سچی خوشی۔۔اے وسیم خٹک

 وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہر ہفتے مختلف ہوٹلوں میں  جا کر کھانا کھاتا۔۔ اُس نے پشاور کے تمام بہترین کھانے کھائے تھے اسے پتہ تھا کہ کس ہوٹل کا کھانا اچھا ہے .کس ہوٹل کے چاول اچھے ہیں۔ وہ دوستوں کے ساتھ اس لئے ہوٹلوں میں  جاتا کہ اس سے اسٹیٹس بڑھتا، وہاں اور دوستوں سے ملاقاتیں  ہوتیں ، جس سے اس کا سیروں خون بڑھتا پھر یونیورسٹی میں  بھی رعب جھاڑا جاتا کہ رات میکڈونلڈ گئے تھے اور لنچ چیف میں  کیا تھا۔۔ دوستوں پر خرچہ کرکے اسے ایک خوشی کا احساس ہوتا۔

اس دن اس کے ساتھ ایک عجیب واقع  پیش آیا، اس کے دوستوں نے اسے بتایا کہ پشاور میں  چائے خانہ شروع ہوا ہے وہاں کا ماحو ل بہت بہترین ہے اور یوں وہ کچھ دیر کے بعد چائے خانہ میں  موجود تھے ،جہان ایک کپ چائے کی قیمت 150روپے تھی اور وہ چار دوست تھے یعنی چار کپ چائے کی قیمت 600روپے اور یہ ان کے لئے کوئی بڑی رقم نہیں  تھی تین چار ہزار تو وہ روزانہ آئس کے نشے پر لگاتے تھے ، وہ چائے خانہ سے نکلے تو پہلی دفعہ اس کی نظر کچھ معصوم بچوں پر پڑی ۔۔ان کے چہروں  سے  معصومیت چھلک رہی تھی ،ان کی نگاہیں کسی مسیحا کی منتظر تھیں ، جو انہیں  ایک روٹی لا دے،ای کوقت کی ہی سہی،بھوک مٹا دے۔۔

وہ چہروں کو عجیب انداز سے دیکھ رہا تھا۔۔ پھر وہ گاڑی سے نیچے اترا اور ان بچوں کو کھانا  خرید  کر دیا۔۔ آج اس کی خوشی دیدنی تھی برسوں سے وہ دوستوں پر خرچے کر رہا تھا مگر کہیں  بھی اسے اتنی خوشی نہیں  ملی تھی جوآج اسے معصوم بچوں کی خوشی پوری کرتے ہوئے ملی۔اسے احساس ہوا کہ سچی خؤشی تو کسی کے کام آکر ،کسی ضرورت مند کی مدد کرکے ہی حاصل ہوسکتی ہے!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *