونگے اس لئے انعام رانا سے ٹکراو نہیں ہوگا۔ روف بھائی تیار ہوئے اور میں نے اپنی چونچ پر پانی مار کر شوز پہن لئے، میٹرو میں سوار ہوئے تو روف بھائی نے پوچھا۔۔۔۔۔ تمہارا انعام رانا سے کوئی پھڈا شڈا تو نہیں ہے ناں؟ اک بار دل تودھڑکا لیکن پھر کہا نہیں، لیکن ایسا کیوں پوچھ رہے؟ روف بھائی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تم دونوں کا کسی بھی بندے سے پھڈا نہ ہوا ہو  ذرا یقین کرنا مشکل لگتا ہے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ انعام بھی دبئی میں موجود ہے۔ وڑ گئے وئی۔۔۔!

میٹرو کے بعد معاذ نے پک کیا ، مارکیٹ سے چائے وغیرہ کا سامان خریدا اور محفل مکالمہ کی طرف سے طے کی گئی جگہ پر پہنچے، چند لوگ موجود تھے، سب سے ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوائے ایک کے، وہ تھوڑا دور بیٹھے تھے، نام نہیں پتہ، مجھ تک پہنچتے پہنچتے میں کرسی پر براجمان ہو چکا تھا اور ان سے ملنے کے لئے مجھے پھر سے اٹھنا پڑتا۔۔۔۔ اب ہم ٹھہرے اندر سے چوہڑے والی آکڑ کے مالک اس لئے نگاہیں پھیر کے بیٹھ گئے۔ گپ شپ ہوتی رہی ، چند لوگ مزید آئے، میں نے بیٹھے بیٹھے ہی ہاتھ ملایا، چائے کا دور چلا۔ جنات کے ہونے نہ ہونے پر بحث چلتی رہی لیکن چونکہ میں وہاں موجود تھا اس لئے بار بار موضوع جنات سے ہٹ کر سیکس پر جا پہنچتا۔ اک دو بار اصرار بھی کیا کہ محفل کا موضوع بدل کر محفل جن یا آجا تیرے جن کڈھاں رکھ دیا جائے لیکن نہ جنات والے باز آئے اور نہ ہی پیر پیچھے ہٹا جس کے نتیجےمیں جن کبھی کونڈم ڈیلیوری والے بنتے، کبھی بچیاں سپلائی کرتے تو کبھی جن کی دوشیزائیں حاملہ ہوتی رہیں۔

گھنٹے بھر کے بعد انعام رانا دوچار بار نہانے کے بعد محفل میں پہنچ گیا۔ انجان بندے کو اگنور کرنے سے زیادہ مسئلہ نہیں ہوتا لیکن جس کے لئے دل میں رنجش ہو اس کو اگنور کرنا رنجش کو بڑھا جاتا ہے، ویسے بھی پہلی ملاقات ہے سوچا دیکھی جائے گی، اٹھ کر ملنے کا فیصلہ کر لیا، مجھے دیکھتے ہوئے انعام رانا ہنستے ہوئے گلے لگ گیا کہ پیر جی آپ ادھر کیسے پہنچ گئے اور میں نے بھی خوشدلی سے کہا بس گھومتے پھرتے آگئے۔ سب سے ملنے ملانے کے بعد صدر محفل والی کرسی پر مجھے پکڑ کر بٹھا دیا گیا (یہ کہتے ہوئے کہ ہم سب میں سے زیادہ عمر آپکی ہی ہے) میں شرط لگا سکتا ہوں رانا کا شناختی کارڈ اور میرا سامنے رکھا جائے لگ پتہ جائے گا کہ کون چڑیلوں کے زمانے کا ہے ۔ گلے ملنے سے گفتگو کے دوران دل میں موجود غصہ اور رنجش کافور ہوگئی، عجیب سا مزاج ہے جس سے مل لوں تلخی چاہے حقیقی ہو یا تصوراتی بھلا دیتا ہوں لیکن بات اب بھی سیکس پر ہی تھی ۔۔۔۔ سارے اک سے اک مراثی اور ماہر سیکسیالوجی بنے بیٹھے تھے۔ کام دیکھو ان کے ہاہاہاہا۔

گیدرنگ میں ہر بات میں ٹانگ اڑاتا رہا، انگریزی کا اک لفظ غلط بول گیا جس پر انعام نے چھیڑنے کی کوشش کی لیکن میں نے جو بھی ہے کہہ کر ٹرک اگے ٹور دیا اور اپنی بات جاری رکھی ۔ تقاریر کی باری آئی، ٹیبل پر اور بنا مائیک تک تو مجھے ہر بات میں انگلی کرنے کا لائسنس ملا ہوتا ہے لیکن مائیک پر بھائی میری ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں اس لئے دعا بھی تھی اور یقین بھی تھا کہ مجھ تک نوبت نہیں آئے گی، مکالمہ والے کبھی نہیں چاہیں گے کہ میں مکالمے میں کوئی لچ تل کے انکے لئے شرمندگی کا باعث بنوں لیکن دوسری یا تیسری باری پر مجھے بلا لیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈائس کے پیچھے پہنچا، پر اعتماد ہونے کی اداکاری تو کروں لیکن کیسے؟ ٹانگیں تھیں کہ ساتھ نہیں دے رہی تھیں اور زبان خشک، انڈروئیر پہنا نہیں تھا اور تھوڑا تھوڑا سوسو بھی تیز ہونے لگا، جیسے ابھی ادھر ہی بن بادل برسات ہوجائے گی۔ جیسے تیسے دو لائیں متھے ماریں اور ڈائس سے بھاگا۔ سب سے آخر میں انعام بھائی کی تقریر تھی (انعام اور انعام رانا سے انعام بھائی ہوگیا ہے، جے ہن وی کسے نے لچ تلن دی کوشش کیتی تے میں لمیاں پا لینا).

فوٹو سیشن ہوا اور پھر سب باہر سوٹا لگانے بھاگے اور میں سوسو کرنے، باہر پھر سے فوٹو سیشن ہوا ، دونوں فوٹو سیشنز کی تصاویر ہنوز موصول نہیں ہوئیں شاید محفل والے جن لے اڑے۔ اک بھلے جادوگر ٹائپ انجینئر عاشق صاحب نے گھر ڈراپ کیا، اک پٹیالہ پیگ لگایا، بی پی دیکھی، دستکاری کی اور سو گئے۔ (یہ صرف محفل کا احوال ہے، دوران گفتگو جو دو موضوع میں نے نوٹ کئے، ان پر اپنی رائے دی، بھڑکا اور ہلکے پھلکے طنز بھی کئے وہ الگ الگ پوسٹوں کی صورت میں لکھے جائیں گے، کب؟ ایہہ تے رب جانے یا حسین جانے)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *