جدلیات کا استعمال

جناب محمد فاروق علی صاحب کا کالم ’’رمضان المبارک کی جدلیات‘‘اور حسن رضا چنگیزی کی طنزیہ تحریر ’’ثواب دارین کی جدلیات اور ترقی پسندی کا نیا بیانیہ‘‘ پڑھنے کے بعد ان دونوں تحریروں سے متعلق اپنا نقطۂ نظر پیش کررہا ہوں جو بلا تعصب و بیجا طرفداری کے، میرے فہم و ادراک کی روشنی میں میرے محسوسات کا اظہار ہے۔

دوستو، کمیونسٹوں یا بائیں بازو کی جدوجہد کی تاریخ کو تمام موجودات کی عمومی خاصیت کی مانند ایک پروسیس میں دیکھنا ضروری ہے تاکہ مختلف ادوار کی ارتقائی منازل میں ان کی اصل ہیّت کو دیکھا اور سمجھا جاسکے۔ یہ بات اٹل ہے کہ بائیں بازو میں جو معیار و پختگی موجودہ دور میں ہے وہ تاریخ کے کسی حصے میں نظر نہیں آتی اور جو مسلسل روبہ تکامل بھی ہے۔ کمیونسٹوں کے مخالفین یا نقادوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو سوشلزم اور کمیونزم کے قریب سے بھی نہیں گزرے یعنی وہ اپنے ماحول سے متاثر پیدائشی طور پر لاعلمی میں سوشلزم و کمیونزم سے بیر رکھنے والے لوگ ہیں یا وہ نام نہاد مذہبی عناصر ہیں جنہیں ان کی بے خبری میں سرمایہ دار نے اس نئے اور منصوبہ بند معاشی نظام کے تعاقب میں چھوڑ دیا ہے۔ اینگلز نے جدلیات کی تعریف یوں کی ہے”یہ فطرت، انسانی معاشرے اور فکر کی حرکت اور ترقی کے عمومی اصولوں کی سائنس ہے”۔
فاروق صاحب کی تحریر میں مواد زیادہ تر اخلاقی ہیں اور جس طرح سے انہوں نے عوام سے اپیل اور انہیں نصیحت کرنے کی کوشش کی ہے یہ سب ان کی نیک خواہشات کی بنیاد پر ہے۔ اس میں جس طرح سے مذہبی اعمال کی انجام دہی کو سوشلزم کے ذریعے آسان بتایا گیا ہے یہ درست ہے مگر یہ ویسے ہی ہے جیسے مذہبی سکالر اپنی کتابوں یا ان کے کسی چیپٹر کو سائنسی ثابت کرنے کی کوشش میں اسے درست ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح سویت یونین کے انہدام کو بعض لوگ شعوری طور پر سوشلزم کا انہدام سمجھتے ہوئے اس سے تائب ہوگئے اور دیگر ذرائع کی تلاش میں بھٹکنے لگے ان کا انقلابی سوشلزم سے کوئی جوڑ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی اپنی نظریاتی ضعف کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان معذرت خواہوں کی فکری اور نظریاتی کمزوری کی بدولت بائیں بازو میں ایک بیجا پہلو بدلنے کا رحجان دیکھنے میں آیا۔ نتیجے کے طور پر بائیں بازو کے دوستوں نے نرمی نہیں بلکہ پسپائی اختیار کرکے اسے حکمت علمی کے طور پر اپنایا۔ جس کی مثال فاروق صاحب کی تحریر بھی ہے اور بھارت کے مغربی بنگال کی کمیونسٹ پارٹی کے کردار میں بھی نمایاں نظر آتی ہے جس نے انقلابی سوشلزم کے برعکس تدریجیت کے باطل نظریے کے تحت سرمایہ داری کو ناگزیر سمجھتے ہوئے ہندوستان”مغربی بنگال” میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے راہ ہموار کی اور باقائدہ انہیں دعوت دی کہ وہ وہاں سرمایہ کاری کریں۔

مگر حسن رضا چنگیزی کی تنقید و طنز سوشلزم سے ان کی غیر وابستگی اور محدود معلومات کی غمازی کرتا ہے۔ کیوں کہ چند افراد کی نظریاتی نا پختگی کو تمام کمیونسٹوں اور مارکسسٹوں پر لاگو کرنا درست عمل نہیں ہے اس لیے کہ نظریاتی کمزوری تمام مکاتب فکر کے عام ممبروں میں موجود ہے اور عام ممبروں کی ان کمزوریوں کو پورے نظریے پر منطبق کرنا انصاف نہیں ہے۔ عام ممبر کی اس کمزوری نے بہت سی پیچیدگیوں کو جنم دیا ہے اور بعض عناصر جان چھڑانے کی خاطر اسے پورے نظریے یا اسکول کی کمزوری کے عمومی اصول کے طور پر ظاہر کرکے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ عام ممبر کی پسپائی کو ان کی شخصی نظریاتی کمزوری کے برعکس پورے نظریے کو مورد تنقید قرار دیا جانا کم علمی اور سوشلزم کی اساس سے بے بہرہ ہونے کی علامت کو ظاہر کرتی ہے۔

مذاہب ہماری نفسیات اور کلچر کا حصہ ہیں جسے ویسے ہی جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے جیسا کہ وہ حقیقت میں ہیں۔ لہٰذا مذہب کو کلچر کا حصہ مانتے ہوئے اسے تبدیلی اور حرکت میں دیکھنے سے اس سے مخاصمت کم ہوگی اور یہ یقین بھی کہ حالات نفسیات کو توڑ دیتے ہیں اور کلچر تبدیل ہوکر قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔ مذاہب سائنس کے مخالف ہیں اور سائنس مذہب کا سلبی، جس کے آگے کسی بھی قسم کا خیالی طرز فکر ٹھہر نہیں سکتا۔ محدود معلومات کی بدولت سماج میں اکثر ایک گروہ کی ناکامی کو سوشلزم کی ناکامی قرار دیتے ہوئے قہقہہ لگایا جاتا ہے اور ظلم یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کا ذہن اور احساس مجروح ہوتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مکتبۂ فکر کے نئے طالبعلم کے بیانیے یا عمل کو اس اسکول کے مکمل علم کی تفسیر مان لینا ادراکی کمزوری کو ثابت کرتا ہے۔ کیونکہ کُل اپنے اجزاء کے مجموعے سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا پوری داستان کو سمجھے بغیر اس کے کسی ایک جزو کو پوری کہانی کا نچوڑ سمجھنا قطعی نادرست ہوگا۔

چنگیزی صاحب کی تحریر سوشلزم اور ترقی پسندوں سے ان کی ہمدردی، لگاؤ اور ان کی پسپائی پر خفگی کا اظہار بھی ہے اور سوشلزم پر ان کی کمزور گرفت اور عدم یقین بھی نظر آتا ہے جو مطالعے کی کمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ البتہ کامریڈ جام ساقی نے کبھی بھی سوشلزم کے نظریات پر عدم اطمینان کا اظہار نہیں کیا کیونکہ تقریباً سال دو سال قبل ایک محفل میں ان کی یہ بات کہ “کاش آج کے نوجوانوں کے جتنا ہم مارکسزم کو سمجھے ہوتے تو حالات مختلف ہوتے”،اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ کامریڈ جام ساقی سوشلزم سے کبھی منحرف یا مایوس نہیں ہوئے۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی جاتا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ سوشلزم اور کمیونزم کو آنجہانی قرار دے کر قہقہہ لگا کر کمیونسٹوں اور مارکسسٹوں کی تضحیک پر کمربستہ ہو جائیں۔ کوئی سائنسداں ایک عنصر کے کسی دوسرے عنصر میں تبدیلی کے لیے کبھی بھی زیادہ وقت لگنے کی شکایت نہیں کرتا اور نہ ہی بیقراری کا اظہار کرتا ہے کیوں کہ اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کتنا وقت لگے گا۔ لیکن معاشرتی تبدیلیوں کے لیے جتنا وقت درکار ہوتا ہے اس کی مقدار کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانا چونکہ مشکل ہوتا ہے اور عام انسان اکثر اپنی عمر کے ساتھ اسے منسوب کرکے نتائج کا خواہشمند اور منتظر رہتا ہے۔

ہم میں سے اکثر نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ ہماری تو عمر گزر گئی یہ سنتے سنتے کہ سوشلزم آئے گا لیکن ہم نے تو نہیں دیکھا۔ سوشلزم اور کمیونزم اٹل ہیں جسے نا تو ختم جاسکتا ہے اور نہ ہی روکا جاسکتا ہے۔ لہٰذا نہ تو اس پر ہماری بے صبری کا کچھ اثر ہوگا کہ ہم اسے غیر سائنسی طریقے استعمال کرکے مقبول عام بنانے کی کوشش کریں اور نہ ہی کسی نوسیکھیے کے انفرادی اور من چاہے عمل کو اس کا پیمانہ قرار دے کر کوئی رائے زنی کرنا درست ہے۔ کیا اب میرے یہ کہنے سے کہ” و آخرالدعوی نا ان الحمد للہ رب العالمین” کوئی اچھا اثر پڑے گا یا نہ کہنے سے کوئی بلا نازل ہوگی؟

علی رضا منگول
علی رضا منگول
بلاگر ایک ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین کے کوئٹہ کے لیے آرگنائزر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *