خوشی (1)-مرزا مدثر نواز

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ دنیا دار الآزمائش ہے اور پاکستانی عوام اپنی ابتداء سے ہی آزمائشوں کے حصار میں ہے۔ جس ملک میں انرجی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں بیرونی سرمایہ کار وہاں کا رخ نہیں کرتے‘ لہٰذا اس قوم کے لیے آزمائشوں کا دورانیہ کم ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ قوم اس نہج تک پہنچی کیسے؟ یہ ایک الگ بحث ہے‘ المیہ یہ ہے کہ اس ملک کے کرتا دھرتا اس کو دلدل سے نکالنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ جیسے حالات چل رہے ہیں‘ ا س ملک میں تو کب کی معاشی ایمرجنسی نافذ ہو جانی چاہیے تھی اور ملکی سلامتی کے اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے تھا کہ کیسے سرمایہ کاروں کو راغب کیا جائے‘ درآمدات کو کم اور برآمدات کو کیسے بڑھائیں‘ سستی انرجی کے جدید طریقوں سے کیسے استفادہ کیا جائے وغیرہ وغیرہ لیکن شاید ہم میں یہ صلاحیت ہی نہیں ہے یا ہم کرنا نہیں چاہتے۔ اپنے ملک کی یہ حالت دیکھ کر کسی دور میں بسوں میں لکھا یہ شعر یاد آنے لگتا ہے‘
؎ کرشمہ انجن نہ کمال ڈرائیور
چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے
بجلی و گیس کے بلوں اور ناقابلِ برداشت و خون نچوڑ مہنگائی نے اس مملکتِ خداداد پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو پریشان کر رکھا ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ خوشی و مسرت اس قوم سے فاصلے بڑھانے لگی ہے۔ ہر آدمی غمگین اور شکایت کرتا دکھائی دیتا ہے‘ کوئی بچوں کی نافرمانی کی‘ کوئی دوستوں کی بے وفائی کی‘ کوئی ناخوشگوار خاندانی زندگی کی‘ کوئی اخلاقی پستی کی اور کوئی معاشی مسائل کی۔ جس طرح ہمیں دوسروں سے شکوے ہیں‘ اسی طرح دوسروں کو بھی ہم سے شکایتیں ہو سکتی ہیں۔ جتنے گلے شکوے بڑھتے جاتے ہیں‘ ہماری زندگی میں خوشی کا عنصر کم ہوتا جاتا ہے‘ ہم کڑھتے رہتے ہیں‘ خود کو یا دوسروں کو الزام دیتے رہتے ہیں اور ایک لمحے کے لیے بھی غور نہیں کرتے کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہم سے زیادہ دور نہیں بلکہ ہمارے اردگرد ہی موجود ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے پانے کی کوشش کریں۔

زندگی ہمارے تصور سے کہیں زیادہ قلیل و مختصر ہے لہٰذا یہ مختصر دورانیہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے نفرتیں پالنے‘ شکوے و شکایتیں کرنے میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ جو دل کو بھائے‘ اس کی تعریف کریں اور جو ناگوار گزرے‘ اس کو برداشت کرتے ہوئے نظر انداز کر کے آگے گزر جائیں‘ ناگوار باتوں و رویوں کو ذہن میں جگہ ہر گز نہ دیں۔ ایسے معاملات جو بوجھ بننے لگیں‘ مناسب و احسن انداز اپناتے ہوئے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیں‘ جو جا رہا ہے اسے جانے دیں اور اللہ حافظ کہیں اور جو آ رہا ہے اسے سب کچھ بھول کر خوش آمدید کہیں‘ اپنی زندگی میں آسانیوں کو جگہ دینے کی کوشش کریں اور اپنے رب سے آسانیاں بانٹنے کی توفیق مانگیں۔
؎ تعارف روگ ہو جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلّق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

Advertisements
julia rana solicitors london

(جاری ہے)

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خوشی (1)-مرزا مدثر نواز

Leave a Reply