کے ایم سی کلب کا یادگار نشستی مشاعرہ

رات کو کے ایم سی سپورٹس کلب میں منعقدہ ٹیبل مشاعرہ میں شرکت کا موقع ملا جو کہ ہر ماہ کے ابتدائی اور انتہائی منگل کو ہوتا ہے مشاعرہ سے قبل شاعروں اور تخلیق کاروں کی درماندگی ومعاشی زبوں حالی اور اس کے تدارک کے لیے مختلف آراء بھی پیش کی گئی لیکن مجھے لگتا ہے یہ فقط آراء ہی تھی بس حقیقی اقدامات شاد ونادر ہی ہوتے ہیں
ادب وشعر کے حوالے سے مجھے لگا کہ شہر میں بنیادی طور پر دو الگ گروپ وجود رکھتے ہیں جن میں کا ایک اس مجلس میں شریک تھا دوسرا نہیں لیکن مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ مشاعرہ ، شہر کراچی کے کہنہ مشق ودگج ترین افراد فن وہنر پر مشتمل تھا.
ابتدا یار غار شاد مردانوی کے اشعار سے ہوئی اور آخر میں صدر مجلس (نام بھول گیا) نے کلام عطا کیا مشاعرہ کا اگر ہم کسی ایک فرد کو فاتح قرار دیں تو وہ نام ہوگا استاد غلام علی وفا صاحب کا جنہوں نے الفاظ کے ایسے نرت بھاؤ دکھائے کہ سامعین سمیت صدر مجلس ومہمان خصوصی کے سبھی عش عش کر اٹھے
ہر پختہ شاعر نے اپنے کلام میں کھلے ڈلے الفاظ میں یا پھر بین السطور اپنے غربت وافلاس کا ذکر کیا مجھے انتہائی افسوس ہے کہ اتنے بیش بہا اور خوبصورت گلدستہ کلام کو ریکارڈ نہ کرسکا
مشاعرے میں ایک بے بصر شاعر جناب تنویر صاحب تھے جو پرسوز ترنم میں اپنا کلام پیش کر ر ہے تھے تو ان کے روبرو ایک قریبا بے بصر طالب علم ارحم صدیقی نے بھی خوب مشق سخن میں اپنا حصہ ڈالا جبکہ ایک لنگ خوبرو نوجوان بھی اس مشاعرے میں شریک تھے
کسی بھی کلاکار کی بے بضاعتی وبے مایگی اس کی حالت زار سے بخوبی ہوجاتی ہے اس کے لیے کوئی جوہری ہتھیار بنانے والے اجزا کی تراکیب کا سمجھنا چندا ضروری نہیں اور آج کے اس کمرشل دور میں جہاں پیار بھی کمرشل زدگی کی زد میں ہے وہاں اگر “اوج ادب” تخلیق کاروں پر پانی کی طرح پیسہ بہا کر شعر وادب کو بھی کمرشلائز کررہی ہے تو میں اسے اچھا سمجھتا ہوں
اسلامی انسائیکلوپیڈیا کے مصنف جناب سعید الظفر صدیقی صاحب کے اس مختصر وعمیق اثر رکھنے والی نظم پر بات ختم کرنا چاہوں گا کہ
اس نے مجھ سے کہا کہ تم تو کیمیا گر ہو بتلاؤ
دنیا میں سب سے اچھی خوشبو کونسی خوشبو ہوتی ہے
میں نے کہا “روٹی” کی خوشبو
اس نے چلیں یہ مانا اس کے بعد
میں نے کہا گھر کی خوشبو
اس نے کہا مانا یہ بھی ایک سچ ہے اس کے بعد
میں نے کہا مٹی کی خوشبو
اس کے بعد پھر اس نے مجھ سے کچھ نہ کہا

Avatar
معراج دوحہ
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *