“پنشن ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا”

  “پنشن”

میرے کڑیل سپوت کی قیمت

چھ ستمبر کے خون کی قیمت

جو مجھے قسط وار ملتی ہے

صرف بتیس روپے چھ آنے

ڈھائی سالوں کے دودھ کی قیمت

بیس سالوں کی پرورش کے دام

صرف بتیس روپے چھ آنے

کتنا دل چاہتا تھا تجھے بیاہوں

اور اک موہنی سے دلہن لاؤں

سرخ کلیوں کے نرم بستر پر

اپنے پیاروں کو لا کے بٹھلاؤں

میرے دل کی رہی مرے دل میں

خون کی سیج پہ تو جا سویا

یہ “زمانہ” بھی تو دلہن ہی ہے

کیا اسے بھی طلاق دے ڈالی؟

تب ہی تو شہر سے ترے آقا

ہر مہینے کی چھ کو مہر اس کا

صرف بتیس روپے چھ آنے

تیری امّاں کو بھیج دیتے ہیں

لوگ کہتے ہیں تو شہید ہوا

پر میں کہتی ہوں “تو شہید نہیں”

تمغہ کوئی تجھے نہ مل پایا

نہ ترا نام خبروں میں آیا

تو ہے ان ان گنت جوانوں میں

جو محض لڑتے لڑتے مارے گئے

قوم کے نام پر سے وارے گئے

جن کی کوئی نہ یادگار بنی

کارنامے بھی جن کے “کرتب” ہیں

آخر کار تم سپاہی تھے

کام جن کا ہے لڑ کے مر جانا

اپنی مرتی جوانیوں کے عوض

بوڑھی ماؤں کے بوڑھے ہاتھوں پر

صرف بتیس روپے چھ آنے

ہر مہینے کی چھ کو دھر جانا

چھ ستمبر بہت سے آئیں گے

خوں کے آنسو مجھے رلائیں گے

تیرے آقا کے لاؤ لشکر میں

اور بیٹے لہو بہائیں گے

ان کی مائیں بھی ان کے بدلے میں

صرف بتیس روپے چھ آنے

لے کے کیا اب خموش بیٹھیں گی؟

( 1966 میں شرعی حق مہر 32 روپے 6 آنے ہوا کرتا تھا اور فوج کے ایک سپاہی کی پنشن بھی تقریبا” اتنی ہی ہوتی تھی۔ 6 ستمبر 1971 کو لکھی گئی نظم ۔ ۔ ۔ اپنی کتاب “انگلیوں میں دھوپ” سے ۔ ڈاکٹر مجاہد مرزا)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *