الھجرہ علی خطی رسول ﷲﷺ (دہم،آخری حصّہ) ۔۔ منصور ندیم

قربان جائیے محمد رسول ﷲﷺ کے، کہ اک مکے کا ایسا پردیسی جو زخمی پاؤں سے ہجرت کے دوران مدینہ پہنچا جس پر اس کے آبائی وطن کے رہنے والوں نے ہمیشہ زمین تنگ کئے رکھی، جس نے اپنے ہم وطنوں کی دی گئی تکلیف کے باعث پہلے شعب ابی طالب کی گھاٹی میں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شدید تکلیف دہ وقت گزارا، پھر اپنے ساتھیوں کی جان کی بقا کے لئے انہیں دو بار حبشہ کی طرف ہجرت کروائی، پھر اپنی جان کے پیاسوں سے اپنی جاں محفوظ کرنے کے لئے اپنے ننھیالی رشتے داروں کی طرف طائف میں جاکر پناہ لینے کہ کوشش کی، مگر وہاں سے بھی شدید تکلیف اٹھا کر واپس آنا پڑا، بالآخر حکم ربی سے اب جب رات کے اندھیرے میں مکہ سے مدینہ کی ہجرت کی اک بات پھر پاؤں زخموں سے چور تھے۔

مگر اس دفعہ رسول ﷲﷺ کو قرار آگیا، مدینہ منورہ سے تین میل کے فاصلہ پر جہاں آج “مسجد قبا” بنی ہوئی ہے۔ ۱۲ ربیع الاول کو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے، مدینہ والوں نے ایسی خاطر تواضح اور محبت دی کہ جب رسول ﷲﷺ جب مدینہ میں داخل ہوئے تو مدینے کی بچیوں نے اس قصیدے سے رسول ﷲﷺ کا استقبال کیا تھا۔

طلع الـبدر عليـنا
مـن ثنيـات الوداع

وجب الشكـر عليـنا
مـا دعــــا لله داع

أيها المبعوث فينا
جئت بالأمر المطـاع

جئت شرفت المديـنة
مرحباً يـا خير داع۔

ترجمہ : “ہم پر وداع کی چوٹیوں سے چودھویں رات کا چاند طلوع ہوا، جب تک لوگ اللہ کو پکارتے رہیں گے ہم پر اس کا شکر واجب ہے۔ اے ہم میں مبعوث ہونے والے نبی! آپ ایسے اَمر کے ساتھ تشریف لائے ہیں جس کی اِطاعت کی جائے گی۔”

یہ نغمہ و نشید ۱۴۰۰ سال گزرجانے کے بعد بھی آج بھی محبت رسول ﷲﷺ میں ایسے ہی پڑھا جاتا ہے، پہلے قبیلۂ عمرو بن عوف کے خاندان میں حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے مکان میں تشریف فرما ہوئے۔ اہل خاندان نے اس فخر و شرف پر کہ دونوں عالم کے میزبان ان کے مہمان بنے اﷲ اکبر کا پر جوش نعرہ مارا۔ چاروں اطراف انصار جوشِ مسرت میں آتے اور بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کرتے، اکثر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جو رسول ﷲﷺ سے پہلے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے وہ لوگ بھی اس مکان میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی حکم نبوی کے مطابق قریش کی امانتیں واپس لوٹا کر تیسرے دن مکہ سے چل پڑے تھے وہ بھی مدینہ آ گئے اور اسی مکان میں قیام فرمایا اور حضرتِ کلثوم بن ہدم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان والے ان تمام مقدس مہمانوں کی مہمان نوازی میں دن رات مصروف رہنے لگے ۔ رسول ﷲﷺ کے قیام کے لئے مدینے کے ہر گھر والا چاہتا تھا کہ رسول ﷲﷺ اس کے گھر کو مہمان نوازی کا شرف بخشیں، آپ رسول ﷲﷺ نے فرمایا میری اونٹنی جہاں رکے گی، میں وہیں قیام کرونگا، یہ میزبانی کا شرف حضرت ابو ایوب انصاری کے حصے میں آیا، اونٹنی ان کے دروازے پر جا بیٹھی تھی۔ یوں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے شروع ہونے والا یہ سفر حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر تک تمام ہوا۔

رسول ﷲﷺ کی مکہ کی تمام نبوت کی محنت کو قرار مدینہ میں ملا، مدینہ سے ہی پھر بالآخر فتح مکہ ہوا، اور یہ دین ساری دنیا تک پھیلا، یہ ہجرت کے تین ابتدائی تین قیام غار ثور اور ہجرت کے سفر کے وہ آٹھ دن ہیں جو مکہ تا مدینہ تک نہیں بلکہ پورے عالم میں تبدیلی کا باعث بنے۔

الھجرہ علی خطی رسول ﷲﷺ پروجیکٹ نے جتنی وضاحت سے ہجرت رسول ﷲﷺ کو سمجھایا ہے، اسے کسی مبالغہ آمیز داستانوں یا معجزاتی تقریروں کے طرز کے بجائے مکمل سفر کو جس طرح دستاویزی حقائق سے پیش کیا ہے آپ اس سفر میں خود اپنے آپ کو محسوس کریں گے۔ جو لوگ سعودی عرب میں مقیم ہیں انہیں ضرور اس الھجرہ پروجیکٹ سے استفادہ کرنے کا مشورہ ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اَللّٰهمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ وَ بَارِكْ عَلٰي سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِه وَ صَحْبِه وَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply