مقامی مسلم فیمینزم –عطیہ فیضی(4)-احمر نعمان

جناب جناح ذاتی زندگی میں سیکولر ہونے کے باوجود مذہب کے تزویاتی( اسٹریٹجک) استعمال کا سہارا لیتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں سیکولر پوزیشن لی، جو بےسود رہی۔ قرار داد مقاصد نے اس کا عملا ً خاتمہ ہی کر دیا۔ مذہبی جماعتیں جو قیام پاکستان کے ہی خلاف تھیں، قرار داد مقاصد کے بعد عملاً ریاستی ٹھیکے دار بن گئیں، خدا معلوم مودودی مرحوم نے یہ فقرہ کہا یا نہیں مگر یہ عین صادق رہا کہ ‘ریاست کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی، اس کی اطاعت اب فرض عین ہے’۔

ہمارے مُلا ملٹری الائنس نے ہر قسم کی ترقی پسندی کو مذہب اور ریاست پر حملہ گردانا۔ خواتین کی جدوجہد بھی مختلف نہ رہی۔ قرارداد مقاصد منظور کرنے والے جناب لیاقت علی خان کی اپنی بیگم، رعنا لیاقت علی خان کا بےنقاب چہرہ تضحیک کی علامت بنا دیا گیا۔ خیر قرارداد مقاصد پر کسی دن الگ سے گزارشات کا ارادہ ہے، فی الحال اپنے موضوع تک رہیں تو تقسیم سے قبل سروجنی نائِیڈو اور عطیہ فیضی دونوں کو ہی “بلبل ہند” کہا جاتا تھا۔ خطے کے ایک جانب کی بلبل ہند، سروجنی نائیڈو تقسیم کے بعد نیشنل کانگریس کی صدر منتخب ہوئیں، اور موجودہ اترپردیش کی پہلی خاتون گورنر بھی جو اپنی وفات تک اسی منصب پہ رہیں، جو بلبل ہند   ہمارے حصہ میں آئیں، ان کی کہانی الم ناک ہے۔

عطیہ ان شخصیات میں سے  تھیں جو بمبئی میں جناب جناح کی ہمسائیگی میں تھیں، ان کے والد صاحب، سلطنت عثمانیہ کے خلیفہ، عبدالحمید ثانی کے مشیر تھے۔ ۱۹۰۶ میں عطیہ کیمبرج سکالرشپ پر جا چکی تھیں، اور برصغیر کی ایسی پہلی مسلم خاتون تھیں، علاوہ ازیں بمبئی میں انکا آبائی گھر ‘ایوان رفعت’ شعرو نغمہ اور علمی محفلوں کا مرکز تھا۔ عطیہ کے شوہرسموئیل رحمین بے پایاں مصور تھے جو ایک دور میں برطانیہ کے شہنشاہ جارج پنجم کی ملکہ کے آرٹ ٹیوٹر بھی رہے تھے۔ انہوں نے عطیہ سے شادی کے لیے نا  صرف یہودیت سے اسلام قبول کیا بلکہ ان کی محبت ایسی تھی کہ انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے سموئیل فیضی رحمین کر لیا، شبلی نے اس پر شعر بھی کہا تھا؛
؂بتان ہند کافر کر لیا کرتے ہیں مسلم کو
عطیہ کی بدولت آج ایک کافر مسلمان ہو گیا

جناب جناح خود چھٹیاں گزارنے عطیہ کی بہن نازلی کے سسرال جایا کرتے، تقسیم کے بعد جناح بصد اصراریہ جوڑی کراچی لے آئے، نازلی کے شوہر بھی انتقال کر چکے تھے، وہ بھی ہمراہ رہیں۔
جناب جناح نے خود زمین الاٹ کرا کے دی جہاں انہوں نے اپنی قیام گاہ میں ایوان رفعت’ پھر سے قائم کی، ایک آرٹ گیلری، ساتھ لائبریری جس پر اس دور میں اس جوڑے نے ذاتی تیس لاکھ خرچ کیا، اور اسی عمارت کے تیسرے حصہ میں رہائش رکھی۔

مگر یہاں اب حالات مختلف تھے، آج بھی مذہبی انتہا پسند تو چھوڑئے کسی آج اور اس وقت کے لبرل کی وال پر عطیہ فیضی لکھ کر سرچ کریں تو ماسوائے اقبال کے خطوط کے عطیہ فیضی کا کوئی حوالہ نہیں ملے گا، یعنی ان کی واحد پہچان ایک “آبجیکٹ” یا وہ لڑکی جس پر شبلی نعمانی اور اقبال مرتے تھے اور بس، ان کی نہ تو علی گڑھ والی جدوجہد نظر آتی ہے، نہ ہی یہ کہیں بتایا جاتا ہے کہ شبلی کی سیرت النبی کے پیچھے بھی عطیہ اور ان کے گھرانے کا لگایا سرمایہ تھا جس کے بنا شبلی کبھی یہ کام انجام نہ دے پاتے۔ یا جہاں اقبال کے صاحبزادے نے ‘زندہ رود’ میں لکھا کہ اقبال اپنے مقالے کے حصوں پر ہر دوسرے روز ان سے رائے لیا کرتے تھے۔ تقسیم کے بعد ہمارے ایک جانے مانے، ماہر لسانیات، ادیب و شاعر، محقق اور پروفیسر صاحب کی کتاب ملتی ہے ‘ شبلی کی حیات معاشقہ‘ جو حلقہ ارباب ذوق کے کورذوقوں کے سامنے پڑھی بھی گئی۔ کتاب کی علمی حالت یہ تھی کہ مصنف جب آخری عمر میں ایک مذہبی جماعت سے وابستہ ہوئے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس کتاب کے نسخہ جات انہوں نے تلف کرائے۔ ہمارے ہاں عطیہ فیضی کی بس یہی شناخت رہی۔

جناح کی وفات کے بعد چند سال ہی یہ جوڑا اس گھر میں رہ پایا، اول تو انہیں میونسپل کارپوریشن سے نوٹس آ گیا، کہ یہ گھر جو جناح نے الاٹ کیا ہے یہ غیر قانونی ہے، پچاس کی دھائی میں یہ کارلٹن ہوٹل شفٹ ہوئے، جلد ہی وہاں کا بل استطاعت سے بڑھ گیا، بالاخر ایوان رفعت’ کو مسمار کر دیا گیا۔ عدالتوں کے دھکے کھاتے رہے، جیف جسٹس ایس اے رحمان سے مدد کی بھیک جوڑا مانگتا رہا، مگر اسلام کے قلعے میں کسی کو ایک مصور اورکسی سابقہ بلبل ہند سے کیا دلچسپی۔

کسمپرسی کی حالت میں یہ جوڑا دربدر کی ٹھوکریں کھاتاانجام ایک انتہائی گھٹیا ہوٹل میں رہنے پر مجبور ہوا، مانگ تانگ کر گزارا کرتے ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ مصور اور بلبل ہند کی وفات ہوئی۔
یہ ‘سنہرا دور’ عیوب خان کا تھا، جس دور میں مبینہ طور پر جناح کی ہمشیرہ کی پر اسرار موت بھی ہوئی تھی۔ خیر ماہر القادری نے شاید لکھا کہ لاکھوں کی مالک ایک وقت کی بلبل ہند کی یہ حالت تھی کہ پچاس روپیہ ادھار مانگتے ان کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد کی ہر کہانی کا انجام افسوس ناک ہی ملتا ہے، چاہے وہ مشرقی پاکستانی کی بہادر خواتین کا محکمے کی جانب سے عبرت کی مثال بنانا ہو یا ضیا کا دور جہالت۔ بلکہ عیوب خان کی طرح کے ایک انتہائی روشن دور میں مسلم دنیا کی پہلی وزیر اعظم محترمہ بینیظیر کو منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔ یہاں فیمینزم کے نصیب میں قسطوں میں وفات پانا ہی لکھا تھا ؛ “قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھیے۔” والی خمار بارہ بنکوی کی معروف غزل کا ایک اور شعر ہماری ایمانی روشنی کے بارے میں کچھ یوں ہے۔
جلتے دیوں میں جلتے گھروں جیسی ضو کہاں
سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھئے

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply