آج کا دور، والدین اور نئی نسل کا امتحان۔۔عبیداللہ چوہدری

SHOPPING
SHOPPING

 چہرہ غصے سے لال ۔۔۔ آنکھیں تنی ہوئیں   اور تیز تیز چلتی سانس ۔۔۔ یہ صورتحال دیکھ کر تو میں گھبرا ہی گیا تھا۔ لڑکی کی ماں بھی بہت غصے میں لگ رہی تھی۔ تین جوان بیٹوں کا باپ ہوتے ہوئے میرا پریشان ہونا فطری تھا۔ چند سیکنڈ میں ہی تین چار برے برے خیال دل میں آئے اور آ کر گزر گئے۔ آپ نے دیکھا ۔۔۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے کیا دیکھا ہے؟ اس ۔۔۔ اس لڑکے نے میری بیٹی کو پارک میں ہی پرپوز کر دیا ہے۔آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے کبھی اس نے۔ چار سال میں میٹرک نہ  کر سکا تو گھر والوں نے مدرسے ڈال دیا ۔ یہ دینی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ مولوی کہیں کا۔ میری بیٹی اللہ کے فضل سے ڈاکٹر بن رہی ہے۔ اس کو رشتوں کی کمی ہے کوئی۔۔۔۔۔ انکل اس نے بہت بدتمیزی کی ہے۔ میں اس کا منہ نوچ لیتی اگر مما درمیان میں  نہ آ جاتیں۔۔۔۔دل کرتا ہے گولی مار دوں اس کو۔ گلی کے نکڑ پر رہنے والے لڑکے کا سن کر میرے اپنے بچوں کے بارے میں خدشات تو دور ہو گئے۔ دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے ایک لمبا سانس لیا اور بولا۔۔۔ بیٹااب آپ بڑے ہو گئے ہو۔ زندگی میں کئی بار اس جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یقین کر لو کہ یہ واقعہ آخری ہر گز نہیں۔ تم بہت اچھے میچ کی حقدار ہو۔ اپنے غصے پر قابو رکھو۔ بھابھی آپ نے اب اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ نعیم صاحب کو اس واقعہ کا علم نہ  ہونے پائے۔ اگر اس کے ابا کو معلوم ہو گیا تو وہ کہیں آپ لوگوں کی شام کی واک پر پابندی نہ  لگا دیں۔ گھر کے دروازے پر ہی دس منٹ لگ گئے۔ ان کو رخصت کرکے میں جلدی جلدی گھر داخل ہوا اور چائے کا آڈر دے کر سٹڈی میں چلا گیا۔ آرام چئیر پر جھولتے ہوئے اور گرما گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے بار بار رب کا شکر ادا کرتا رہا کہ میرے لڑکوں کی شکایات نہیں آئی۔

لیکن بڑی عجیب بات ہے کہ  نہ  ہی پرپوز کرنے والے نے شرم کی اور نہ ہی لڑکی کو اپنی بات کسی دوسرے کو بتانے میں کوئی ہچکچاہٹ ہوئی۔ پھر سوچنے لگا کہ آج کی نسل میں بڑی جرات آ گئی ہے۔ پھر خیال آیا کہ کہیں نعیم صاحب جو ایک کامیاب بزنس مین ہیں مگر تعلیم واجبی سی ہے۔ کہیں وہ گھبرا کر لڑکیوں کی تعلیم ہی نہ  بند کروا دیں ۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ لڑکیاں ذہین ہیں وہ ایسا نہیں کریں گے ۔ لیکن ان کی تو کوئی نرینہ اولاد ہی نہیں ۔چھ بیٹیاں ہی ہیں۔ کہیں محلہ چھوڑ کر ہی نہ چلے جائیں۔ میں نے زور سے سر جھٹکا ۔۔۔ لڑکی اور اس کی ماں کافی سمجھدار ہیں۔ نعیم صاحب کو اس واقعہ کا نہیں پتا چلنے دیں گی۔ میں نے اپنے آپ کو تسلی دی۔

رات کو بیگم نے سیل فون پر بجنے والی گھنٹی پر سیخ پا ہوتے ہوئے فون ہی سوئچ آف کر دیا۔ وہ بڑبڑائی ۔۔۔ پتا نہیں کون بےغیرت ہے۔ بڑا ہی ڈھیٹ ہے۔میں نے اسے بتایا بھی ہے کہ تین جوان بیٹوں کی ماں کو تو معاف کردو۔ کچھ تو شرم کرو۔ وہ آگے سے ہنسنا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بات کرنے میں آخر کیا حرج ہے۔ میں کون سا اڑ کر تمھارے پاس آجاؤں گا۔ میں نے اسے پولیس رپورٹ کی دھمکی بھی دی۔اسے بتایا کہ سائبر کرائم میں اس کی کڑی سزا ہے۔ وہ بےغیرت آگے سے ہنس کر کہتا ہے۔ کیمپ جیل کی کال کوٹھڑی میں تو میں پہلے ہی موجود ہوں ۔ حکومت نے سزائے موت بھی بحال کر دی ہے ۔۔ کسی بھی دن بلیک وارنٹ نکل سکتے ہیں۔۔۔ سرکار میرا اس سے زیادہ اور کیا بگاڑ لے گی۔ کیا دو بار پھانسی دے گی؟؟؟؟

میں نے قدرے دھیمے لہجے میں قیدی کو برا بھلا کہتے ہوئے مشورہ دیا۔کہ اس کا نمبر تو تمھارے پاس آ ہی گیا ہے۔اب جیل میں وہ آئے روز تو سم بدل نہیں سکتا۔ نمبر یاد کر لو اور اس کو Ignore مارو ۔ پانچ چھ بار فون نہ  لگا تو خود ہی جان چھوڑ دے گا۔ ویسے بھی جلد ہی لٹکنے والا ہے۔ اگر وہ بھی تمھاری طرح کا ڈھیٹ نکلا تو۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ بیگم نے موقع ہاتھ سے جانے نہ  دیا۔ تم بندہ ضائع کر دیتی ہو لیکن جملہ ضائع نہیں کرتی ۔ اگر اس سے ہمدردی ہو گئی ہے تو اس کی آخری خواہش سمجھ کر ہی اس سے بات کر لیا کرو۔ میں نے جوابی وار کیا۔

صبح صبح ہی لاؤنج میں ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا بیڈ روم سے باہر نکلا تو میری بھانجی عائشہ (جو ہمارے ہی گھر رہ کر گریجوایشن کر رہی تھی) زور زور سے چلا رہی تھی۔ میں نے نہیں جانا کالج۔۔۔۔۔ اب کیا ہو گیا ہے۔۔۔ ماموں ۔۔۔ماموں ۔۔۔۔ ویگن ڈرائیور نے مجھ سے بڑی بدتمیزی کی ہے۔ فرنٹ سیٹ پر گئیر لگاتے ہوئے اس نے مجھے چھوا ۔۔ پہلے تو میں اور سکڑ گئی اور اس حرکت کو اتفاقیہ جانا۔ جب دوسری بار اس نے یہی حرکت کی تو مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ میں نے اس کے منہ پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ خوب پٹائی کی ہے میں نے اس کمینے کی۔ وہیں ویگن سے اتر کر میں رکشے سے واپس گھر آگئی ہوں۔ میں نے عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ” بیٹا تم نے بلکل ٹھیک کیا۔ اس کمینے کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا” آج چھٹی کرو۔۔ میں تمھارے لیے کالج سے پک اینڈ ڈراپ کا انتظام کروا دیتا ہوں۔۔ لیکن بیٹا یہ بات اپنے ابو کو نہ بتانا۔۔۔ تمھیں معلوم ہی ہے کہ تمھاری دادی پہلے ہی تمھاری مزید پڑھائی کے خلاف ہیں ۔ اگر یہ بات ان تک پہنچ گئی تو مشکل ہو جائے گی۔ اماں نے بھی عائشہ کو تسلی دی۔ پھر مجھ سے کہنے لگیں۔۔ بیٹا آج آفس سے جلدی گھر آجانا۔ میرے میموگرام کی رپورٹ آگئی ہے۔ ڈاکٹر تو کہتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ میں اپنی تسلی کیلئے ایک بار یہ رپورٹ ڈاکٹر سہیل کو بھی دکھانی ہے۔ 30 سال سے وہ ہمارے فیملی فزیشن ہیں۔ وہ مطمئن ہوئے تو مجھے بھی تسلی ہو جائے گی۔۔ ایک تو بیڑہ غرق ہو دودھ والوں کا ۔۔بھینسوں کو ہارمونز کے ٹیکے لگا لگا کر عورتوں کی صحت تباہ کر دی ہے۔ مرغی کی خوراک کا بھی یہی حال ہے۔ اور قصابوں کی سن لو کھوتے کھلا رہے ہیں سب کو۔۔۔ اب بندہ دودھ نا پیے ۔ مرغی نہ  کھائے۔۔۔ اور پھر کھانے کو ملے بھی تو کھوتا ۔ اس ملک کا تو خانہ ہی خراب ہو گیا ہے۔

SHOPPING

رات ٹی وی پر ایک خبر کا سن کر تو دل کی دھڑکن ہی رک گئی۔ ساتویں کلاس کے بچے نے اپنی ٹیچر سے عشق کی ناکامی پر کلاس میں ہی اپنے سر میں گولی مار لی۔ میں نے جلدی جلدی جا کر الماری میں اپنی رائفلز کی گنتی پوری کی اور فیصلہ کیا کہ اس کو کسی اور جگہ شفٹ کر دوں۔ کیا زمانہ آ گیا ہے۔ 13 سال کا لڑکا۔۔۔۔ اف خدایا۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ کوئی تو جوان خواتین اساتذہ کو بتائے کہ ٹین ایجرز پر اس طرح کی کیفیت قدرتی عمل ہے۔ ٹیچر ہی عام طور پر  ٹین کا پہلا کرش ہوتیں/ ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں ٹیچرز کو کیا ایسا کرنا چاہیے تاکہ کل کوئی اور اپنی جان نہ  گنوا دے۔ اور مزید گھر اس عذاب سے بچ جائیں ۔ یا اللہ رحم۔۔۔۔ اس نئی نسل کو اب اور کتنے مشکل دور سے گزرنا ہو گا۔۔۔۔اپنے تین لڑکوں کا سوچتے سوچتے نا جانے کب صوفے پر ہی آنکھ لگ گئی۔۔۔”

SHOPPING

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *