فاٹا اصلاحات اورگلگت بلتستان

تاریخ کے دریچوں کو اگر کھولیں توپتہ چلتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے بعد قائد اعظم محمدعلی نے بحیثیت گورنر جنرل قبائلیو ں کے ساتھ جرگے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ فاٹا میں کوئی بھی تبدیلی فاٹا کے عوام کی مشاورت کے بغیر نہیں کی جائے گی۔لیکن بدقسمتی سے قائد اعظم کو زندگی نے فرصت نہیں دی لیاقت علی خان کے ساتھ بھی پاکستانی قوم نے وفا نہیں کی۔ یوں گلگت بلتستان کی طرح آج تک فاٹا کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ مقامی مفاد پرست ٹولے کی ملی بھگت سے غیر منتخب اور غیر مقامی افراد کرتے آرہے ہیں۔
ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کا نظم نسق سنبھالا تو جہاں گلگت بلتستان کے حوالے سے کچھ اچھائیوں کے ساتھ کئی غیرقانونی اور غیر آئینی فیصلے ہوئے بالکل اسی طرح فاٹا کے نظم و نسق میں اصلاحات کے لئے پہلی بار اُنیس سو چھہتر میں جنرل نصیر اللہ بابر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اُس وقت بھی کمیٹی کا بنیادی مقصدستہترکے انتخابات کے لیے وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں کو صوبہ سرحد کا حصہ بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت کی امید تھی لیکن ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کے بعدضیاء الحق نے فاٹا کو مزید بحران سے دوچار کر دیا ،جس سے یہاں کے عوام آج تک نہیں نکل سکے۔ ضیاالحق کے دور میں افغانستان میں مداخلت کے لیے قبائلی علاقوں کو مجاہدین کے نام پر دُنیا بھر کے دہشت گردوں کا مرکز بنایا گیا جس کا خمیازہ آج تک پاکستانی قوم بھگت رہی ہے۔
گزرتے وقت اور بدلتی ہوئی عسکری اور سیاسی صورت حال کے تناظر میں فاٹا ریفارم کیلئے دوسری کمیٹی دوہزار چھ میں جنرل مشرف کے دور میں تشکیل دی گئی اور اس کمیٹی کی حتمی سفارشات یہی تھیں کہ فاٹا کے وسیع تر مفاد کے لیے موزوں یہی ہے کہ اسے خیبر پختون خوا میں ضم کر دیا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اس انضمام کو افغانستان میں امن کے ساتھ مشروط کیا گیا ۔گویا انہیں ان کے آئینی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا۔موجودہ حکومت نے دو ہزار پندرہ میں اس وقت تیسری کمیٹی کو وجود میں لایا جب آرمی پبلک سکول پر حملے کے نتیجے میں قومی ایکشن پلان بنا اور اس قومی ایکشن پلان کی شق 12 کے مطابق فاٹا میں انتظامی اور ترقیاتی تبدیلیاں تجویز کی گئیں۔ لیکن اس کمیٹی کے حوالے سے فاٹا کے عوام اور پارلیمانی اراکین کا اعتراض یہ تھا کہ فاٹاکی تقدیر کا فیصلہ ایک ایسی کمیٹی کر رہی ہے جس میں فاٹا کا کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں۔ان خدشات کو دور کئے بغیراس کمیٹی نے وہاں کے عوام کی رائے جاننے کے لیے فاٹا کے کئی دورے کیے جس میں عوام کے سامنے تین تجاویز ،الگ صوبہ،پختون خوا میں ضم اور ایف سی آر میں ترمیم شامل تھیں۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ ان تینوں تجاویز کے بارے میں فاٹا کے عوام کس قدرآگاہ تھے مگر فیصلہ یہ ہوا ہے کہ فاٹا کو صوبہ پختون خوامیں ضم کرکے قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ اس تبدیلی سے فاٹا کے عوام کو کیا فائدہ ہوگا بلکہ خوشی اس بات کی ہے کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کو آئینی شناخت مل گئی لیکن یہ بھی المیہ ہے جس طرح گلگت بلتستان میں کچھ سرکاری زر خرید مولوی اور نام نہاد مہاجر دانشور گلگت بلتستان کو آئینی شناخت دلانے کیلئے ذاتی مفادات کو اولین فوقیت دیتے ہیں بلکہ اسی طرح قبائلی علاقوں میں کرپشن،اسمگلنگ جیسے دھندوں میں ملوث کچھ افراد اس فیصلے سے پریشان میں دکھائی دیتے ہیں۔ اب اگر ہم اسی تناظر میں گلگت بلتستان کو دیکھیں تو بہت سے قارئین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ کیا ہے؟ کب کیسے اس خطے نے آزادی حاصل کی اور آج تک کیوں سولی پر لٹکا ہوا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں گلگت بلتستان اور لداخ سابق ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی تھی لیکن جب مہاراجہ کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو گلگت بلتستان کے عوام نے الحاق بھارت سے انکار کرتے ہوئے کرنل مرزا حسن خان کی قیادت میں ان علاقوں کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا۔کرنل مرزا حسن خان کی سربراہی میں ان سکاوٹس اور مقامی مزاحمت کاروں نے ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا اور یکم نومبر 1947 کو بونجی چھاونی پر حملہ کر کے ڈوگروں کو گلگت سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس مقامی مزاحمتی تحریک نے گلگت اور استور کے علاقے بھی آزاد کرا لیے۔
اسی بغاوت کے دوسرے مرحلے میں بلتستان کے راجاوں نے بے سروسامانی کے عالم میں کرگل تک کے علاقے کو آزاد کیا۔ اس موقع پر ان آزاد کرائے گئے علاقوں نے ابھی اپنے مستقل کا فیصلہ کرنا تھا مگر بدقسمتی سے آزاد کردہ ریاست کو اپنے ہی لوگوں نے ایک مرتبہ پھر انگریز میجر بروان سے ملکر سازش کا شکار بنایا اور ایک غیر مقامی تحصلیدار کے ہاتھ میں بغیر کسی قانونی معاہدے کے اس عظیم خطے کانظم نسق تھما کر اُس نے آتے ہی یہاں ایف سی آر جیسا کالا قانون نافذ کر دیا لیکن یہاں سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون نافذ رہے، لیکن بھٹو کے دور میں اس قانون کی بھی خلاف ورزی شروع کی گئی ۔ افسوس کی بات ہے کہ اس خطے کو مسئلہ کشمیر کے مسئلے کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے اس علاقے کی پاکستان میں آئینی شمولیت ممکن نہیں رہی ۔ کشمیری رہنما اس علاقے پر ڈوگرہ راج کے قبضے کی بنیاد پر اسے کشمیر کا حصہ قرار دیتے ہیں جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل فکر ہے کہ گلگت بلتستان قانون سازا سمبلی میں اب تک تین مرتبہ اس خطے کو جو جغرافیہ،قدرتی وسائل،پانی کے ذخائر،کے ٹو اور سیاچن جیسے اہم جنگی اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کیلئے متفقہ قراداد منظور کر چُکے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے دور میں اُس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے گلگت بلتستان کو پاکستان میں قانونی طور پر شامل کرنے کیلئے گلگت بلتستان میں رائے شماری کا بھی مشورہ دیا تھا لیکن عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ کیونکہ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ گلگت بلتستان کو چونکہ پاکستان کے حکمرانوں اور نام نہاد کشمیریوں نے آزادی کے بعد اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اس خطے کی عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر مسئلہ کشمیر کی رسی کے ساتھ باندھ دیا تھا اور مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی سودا بازی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے کو ہر پانچ سال بعد جھوٹے نعروں ،اخباری بیانات اور اعلانات کے سہارے پر زندہ رکھا گیاہے۔ فاٹا کے عوام کی طرح گلگت بلتستان کے عوام بھی یہ نہیں چاہتے کہ ماضی کی طرح آج بھی ہماری قسمت کے فیصلے غیر مقامی اور غیرمنتخب لوگ کریں ۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس خطے کے عوام کی قربانیوں اور پاکستان کیلئے گلگت بلتستان کی اہمیت اور اس حوالے سے بین الاقوامی سازشوں کے پیش نظر سی پیک جیسے گیم چینجر منصوبے کی کامیابی کو یقینی بنانے اور اس خطے سے گزارنے والے 600کلومیٹر رقبے کو قانونی شکل دینے کیلئے وفاق پاکستان یا تو عوامی مطالبے کی اہمیت کو خاطر میں لاتے ہوئے دستور پاکستان میں ترمیم کرکے اس خطے کو پانچواں آئینی صوبے طور پر پاکستان میں شامل کریں۔بصورت دیگر اقوام متحدہ کی قردادوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل تک کیلئے گلگت بلتستان کویکم نومبر 1947 کی پوزیشن پربحال کرکے آزاد کشمیر طرز کا نظام دیکر اور دفاع اور کرنسی کے علاوہ تمام اختیارات مقامی حکومت کے حوالے کرکے پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں ۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *